پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مزید کمی کی ضرورت

پاکستان کی معیشت ایک طویل عرصے سے مہنگائی، توانائی کے بحران اور عوامی مشکلات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان یقینا ایک خوش آئند قدم ہے جس نے عوام کو وقتی طور پر کچھ اطمینان ضرور بخشا ہے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت میں 74 روپے، ڈیزل میں 67 روپے اور مٹی کے تیل میں تقریباً 48 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جو بھی کمی آئے گی، اس کا فائدہ من و عن عوام تک پہنچایا جائے گا۔ بلاشبہ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جس پر عمل درآمد کی صورت میں حکومت عوام کے دلوں میں اپنی جگہ مزید مستحکم کر سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں محض ایندھن کی قیمتیں نہیں ہوتیں بلکہ ان کا براہ راست تعلق عام آدمی کی زندگی، معیشت، کاروبار، صنعت اور روزمرہ ضروریات سے ہوتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے، ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے تو اشیائے ضروریہ اور خورونوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور پھر مہنگائی کا ایک ایسا طوفان اٹھتا ہے جو غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دیتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے عوام نے مہنگائی کے ایسے بدترین دور کا سامنا کیا ہے جس میں قوتِ خرید بری طرح متاثر ہوئی، سفید پوش طبقہ مالی مشکلات کی دلدل میں دھنس گیا اور غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک امتحان بن گیا۔ اس پس منظر میں پٹرولیم نرخوں میں حالیہ کمی یقیناً ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کمی کافی ہے؟عالمی منڈی کے تازہ ترین رجحانات کا جائزہ لیا جائے تو خام تیل کی قیمتیں نہ صرف ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے بعد کم ہوئی ہیں بلکہ وہ ایران عراق جنگ سے قبل والی سطح سے بھی نیچے آ چکی ہیں۔ پاکستان میں جنگ سے پہلے پٹرول کی قیمت تقریباً 266 روپے فی لیٹر تھی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اب بھی تقریباً تیس روپے فی لیٹر مزید کمی کی گنجائش موجود ہے۔ عوام کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ حکومت عالمی منڈی میں کمی کا پورا فائدہ عوام تک منتقل کرے اور کسی اضافی لیوی یا ٹیکس کے ذریعے اس ریلیف کو محدود نہ کرے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی کوششوں میں پاکستان نے جو مثبت کردار ادا کیا، اس نے عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی سفارت کاری کو اس حوالے سے پذیرائی ملی ہے۔ اگر اس سفارتی کامیابی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے تو اس کے ثمرات براہ راست پاکستانی عوام تک پہنچنے چاہئیں۔ سفارت کاری کی اصل کامیابی یہی ہوتی ہے کہ اس کے اثرات عوام کی زندگی میں آسانیوں کی صورت میں نظر آئیں۔ یہاں ایک اور اہم پہلو بھی توجہ طلب ہے۔ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک ذمہ دار اور مؤثر ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کی اور دونوں ممالک کے درمیان معاہدے تک پہنچنے میں اپنی سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس کامیابی کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت اور کردار کی تعریف کی۔ ایسے میں یہ سوال بجا طور پر اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر پاکستان نے اس اہم سفارتی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تو پھر ایران کو جن ممالک کو تیل فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے، پاکستان اب تک ان ممالک کی فہرست میں کیوں شامل نہیں ہو سکا؟

اگر حکومت سنجیدہ سفارتی کوششیں کرے تو پاکستان کے لیے بھی یہ سہولت حاصل کرنا ناممکن نہیں۔ ہمسایہ ملک ایران سے رعایتی نرخوں پر تیل کی درآمد نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی، صنعتی لاگت میں کمی اور مہنگائی کے دباؤ میں خاطر خواہ کمی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اس سے عوام کو براہ راست ریلیف ملے گا اور ملکی معیشت کو بھی ایک مضبوط سہارا حاصل ہوگا۔

یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ غیر اعلانیہ طور پر ایرانی تیل کی اسمگلنگ برسوں سے جاری ہے اور بڑی مقدار میں ایرانی تیل مختلف راستوں سے پاکستان پہنچ رہا ہے۔ اس غیر قانونی کاروبار کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کے محصولات سے محروم ہونا پڑتا ہے جبکہ فائدہ صرف اسمگلنگ مافیا کو ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ایرانی تیل کسی نہ کسی شکل میں پاکستان پہنچ ہی رہا ہے تو پھر اسے قانونی، شفاف اور قومی مفاد کے مطابق کیوں نہ بنایا جائے؟ اور کیا یہ بھی ایک تلخ حقیقت نہیں کہ بعض اوقات اسمگلنگ مافیا کی طاقت اور اثر و رسوخ حکومتی رٹ پر سوالیہ نشان بن کر سامنے آتا ہے؟ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے، قومی مفاد کو مقدم رکھے اور ایسے فیصلے کرے جن سے معیشت بھی مستحکم ہو اور عوام کو بھی حقیقی ریلیف میسر آ سکے۔

محض پٹرول کی قیمت کم کر دینا کافی نہیں ہے۔ عوام اس وقت حقیقی ریلیف محسوس کریں گے جب ٹرانسپورٹ کے کرائے کم ہوں گے، سبزی، دال، آٹا، چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک عجیب روایت قائم ہو چکی ہے۔ پٹرول مہنگا ہو تو چند گھنٹوں میں کرایے بڑھ جاتے ہیں، لیکن پٹرول سستا ہونے کے باوجود کرایے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں۔ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور انتظامی غفلت عوام کو اس ریلیف سے محروم کر دیتی ہے جو حکومت دینا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو صرف قیمتوں میں کمی کے اعلانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کو متحرک کرکے اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ پٹرولیم مصنوعات میں کمی کا فائدہ عام آدمی تک منتقل ہو۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت ایک مثبت قدم ہے، مگر اس کا دائرہ پورے ملک تک وسیع ہونا چاہیے۔ یہ بھی یاد رہے کہ عوام کی مشکلات صرف پٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں ہیں۔ بجلی، گیس اور پانی کے بل آج بھی گھریلو بجٹ کا بڑا حصہ ہڑپ کر رہے ہیں۔ صنعتوں کے لیے توانائی کے مہنگے نرخ پیداواری لاگت بڑھا رہے ہیں جس کے اثرات بالآخر صارفین تک پہنچتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی مہنگائی میں کمی اور عوامی ریلیف کی خواہاں ہے تو اسے توانائی کے تمام شعبوں میں جامع اصلاحات اور نرخوں میں کمی کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ عوام اب محض اعلانات سے مطمئن نہیں ہوں گے بلکہ وہ عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔