ایران اب خود بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، نیتن یاہو کا اسلام آباد مذاکرات پر طنز

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں بڑی کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اب خود بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہے، جبکہ پاکستان میں ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔

بھارتی خبر رساں ادارے  کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری مہم میں اس کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو ’’کچل‘‘ دیا گیا ہے اور اب ایران شدید دباؤ میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم اب تک حاصل ہونے والی کامیابیاں تاریخی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایران نے اسرائیل کو مختلف محاذوں سے گھیرنے کی کوشش کی، جن میں غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، شام میں بشار الاسد کی حکومت، عراق میں ملیشیائیں اور یمن میں حوثی شامل ہیں۔

نیتن یاہو کے مطابق ایران خود اسرائیل کو ختم کرنا چاہتا تھا، لیکن اب صورتحال الٹ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’انہوں نے ہمیں مٹانے کی دھمکی دی تھی، اور اب وہ خود زندہ رہنے کے لیے لڑ رہے ہیں‘‘ یہ جنگ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی تھی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں مذاکرات ہوئے، جو اتوار کو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے تو منفی ہے، لیکن ایران کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیا اور لچک کا مظاہرہ کیا، تاہم ایران کی جانب سے اس بات کی واضح یقین دہانی حاصل نہیں ہو سکی کہ وہ مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہیں کرے گا، جو کہ امریکا کا بنیادی مطالبہ تھا۔

دوسری جانب تہران نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی وفد نے متعدد تجاویز پیش کیں، تاہم امریکی رویے اور “غیر معقول مطالبات” کے باعث بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔