صحابہ کرام کے باہمی تنازعات کے بارے میں ائمہ اہل سنت کے ارشادات

تیسری قسط:
الغرض اہل السنة والجماعة کے عقیدہ کی رو سے جنگِ جمل کی ابتدا سے واقعہ تحکیم تک جو کچھ واقعات رونما ہوئے ان کی بنیاد اجتہاد پر تھی۔ اور اجتہادی مسئلہ میں اگر دو مجتہد مختلف رائے قائم کریں تو اپنے اپنے اجتہاد کی رو سے تو وہ دونوں حق پر ہوتے ہیں، لیکن نفس الامر میں ایک حق پر ہوتا ہے اور دوسرا خطا پر، لیکن یہ خطا بھی قابلِ ملامت نہیں ہوتی بلکہ اس پر اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتے ہیں۔ اس لیے صحابہ کرام میں سے اجتہادی مسائل میں خطا کر جانے والوں پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں، جیسے بعد کے چاروں امامانِ فقہ حضرت ابوحنیفہ، حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد بن حنبل اور حضرت امام مالک رحمہم اللہ میں بیسیوں مسائل میں اختلاف ہے، مگر چونکہ یہ اہلِ اجتہاد تھے اس لیے چاروں مذاہب کو اصولاً حق پر سمجھا جاتا ہے۔ ایک کو حسنِ ظن کی وجہ سے حق پر سمجھا جا کر اس کی پیروی کی جاتی ہے، دوسرے کو اس کے اجتہادی خطا پر ملامت نہیں کیا جاتا بلکہ مستحقِ اجر قرار دیا جاتا ہے۔

(٣) تاریخی روایات کی صحیح حیثیت
واقعاتی صورتحال یہ ہے کہ مشاجرات میں مابہ النزاع امور اجتہادی مسائل تھے، جن میں مجتہدین کا آپس میں اختلاف ہو گیا، اور اس اختلاف سے باغیوں کے گروہ نے سازشوں اور حیلوں کے ذریعہ پوری طرح فائدہ اٹھا کر صحابہ کرام کے دو مقدس گروہوں کو آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرا دیا۔ یہ وہی سبائی گروہ تھا جس نے حضرت عثمان کو شہید کرایا اور پھر حضرت علی کے لشکر میں گھل مل گئے، اپنی سازشوں سے اسلام کو کمزور کرنے اور باہم لڑانے کے سوا ان کا کوئی مقصد نہ تھا۔ البتہ ایک سوال یہ ہے کہ اس مسلک اور عقیدہ پر پختگی سے قائم رہنے کی صورت میں ان بے شمار تاریخی روایات کا کیا بنے گا جو اس عقیدہ کے بالکل الٹ ایک بالکل دوسرا ہی نقشہ پیش کرتی ہیں؟ اس کے جواب میں اب ہم ائمہ کرام کی عبارات پیش کرتے ہیں تاکہ تاریخی روایات کی صحیح حیثیت واضح ہو سکے۔

(١) حجة الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں کہ:
”پس ہمیں صحابہ کرام کے حق میں نیک گمان رکھنا چاہیے اور ان کے بارے میں برا گمان نہیں کرنا چاہیے۔ اور جو واقعات اس قسم کے تاریخوں میں نقل کیے گئے ہیں جن سے اس حسنِ ظن پر زد پڑتی ہے تو اس کا بیشتر حصہ تعصب اور عناد کی وجہ سے ان مخالفوں نے خودبخود گھڑا ہے، جس کی کوئی اصل نہیں۔ اور اگر کوئی واقعہ نقل کے لحاظ سے ثابت ہو جائے تو بھی اس کی تاویل کی جائے گی، اور ایسی کوئی خبر نہیں جس میں خطا اور سہو کا احتمال نہ ہو۔ اور صحابہ کرام کے افعال کو نیک عمل اور قصدِ خیر پر محمول کرنا چاہیے اگرچہ کسی ایک آدھ معاملہ میں وہ صواب پر نہ ہوں۔ اور حضرت عائشہ اور حضرت معاویہ سے حضرت علی کی جو جنگ مشہور ہے، اس میں حضرت عائشہ کے بارے میں تو یہ اعتقاد رکھنا چاہیے کہ وہ قاتلینِ عثمان کے بپا کیے ہوئے فتنہ کو بجھانا چاہتی تھیں لیکن معاملہ ان کے ضبط اور کنٹرول سے نکل گیا، اور حضرت معاویہ کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا چاہیے کہ وہ تاویل اور اجتہاد کی بنا پر حضرت علی سے اختلاف رکھتے تھے۔

اور اس کے سوا جو حکایتیں بیان کی جاتی ہیں ان میں صحیح اور باطل آپس میں خلط ملط ہو چکے ہیں۔ اور وہ روایات آپس میں بھی مختلف ہیں جن کا اکثر و بیشتر حصہ روافض، خوارج اور ان کے اربابِ فضول کی اختراع ہے جو ہر وقت من گھڑت اور جھوٹے قصے پھیلانے میں مصروف رہتے ہیں۔ پس مناسب بات یہ ہے کہ جب تک کوئی روایت اصولِ روایت و درایت کی روشنی میں صحیح ثابت نہ ہو جائے اس کی صحت کا صاف انکار کر دیا جائے۔ اور جو روایت اصول کی کسوٹی پر صحیح ثابت ہو جائے لیکن وہ بظاہر حسنِ ظن کے خلاف ہو تو اس کی تاویل و توجیہ کی جائے۔ اور اے مخاطب! اگر تو کسی روایت کی تاویل و توجیہ کرنے سے عاجز رہے اور تجھ کو کوئی راستہ تاویل و توجیہ کا نظر نہ آئے تو یہ کہہ دے کہ ہو سکتا ہے اس کی کوئی تاویل ہو جو میری سمجھ میں نہیں آ سکی۔ ” (الاقتصاد فی الاعتقاد للغزالی)

آپ نے دیکھا کہ امام غزالی کا تقویٰ اور احتیاط کہ اپنی سمجھ کا قصور مان لو مگر صحابہ کرام پر بدگمانی نہ ہو، کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا اللہ کے لیے کیا اور حق سمجھ کر کیا۔ (جاری ہے)