دورِ جدید اور دعوت کا میدان!

اکسیویں صدی کا انسان اتنا طاقتور اور بااختیار بن چکا ہے کہ ساری دنیا سمٹ کر اس کی مٹھی میں آ گئی ہے۔ آج کسی بھی انسان کا کردار مقامی نہیں رہا بلکہ عالمگیر بن چکا ہے۔ ابلاغیات کے وسیع تر مواقع نے ہر انسان کے لیے ابلاغ کے دروازے کھول دیے ہیں۔ خیر اور شر کی قوتیں میدان حیا ت میں نبرد آزما ہیں۔ ہزاروں سال قبل انسان جنگلوں اور ویرانوں میں بسیرا کرتے تھے، راہ چلتے کسی جگہ پانی کا کنواں نظر آیا تو وہیں پڑاؤ کر لیا۔ دو چار دن ادھر گزار کر آگے چل دیئے، جنگلوں سے شکار کرکے پیٹ کی آگ بجھاتے اور پہاڑوں کے چشموں سے سیراب ہوتے تھے۔ تب شہروں اور قصبوں کا وجو د نہیں تھا، خاندان اور قبیلہ پورا شہر ہوا کرتا تھا، قبیلے کا سردار حاکم باقی سب رعایا متصور تھی۔

رسم الخط کی ایجاد سے انسانوں نے شعور کی نئی دنیا میں قدم رکھا، یونانی، رومی اور بعد ازاں اسلامی تہذیب نے دنیا کو نئے علوم و فنون سے روشناس کرایا، انسان زمانہ جاہلیت سے نکل کر ایک نئے دور میں داخل ہوا، اسلامی تہذیب نے اس دور کو نئی پہچان دی، تسخیر کائنات کا مرحلہ شروع ہوا، نیچرل اور سوشل سائنسز کے میدان میں انقلاب برپا ہوا، تجرباتی سائنس نے اسی عہد کے گہوارے میں جنم لیا، قرون وسطیٰ کے دور میں جب باقی معلوم دنیا ظلم و جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی تب اسلام کے زیرنگیں خطے علم وفن کی روشنیوں سے منور اور تاباں تھے۔ بعد میں یہی روشنی مستعار لے کر یورپ آگے بڑھ گیا اور ہم پیچھے ہٹ گئے، صورتحال معکوس ہوگئی، ہم نے اندھیروں کو گلے لگالیا اور یورپ مادی علوم و فنون کی روشنی کا استعارہ بن گیا۔

یورپ قرون وسطیٰ میں اپنی پسماندگی کے سبب کسی فاتح کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا۔ مشرقی یورپ کے بارے میں تو کوئی سوچتا بھی نہیں تھا اور مغربی یورپ کے بارے میں دنیا بس اتنا جانتی تھی کہ وہاں ایک اجڈ اور وحشی قوم آباد ہے۔ پندرویں صدی تک دنیا کی معیشت میں یورپ کا حصہ پانچ فیصد بھی نہیں تھا اور اٹھارویں صدی تک دنیا کی اسی فیصد معیشت ایشیا پر منحصر تھی، اس میں بھی چین اور ہندوستان دنیا کی دو تہائی پیداور کے حامل ملک تھے۔ سولہویں صدی کے آغاز سے یورپ میں نئے چراغ جلنے شروع ہوئے، نشاة ثانیہ کی تحریک، اصلاح مذہب، انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب، کچھ ہی سالوں میں دنیا کیا سے کیا ہوگئی۔

امریکا اور آسٹریلیا کی دریافت، ہندوستان سے لوٹ مار اور دنیا کے مختلف خطوں میں نوآبادیات کا قیام، ان سارے ملکوں کی دولت لوٹ کر یورپ کے پاس خام مال کے ڈھیر لگ گئے، اس سے صنعتو ں کو فروغ حاصل ہوا، ملیںاور فیکٹریاں قائم ہوئیں، بھا پ کا انجن ایجاد ہوا اور انیسویں صدی میں انسانوں نے ایک نئی دنیا آباد کر دی۔ نیچرل اور سوشل سائنسز کے میدان میں نئی تھیوریز وضع ہوئیں، علوم وفنون کی نئی فیکلیٹیز وجود میں آئیں اور بیسیوں صدی کے آغاز میں انسانوں نے ہواؤں میں اڑنا شروع کردیا۔ بیسویں صدی کا آغاز ایک نئی ترنگ سے ہوا، قومی ریاستیں وجود میں آئیں اور ایٹم بم کی ایجاد نے انسانی تاریخ کو ایک نئے دور میں دھکیل دیا۔

انجن کی ایجاد سے ریل اور کار وجود میں آئی اور فاصلے سمٹ گئے۔ 1830ء میں دنیا کا پہلا تجاری ریلوے نظام برطانیہ میں شروع ہو ا، 1850ء تک یورپ میں پچیس ہزار میل ٹرین کی پٹڑی بچھ چکی تھی جبکہ باقی دنیا میں یہ صرف پچیس سو میل تھی۔ 1880ء تک یورپ میں دو لاکھ بیس ہزار میل تک ریل کا ٹریک بچھ چکا تھا جبکہ باقی دنیا میں یہ تعداد بائیس ہزار میل تھی۔ چین میں ریل کی پہلی پٹڑی 1876ء میں بچھائی گئی اور یہ بھی گوروں نے بچھائی تھی جو صرف پندرہ میل لمبی تھی۔ ایران جو برطانیہ سے رقبے میں سات گنا بڑا تھا وہاں1888ء میں پہلا ریل کا پہلا ٹریک بچھا جو تہران سے چھ میل دور کسی مذہبی زیارت گاہ کے لیے تھا اور اسے تعمیر کرنے اور چلانے کا ٹھیکا بلجیم کی کمپنی کے سپرد تھا۔ 1950ء تک ایران میں صرف پندرہ سو میل تک ریل کا ٹریک بچھا تھا۔ ہندوستان میں ریل کا پہلا ٹریک 1830ء میں بچھایا گیا اور اس کی ذمہ داری بھی گوروں کے سر تھی۔

سولہویں اور سترھویں صدی میں یورپ کا ایک اہم کارنامہ سمندری سفر تھا، اسی سفر کی بدولت امریکا دریافت ہوا، ہندوستان کے نئے راستے ڈھونڈے گئے، آسٹریلیا کو فتح کیا گیا اور ان تمام علاقوں سے خام مال کے ڈھیر دھڑا دھڑ یورپ منتقل کیے گئے۔ ہندوستان، افریقہ اور دوسرے مفتوح علاقوں میں ریل کا ٹریک بھچانے کا مقصد یہی تھا کہ ان علاقوں سے لوٹا ہوا خام مال برطانیہ پہنچایا جائے۔ ہمارے ہاں سی پیک کے نام پر پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کے نام سے جو روڈ بن رہا اس کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ چین اس راستے سے اپنی مصنوعات دنیا کی بڑی منڈیوں تک پہنچانا چاہتا ہے۔ ماضی میں یہ کام ملکوں اور علاقوں کو فتح کر کے کیا جاتا تھا لیکن چین یہی کام حکمت عملی سے بغیر جنگ چھیڑے کر رہا ہے۔

بیسویں صدی کا آخری نصف نقطہ عروج تھا، سائنس و ٹیکنالوجی کے انقلاب نے کرہ ارض کو یکسر تبدیل کر دیا، دنیا وہ نہیں رہی جیسی کبھی تھی، دسویں صدی کا کوئی انسان پندرویں صدی میں زندہ ہوتا تو کچھ زیادہ حیران نہ ہوتا لیکن پندرویں صدی کا انسان بیسویں صدی میں زندہ ہوتا تو شاید اسے یقین کرنا مشکل ہو جاتا، پہلا اور آخری لفظ اگر وہ بولتا تو شاید یہی کہتا ”یہ جنت ہے یا جہنم”۔ بیسویں صدی کے آخری نصف کا سب سے اہم کارنامہ انٹرنیٹ کی ایجاد تھا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انٹرنیٹ کی ایجاد سے اتنا بڑا انقلاب برپا ہو سکتا ہے، اس ایجاد نے دنیا کو ایک گاؤں میں بدل دیا، ہزاروں سال پہلے لوگ اپنے خاندان اور قبیلے کے حالات سے بھی واقف نہیں ہوتے تھے، ساتھ والے جنگل میں کون بس رہا ہے اور وہاں کے حالات کیسے ہیں کسی کو کچھ خبر نہیں ہوا کرتی تھی۔ قرون وسطیٰ اور بیسویں صدی کے آغاز تک انسان اپنے ہمسائے کے حالات سے بے خبر تھا، خط کے ذریعے حالات دریافت کرنے میں بھی مہینوں لگ جایا کرتے تھے۔ پھر انٹرنیٹ آیا اور دنیا ایک گاؤں بن گئی۔ آج ہم ایک گاؤں میں رہ رہے ہیں اور آج ہر فرد کا کردار مقامی نہیں عالمی بن چکا ہے، کیا اہل دین اور اہل دعوت اس گاؤں میں اپنا دعوتی کردار ادا کر رہے ہیں یہ اہم سوال ہے۔