امریکی عوام ، امریکی سیاست دان ،امریکی اسٹیبلشمنٹ، امریکی ارکان پارلیمان ،امریکی ماہرین معیشت سمیت ہر طبقہ موجودہ صدر کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دے رہا ہے ، یہ سب اس وقت کو کوس رہے ہیں جب انھوں کملا ہیرس کی بجائے اِس کملے کو ووٹ دیا اور اس کملے نے ان کی امیدوں کا خون کردیا ، کہنے والے کہہ رہے ہیں ،کملا ہیرس زنانی تھی شاید اس لییاسے پذیرائی نہیں ملی اور ہیلری کی طرح اسے بھی ناکامی کو گلے لگانا پڑا ، لیکن اگر اسے صدر بنا دیا جاتا تو بقول ان کے امریکا آج یوں ذلیل نہ ہو رہا ہوتا۔
امریکا نے نیک نامی تو خیر کبھی نہیں کمائی ، ہمیشہ بد نامی ہی گلے لگائی لیکن دنیا پر امریکی رعب داب تو رہا نا !! کم بخت کملے ٹرمپ نے تو امریکی رعب داب کی ہی ایسی تیسی پھیر دی ہے اور مزید پھیرے چلے جا رہا ہے ۔ اس کے کچھ دوستوں ، مہربانوں ،کرم فرماؤں نے اسے مشورہ دیا تھا کہ فتح کا اعلان کرو اور پتلی گلی سے نکل جاؤ۔ اور اس کے امکانات بھی پیدا ہو گئے تھے ، لیکن منحوس زمانہ نیتن یاہو کے ہاتھ پتا نہیں اس کملے کا ایسا کون سا راز لگا ہوا ہے کہ وہ اسے پھر گھسیٹ لایا ہے اور مسٹر ٹرمپ زیادہ پاگل پن کے ساتھ زیادہ ہذیان اگل رہے ہیں ۔ اب تو سینئیر سیاست دان یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس کملے کے خلاف فی الفور کارروائی کی جائے، اسے صدارت سے ہٹایا جائے ، ان کے خلاف امریکی بھرم ٹوٹ چکا ، در اصل امریکا کی اصل پالیسی تو ایران کے ساتھ ساز باز رکھنے اور اسے بغل بچہ بنا کر رکھنے کی تھی لیکن ٹرمپ نے سب الٹ پلٹ دیا ۔ اصل امریکی پالیسی کی ایسی تیسی پھیر دی ۔ اگر چہ بہ ظاہرامکانات نہیں لیکن یاد رہے، مسٹر ٹرمپ تیسری مدت کے لیے امریکی صدارت لینے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں ،یعنی کملے کا پروگرام کمبل بننے اور چمٹے رہنے کا ہے۔
٭٭٭
ایرانی وزیر خارجہ مسٹر عراقچی نے دو روز پہلے ”پاکستان زندہ باد”کا ٹویٹ کیا ، ساتھ ایک وڈیو بھی نشر کی کہ تہران میں پاکستانی پرچم اٹھائے ایرانی عوام پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔ پاکستانی اس ٹویٹ ، اس وڈیو اور مسٹر عراقچی کے ایک اور بیان پر بھی دل کھول کر داد دے رہے ، خوشی منارہے ہیں جس میں عراقچی نے پاکستا ن کی تعریف کی، مذاکرات کے لیے پاکستان کی ثالثی کو سراہا ، اپنے پاکستان نہ آنے کے تصور کو غلط قرار دیا ۔ کچھ اہل خبر کا کہنا ہے ایرانی حکومت تو پاکستان کے ساتھ شیر و شکر ہے ، اسے بڑی قدر بھی ہے ۔لیکن ان کے خیال میں مذاکرات کی ناکامی کی ایک وجہ اور ایک ذریعہ پاس داران انقلاب بھی ہیں، جو خطے میں جنگ کی آگ بڑھکانے میں پیش پیش رہنا چاہتے ہیں ، بے چاری ایرانی حکومت تو ان کے آگے پانی بھرتی ہے ۔ پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی در اصل طفل تسلیاں ہیں یا شاید پاسداران کے لیے حکومتی پیغام ہے ۔ جیسے امریکی صدر کو ان کے خیر خواہوں نے فتح کا نعرہ بلند کر کے جنگ بندی کے اعلان کا مشورہ دیا تھا، ایسا ہی مشورہ ایرانی خیر خواہوں نے بھی ایران کو دیا کہ جنگ جتنی پھیلے اور جتنا وقت لے گی خطے میں ہی نہیں پوری دنیا میں افرا تفری مچی رہے گی ۔ اور کچھ حلقے یہ توقع کر رہے تھے کہ ایرانی حکومت ایسا کردے گی لیکن پاسدارن نے اپنے عہد کا پاس تاحال رکھا ہوا ہے، اس عہد کے تحت” گریٹر ایران” کا نعرہ” مرگ بر امریکا ”کے جھنڈے تلے لگتا رہا۔
٭٭٭
متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے تین ارب ڈالر واپس مانگے ہیں جو بطور قرض اس نے دیے تھے اور واپسی کی مدت میں کم و بیش ایک ،ایک ، دو ،دو ماہ کر کے وقت بڑھاتا رہا ہے ۔ ادھر ایران اسرائیل و امریکا نے پھڈا شروع کیا ، اور اِدھر یو اے ای نے پاکستا ن سے پھیرتی آنکھوں کو مزید پھیر لیا ، کسی کے خیال میں یہ مود ی سرکار کی پڑھائی گئی پٹی ہے ،کسی کی رائے میں یہ اسرائیل کی کارستانی ہے چوں کہ یو اے ای اسرائیل کا ہم پیالا و ہم نوالا ہے بلکہ امریکی ابراہم کا رڈ پر سرِ تسلیم خم کرنے والا اور اسے بجا لانے والا پہلا خلیجی ملک ہے۔ اب جب کہ پاکستان ایران کا ساتھ دے رہا ہے تو یہ ساتھ یو اے ای کے ماتھے پر شکنیں گہری ہونے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ ایک یہ رائے بھی ہے کہ پاکستان سعودیہ کے بیچ جو معاہدہ ہوا اس معاہدے نے یو اے ای کو خفا کر دیا ہے، اس لیے کہ سعودیہ اور یو اے ای میں ان بن ہے ۔ ان بن خوب بن ٹھن کر گل کھلا رہی ہے ۔ اس گل کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ یو ای نے پہلے پاکستان کے ویزے بند یا محدود کیے ، اب ایک طرف پاکستانی حکومت سے ناراضی بھی ہے اور دوسری طرف ان پاکستانیوں کو مرحبا بھی کہہ رہا ہے جو اپنا سرمایہ یو اے ای میں لگا رہے ہیں۔ جب کئی لوگ اپنا سرمایہ نکالنے اور یو اے ای چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں تو کچھ دیوانوں کا سرمایہ لگانا یو اے ای کو بھا رہا ہے اور اس سرمایہ کاری کے بدلے پاکستانی حکومت اور پاکستان کو فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ امیروں ، سرمایہ داروں ، نوابوں کو فائدہ ہو رہا ہے جو پاکستان کو مشکل وقت سے بچانے کی بجائے مزید مشکل میں پھنسانے جا رہے ہیں اس لیے یو اے ای ان کی راہ میں دیدہ و دل فرش راہ کیے ہوئے ہے۔

