عرفِ عام اور طبی اصطلاح میں جب تک رشتۂ جاں قائم ہے، سانس آجارہا ہے، انسان ذی حیات ہے، زندہ ہے اور اس پر زندوں کے احکام مرتب ہوتے ہیں اور جب رشتۂ جاں ختم ہوجائے، حرکتِ قلب بند ہوجائے تو اس پر موت کا اطلاق ہوتا ہے اور اُسے مردہ قرار دیا جاتا ہے اور اسی اعتبار سے شرعی احکام نافذ ہوتے ہیں۔ لیکن شہادت کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے حیات وموت کے ظاہری تصور اور طبی مفہوم کو ساقط کردیا ہے، ارشاد ہوا:(1) ”اور جواللہ کی راہ میں مارا جائے، اُسے مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے، (البقرة:154)”، (2)”اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کردیے گئے ہیں، انھیں مردہ گمان نہ کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں، انھیں رزق دیا جاتا ہے، (آل عمران:169)”۔ ان آیاتِ مبارکہ کی رو سے جو اللہ کی راہ میں یعنی اللہ کے دین کی حفاظت اور سربلندی کے لیے قتل کردیے گئے ہیں، وہ شرعی اصطلاح میں شہید ہیں۔ دنیاوی اعتبار سے ان پر مردہ انسان کے احکام جاری ہوتے ہیں، ان کا جنازہ پڑھا جاتا ہے، تدفین کی جاتی ہے، اُن کی بیوائیں عدتِ وفات گزارنے کے بعد کہیں بھی نکاح کے لیے آزاد ہوتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم فرمایا کہ انھیں نہ تو زبان سے مردہ کہو اور نہ اپنے حاشیۂ خیال میں انھیں مردہ گمان کرو، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور زندہ ہیں اورانھیں رزق دیا جاتا ہے، اگرچہ ہمیں ان کی زندگی کی حقیقت کا شعور نہیں ہے۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے اُحد کے بارے میں فرمایا: انھیں اُن کے خون آلودجسموں اورخون آلود کپڑوں میں لپیٹ دو(یعنی یہی اُن کا کفن ہوگا)، کیونکہ جو زخم اللہ کی راہ میں لگا ہو، قیامت کے دن اُس کی حالت یہ ہوگی کہ رنگ تو خون جیسا ہی ہوگا مگر خوشبو کستوری جیسی ہوگی، (سنن نسائی:2002)”۔ الغرض دنیا کی فانی زندگی رشتۂ حیات کے قائم رہنے کا نام ہے اور آخرت کی ابدی اور دائمی زندگی جان کو جاں آفریں کے سپرد کرنے کا نام ہے، علامہ اقبال نے کہا ہے:
از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی
تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں، پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی
شہید کو شہید اس لیے کہتے ہیں کہ اس کی ظاہری حالت اس کے جنتی ہونے کی شہادت دیتی ہے، فرشتے اس کی روح کے استقبال کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کو معراج عطا کرتے ہوئے فرمایا: ”اُس ذات کی قسم! جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، میری تمنا ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کیا جائوں، پھر زندہ کیا جائوں، پھر شہید کیا جائوں، پھر زندہ کیا جائوں، پھر شہید کیا جائوں، پھر زندہ کیا جائوں، پھر شہید کیا جائوں۔ (بخاری)” اس حدیث مبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ شہادت کی تمنا کی ہے، یہ تمنا درجۂ شہادت کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے کی ہے۔
کربلائے مُعلّٰی میں جب امامِ عالی مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اہلِ بیت اور اعوان وانصار سے کہا: ”یہ لوگ میرے خون کے پیاسے ہیں، جب مجھے شہید کردیں گے توانھیں باقی کسی کی پروا نہیں رہے گی، اس لیے تم میں سے جو چاہے، رات کی تاریکی میں نکل جائے، اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ”، تو مسلم بن عوسجہ اسدی اور سعید بن عبداللہ حنفی نے کہا: ”خدا کی قسم! ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، یہاں تک کہ اللہ دیکھ لے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیاب میں ان کے نواسے کی مقدور بھر حفاظت کی ہے۔ یہ تو ایک جان ہے، اللہ کی قسم! اگر مجھے ایک ہزار زندگیاں بھی مل جائیں اور میں ایک ایک کر کے ہرزندگی آپ کی حفاظت میں قربان کردوں اور اس کے ذریعے آپ اور آپ کے اہلِ بیت کی جانیں محفوظ ہوجائیں تویہ میرے لیے انتہائی پسندیدہ بات ہوگی۔ ” دوسرے حضرات نے بھی ایسے ہی جذبۂ ایثار کا اظہار کرتے ہوئے کہا:” اللہ کی قسم! ہم آپ کو تنہا چھوڑ کر نہیں جائیں گے، ہماری جانیں آپ پر قربان ہوجائیں، ہم اپنے سینے، اپنی پیشانیاں، اپنے ہاتھ اور اپنے جسم غرض اپنا سب کچھ آپ پر قربان کردیں گے، پس جب ہم شہید کردیے جائیں گے تو ہم پر جو آپ کا حق واجب ہے، ہم حقِ وفا ادا کرچکے ہوں گے۔ (البدایہ والنہایہ لابن کثیر الدمشقی، ج:11، ص: 530)” یہی شوقِ شہادت حرمتِ رسول کی پاسداری کے لیے اصحابِ رسول کا تھا۔
اہلِ عزیمت میںسے ایک عظیم مثال حضرت عبداللہ بن حُذافہ سہمی کی ہے: انہیں شام کے نصرانیوں نے قید کر کے قیصرِ روم کے دربار میں پیش کیا۔ قیصر نے کہا:”نصرانی مذہب قبول کرلو، میں انعام کے طور پر اپنی بیٹی تمہارے نکاح میں دوں گا اور اپنی بادشاہت میں تمہیں شریک کروں گا”۔ حضرت عبداللہ بن حُذافہ نے جواب دیا:”جو دولت وسلطنت تمہاری مِلک میں ہے اور اس کے علاوہ جو پورے عالَم عرب میں ہے، اگر یہ سب مجھے دے دی جائے، تب بھی میں ایک پلک جھپکنے کی مقدار دینِ محمد سے رجوع نہیں کروں گا”۔ قیصر نے کہا:” پھر میں تجھے قتل کر ڈالوں گا”۔ انہوں نے جواب دیا:”جو تمہارے جی میں آئے کرو”۔ قیصر نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ اِسے سولی پر لٹکائو اور اس کے ہاتھ پائوں کے قریب تیر اندازی کرو، اس دوران وہ انہیں عیسائیت کی دعوت دیتے رہے اور یہ مسلسل انکار کرتے رہے۔ پھرحضرت عبداللہ کو سولی سے اتارا گیا اور ایک دیگ میں تانبے کو پگھلا کر جوش دیا گیا، پھر مسلمان قیدیوں کو ایک ایک کر کے اُس میں ڈالا جاتارہا، اُن کا گوشت جل جاتا اور ہڈیوں کا ڈھانچا رہ جاتا۔ پھر انہیں دیگ میں پھینکنے کے لیے ایک چرخی میں رکھا گیاتو آپ رونے لگے، اس پر قیصر کو امید پیدا ہوئی کہ اب یہ موت کو آنکھوں کے سامنے دیکھ کر عیسائیت قبول کرلیں گے، سو اُس نے دعوت دی۔
حضرت عبداللہ بن حُذافہ نے کہا:”میں تو اس لیے رو رہا ہوں کہ یہ صرف ایک جان ہے، میری تمنا تو یہ تھی کہ میرے وجود کے ہر بال کے برابرمیری جانیں ہوتیں اورمیں ایک ایک کر کے انہیں اللہ کی راہ میں قربان کردیتا۔ ایک روایت میں ہے : انہیں جیل میں ڈال دیا گیا اور ایک عرصے تک کھانا پینا بند کردیا گیا، پھر قید سے نکال کر اُن کے سامنے شراب اور خنزیرکا گوشت رکھ دیاگیا، انہوں نے اِن چیزوں کو ہاتھ تک نہ لگایا۔ قیصر نے بلاکر پوچھا:تم نے اِن چیزوں سے اپنی جان بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟، انہوں نے جواب دیا:اگرچہ ہماری شریعت میں جان بچانے کے لیے اِن حرام چیزوں کو کھانے اور پینے کی اجازت ہے، لیکن میں ایسا کر کے تمہیں خوشی کا موقع نہیں دوں گا۔ قیصر نے کہا:میری پیشانی پر بوسہ دو، میں تمہیں آزاد کردوں گا۔ حضرت عبداللہ نے جواب دیا:میں اس شرط پر تمہاری پیشانی کو بوسہ دوں گاکہ تم میرے تمام ساتھی قیدیوں کو رہا کردو، قیصر نے کہا: یہ شرط منظور ہے، پھر حضرت عبداللہ نے اس کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اپنے تمام ساتھی قیدیوں کو رہا کراکے مدینہ طیبہ لے آئے۔ جب وہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب کے پاس پہنچے اور انہیں سارا ماجرا سنایا، تو حضرت عمر نے کہا:ہر مسلمان پر لازم ہے کہ عبداللہ بن حُذافہ کی پیشانی کو بوسہ دے اور میں اس کی ابتدا کرتا ہوں، وہ اٹھے اور اُن کی پیشانی کو بوسہ دیا، رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْاعَنْہ، (تفسیر ابن کثیر، ج:4، ص: 606)”، مرزامظہر جانِ جاناں نے کہا:
بناکردند خوش رسمے بخون وخاک غلطیدن
خدا رحمت کُند ایں عاشقان پاک طینت را
مفہوم: انھوں نے خاک وخون میں لوٹ پوٹ کرایک عظیم رسم کی بنیاد ڈالی ہے، اللہ تعالیٰ ایسے پاک طینت عاشقوں پر رحمتیں نازل فرمائے۔
فیض احمد فیض نے کہا تھا:
جس دھج سے کوئی مَقتَل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
لیکن راہِ حق میں شہادت کی جوہمہ جہت عدیم النظیر مثال امام عالی مقام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، آپ کے اہلِ بیت اطہار اورآپ کے اعوان وانصار نے قائم کی، دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور رہتی دنیا تک آپ کا نقش پائندہ وتابندہ رہے گا۔

