بلوچستان کے ضلع پنجگور میں دہشت گردوںنے حکومتی حمایت یافتہ افراد کے گھروں پر بیک وقت حملے کیے۔فائرنگ اور دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے۔ حملہ آوروں نے متعدد گھروں میں توڑ پھوڑ کے علاوہ کم از کم چھ گاڑیوں کو بھی آگ لگا کر تباہ کردیا۔
سیکورٹی فورسز نے بتایا کہ جوابی کارروائی میں چھ دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ادھر سوراب میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک پل کے نیچے تین سو کلوگرام سے زائد وزنی 8بم برآمد کرکے دہشت گردی کا بڑا ناکام بنادیا گیا۔ پنجگور پولیس کے ایک سینیئر افسر کے مطابق یہ حملے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پنجگور شہر کے مختلف علاقوں کلی گرمکان، خدابادان اور تسپ کے علاقوں میں کیے گئے جہاں درجنوں مسلح افراد نے ایک ہی وقت میں کئی گھروں کو بھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔
مقامی لوگوں کے مطابق فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں پوری رات وقفے وقفے سے سنائی دیتی رہیں جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔پولیس کے مطابق کلی گرمکان میں شاہد اور کلیم اللہ کے گھروں پر مسلح افراد نے دھاوا بولا۔ شاہد کے گھر پر کیے گئے حملے میں عامر نامی شخص جاں بحق جبکہ دو افراد صغیر اور غفار زخمی ہوئے۔ حملہ آوروں نے گھر میں توڑ پھوڑ کے بعد تین گاڑیوں کو آگ لگا کر جلادیا۔
کلیم اللہ کے گھر کو بھی شدید نقصان پہنچایا اور وہاں موجود تین گاڑیوں سمیت گھریلو سامان کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔کلی خدابادان میں فرحان، بہرام اور سعود کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ فرحان کے گھر میں داخل ہو کر حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔
جاں بحق ہونے والوں میں فرحان کا بھائی برہان اور تین محافظ شامل تھے جن کی شناخت مجاہد، عبدالعزیز اور امداد کے نام سے ہوئی۔ بہرام اور سعود کے گھروں پر بھی فائرنگ کی گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔پولیس کے مطابق یہ گھر حکومت کے حمایت یافتہ افراد کے تھے جن پر کالعدم بلوچ مسلح تنظیموں کی جانب سے پہلے بھی کئی بار حملے کیے جاچکے ہیں۔
حملوں کی اطلاع ملنے پر ایف سی اور دیگر سکیورٹی فورسز علاقے میں پہنچیں اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔ حکام کے مطابق کارروائی میں ڈرون کا استعمال بھی کیا گیا اور گرمکان اور پسکول ندی کے قریب جھڑپیں ہوئیں۔ ایف سی ذرائع کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں چھ حملہ آور مارے گئے جبکہ بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
ادھربلوچستان کے 10اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد اسلحہ کی نمائش پرمکمل پابندی عائد کر دی گئی،امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اہم فیصلہ کیا گیا۔ حالیہ واقعات اور شہریوں کی اموات کے بعد سخت اقدامات اٹھائے گئے،خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔

