لاہور:ریل گاڑیوں سے سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کی جان اور مال سب اللہ تعالیٰ کے حوالے کیونکہ پاکستان ریلویز کی مسافر ریل گاڑیاں ہوں یا مال بردار، پہلے سے کھڑی ریل گاڑی سے ٹکرانے یا چلتی ریل گاڑیوں کا اچانک پٹڑیوں سے اتر کر حادثات کا شکار ہونا ایک معمول بن چکا ہے۔
حادثات کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام میں ریلوے انتظامیہ ناکام ہو چکی ہے۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی کی سخت ترین ہدایات اور وارننگ کے باوجود ریلوے افسران کے کان پر جوں تک نہ رینگی، مسافروں کی جان جاتی ہے تو جائے، کروڑوں اربوں روپے کا مال تباہ برباد ہوتا ہے تو ہو جائے، کسی بھی ریلوے افسر کو فرق نہیں پڑتا۔ نجی ٹی وی کو ملنے والی معلومات اور اعداد وشمار کے مطابق پاکستان ریلویز کی جانب سے نجی کمپنیوں کے اشتراک سے چلائی جانے والی ریل گاڑیوں کے حادثات میں کمی نہ آ سکی، حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ مسافر ٹرینوں کے ساتھ ساتھ مال بردار ٹرینوں کا پٹریوں سے اترنا معمول بن گیا ہے۔
ریل گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے حادثات سے مین لائن پر چلنے والی ٹرینوں کا شیڈول بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ کے پی کے سے لیکر سندھ تک چلنے والی درجنوں مسافر اور مال بردار ریل گاڑیوں کی روانگی میں کئی کئی گھنٹے تاخیر معمول بن چکی ہے۔مسافر ہزاروں روپے کی ٹکٹ لیکر ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں گھنٹوں سولی پر لٹکے رہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ حادثات کی وجہ سے اور کئی روز گزرنے کے بعد ٹرینوں کا شیڈول معمول پر آتا ہے جبکہ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی سخت ہدایات بھی کسی کام نہ آسکیں۔
ریلوے ذرائع کے مطابق یکم جنوری سے لے کر اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے پٹڑیوں سے اترنے اور پہلے سے کھڑی ریل گاڑیوں کے آپس میں ٹکرانے سمیت مختلف نوعیت کے 20 سے زائد حادثے رونما ہو چکے ہیں جن میں تین افراد جان بحق اور سیکڑوں مسافر زخمی ہوئے جبکہ حادثات کی وجہ سے پاکستان ریلوے کے انفرا اسٹرکچر کو بھی کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔
ٹرینوں کے پے درپے حادثات سے ریلوے کے سیفٹی مینٹنس نظام پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے اور ایک ماہ میں ٹرینوں کے کئی حادثے ہونے سے پریشانی کی لہر پیدا ہوتی جا رہی ہے۔وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ٹرینوں کے ہونے والے حادثات کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور ابتدائی رپورٹ میں ٹرین آپریشن سے متعلقہ ریلوے ملازمین کو حادثات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
ترجمان پاکستان ریلویز کا کہنا ہے کہ سفر کو محفوظ بنانے کے لیے سیفٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا بلکہ سیفٹی کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے نیا ڈائریکٹوریٹ بنا دیا گیا ہے جہاں قابل ترین افسران اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔

