عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان ابتدائی معاہدے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔
معاہدے کے مطابق غیرسرکاری مسلح گروہوں کو غیرمسلح کیے جانے کی تصدیق کے بعد لبنانی مسلح افواج پورے لبنان میں اپنی عملداری بحال کریں گی، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوج مرحلہ وار لبنانی سرزمین سے انخلا کرے گی۔
معاہدے میں لبنان نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ملک کی سلامتی، دفاع اور جنگ یا امن سے متعلق فیصلوں کی واحد ذمہ داری لبنانی ریاست اور اس کے سکیورٹی اداروں پر ہوگی۔ معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کیا جاتا ہے ،تو اسرائیل کو جواب دینے کا حق حاصل ہوگا، جبکہ دونوں ممالک اس عزم کا اظہار کریں گے کہ وہ امن کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے۔
اس کے علاوہ دونوں فریق ایک جامع امن معاہدے کا مسودہ تیار کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس تشکیل دیں گے۔ دریں اثنا لبنانی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ طے پانے والے فریم ورک میں واضح طور پر مرحلہ وار ازسرِ نو تعیناتی کا ذکر ہے اور اس میں لبنان میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی کو تسلیم کرنے کی کوئی شق شامل نہیں۔
ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کا حالیہ بیان فریم ورک معاہدے کے مسودے سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ اس سے آگے جاتا ہے۔ لبنانی ذرائع نے مزید کہا کہ لبنانی فوج کی تعیناتی اسرائیل کی اجازت سے مشروط نہیں ہوگی، جبکہ آزمائشی علاقوں (پائلٹ زونز) کا قیام بھی دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے ہوگا، اسے صرف اسرائیل یکطرفہ طور پر طے نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان نے جمعہ کو ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے، جسے لبنانی محاذ پر جنگ بندی کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

