جنگلات اور معیشت

تیزی سے بدلتے موسم، بڑھتی ماحولیاتی آلودگی، پانی کی قلت اور قدرتی آفات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ اگر جنگلات محفوظ نہیں تو انسانی زندگی بھی محفوظ نہیں۔ یہی احساس اس دن کی روح اور پیغام ہے۔ سال 2026ء کا عالمی سلوگن یا تھیم جنگلات اور معیشت ہے۔ یہ تھیم اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جنگلات صرف ماحول کی خوبصورتی یا آکسیجن کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ وہ عالمی اور مقامی معیشتوں کی مضبوط بنیاد بھی ہیں۔ جنگلات سے بہت سی صنعتیں جڑی ہوئی ہیں۔ جن میں لکڑی اور غیر لکڑی مصنوعات، جڑی بوٹیاں، شہد، پھل، کاغذ سازی، سیاحت اور ماحولیاتی خدمات کروڑوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں دیہی آبادی کی بڑی تعداد اپنی معاش کا انحصار جنگلات پر کرتی ہے۔ اس لیے جنگلات کا تحفظ دراصل معاشی استحکام کا تحفظ ہے۔ اگر جنگلات کے فوائد کی بات کی جائے تو یہ بے شمار ہیں۔ آئیے ان فوائد کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں۔

اگر ان کے ماحولیاتی فوائد کو دیکھیں تو آکسیجن کی فراہمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا جذب موسمیاتی توازن اور بارشوں کے نظام میں بہتری کے ساتھ ساتھ جنگلات زمین کے درجہ حرارت کو معتدل رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ کے خطرات میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ جہاں تک رواں سال کے سلوگن کی بات ہے تو ان جنگلات کے بہت سے معاشی فوائد انسان کو حاصل ہیں جن میں لکڑی، ایندھن اور کاغذی صنعت کے علاوہ جڑی بوٹیوں اور ان سے قدرتی ادویات کی تیاری معاشی فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ طب کے میدان میں بھی بہت فائدہ مند ہیں۔ ماحولیاتی سیاحت سے مقامی آبادی کے علاوہ ملکی سطح پر بھی معیشت کو سہارا ملتا ہے۔ جنگلات مٹی کے کٹاؤ کی روک تھام کرتے ہیں۔ یہ زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتے ہیں اور درجہ حرارت معتدل رکھنے کی وجہ سے پانی کے ذخائر کا تحفظ کرنے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جنگلات لاکھوں اقسام کے جانوروں اور پرندوں کا مسکن بھی ہوتے ہیں اوریہ حیاتیاتی تنوع کا تحفظ بھی کرتے ہیں۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ انسانی ترقی کے نام پر جنگلات تیزی سے ختم کیے جا رہے ہیں۔ درختوں کے جنگلات کی جگہ انسان نے کنکریٹ کے جنگلات تعمیر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی اور زرعی زمین کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کا پھیلاؤ جنگلات اور ان سے جڑے فوائد ہی کو ختم نہیں کر رہے بلکہ درجہ حرارت میں بھی نمایاں اضافے کا موجب بن رہے ہیں۔ صنعتی آلودگی، جنگلاتی آگ، لکڑی کا غیرقانونی کاروبار اورحد سے زیادہ لکڑی کی چرائی جیسے عوامل نہ صرف جنگلات کو ختم کررہے ہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی، گرمی کی شدت، خشک سالی اور سیلاب جیسے مسائل کو بھی بڑھا رہے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جنگلات قدرتی نظام کا مرکزی ستون ہیں۔ یہ زمین، فضا، پانی اور جانداروں کے درمیان ایک مربوط توازن قائم رکھتے ہیں۔ اگر یہ توازن بگڑ جائے تو موسم بے ترتیب ہو جاتے ہیں، زرعی نظام متاثر ہوتا ہے، آبی ذخائر خشک ہونے لگتے ہیں اور قدرتی آفات میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ یہ سب کچھ ہوتا ہوا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں۔ گویا جنگلات زمین کے ماحولیاتی نظام کی دھڑکن ہیں۔

جنگلات کی بقا میں ہماری بقا پوشیدہ ہے۔ ان کی بقا کے لیے ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انفرادی سطح پر ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہوں گے، کاغذ اور لکڑی کا محتاط استعمال اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو اپنانا ہوگا جبکہ اجتماعی سطح پر شجرکاری مہمات میں شرکت، جنگلات کے غیرقانونی کٹائی کی نشاندہی اور مقامی جنگلات کے تحفظ میں رضاکارانہ کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ حکومتی سطح پر سخت قانون سازی کر کے جنگلات کو تحفظ دینے کے علاوہ جنگلات کے رقبے میں اضافہ کرنا بہت ضروری ہے۔ اسکول کی سطح سے ہی ماحولیاتی تعلیم کو فروغ دینا ہو گا۔ سبز معیشت کا تصور جنگلات سے جڑا ہے۔ مستقبل کی نسلوں کے لیے جنگلات کی صورت میں قدرتی سرمایہ محفوظ رکھنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ بڑھتے درجہ حرارت، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور تباہ کن سیلاب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمیں جنگلات کے تحفظ کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ بڑے پیمانے پر شجرکاری، جنگلات کے رقبے میں اضافہ اور عوامی شعور کی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یاد رکھیے! جنگلات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں، یہ زندگی کا تسلسل ہیں۔ اگر ہم نے آج ان کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ درخت لگانا دراصل آنے والے کل کو محفوظ بنانا ہے۔