موجودہ حالات اور کربلا کی مثال

آج کل رواج سا بن گیا ہے، ہر کوئی اپنی جذباتیت، غیر دانشمندی اور حکمت سے عاری فیصلوں کی ذمہ داری خود لینے اور اس کے دلائل دینے کے بجائے تاریخ کا سہارا لے رہا ہے۔ اور کچھ سمجھ نہیں آتا تو وہ کربلا کی مثال پیش کرتے ہیں۔ کربلا اسلامی تاریخ کا عظیم ترین سانحہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم نواسے اور آپۖ کی چہیتی صاحبزادی سیدة نساء اہل الجنتہ حضرت فاطمة الزہراء رضی اللہ عنہا کے فرزند کی جان کا جانا، آپ کے ساتھیوں، قریبی اعزہ، بیٹوں اور بھتیجوں کی قیمتی ترین جانوں کے جانے سے بڑا صدمہ اور دکھ اور کیا ہوگا۔

یہ مگر یاد رکھیں کہ حضرت حسین شہید نے بھی اتمام حجت کے طور پر جنگ ٹالنے کی ایک کوشش کی تھی۔ تاریخ ابن کثیر میں ہے، ابو عبید قاسم بن سلام کہتے ہیں ہمیں حجاج بن محمد نے ابو معشر سے اور انہوں نے بعض مشائخ سے بیان کیا ہے کہ عبیداللہ بن زیاد نے آپ (امام حسین رضی اللہ عنہ) سے قتال کے لیے عمر بن سعد کو بھیجا تو حضرت حسین نے اس سے فرمایا، اے عمر! میری طرف سے تین باتوں میں سے ایک بات کو قبول کر لو۔ یا تو مجھے چھوڑ دو کہ جیسا آیا ہوں ویسے لوٹ جاوں، یا پھر مجھے یزید کے پاس جانے دو ہم اپنا معاملہ خود طے کر لیں گے اور اگر ایسا بھی نہیں کرتے تو مجھے ترکوں کی طرف جانے دو تاکہ ان کے ساتھ جہاد کر کے شہادت حاصل کر سکوں۔

یہ نہایت عمدہ تجاویز تھیں، روایت کے مطابق عمر بن سعد نے اسے پسند کیا اور اسے ابن زیاد کے پاس بھیج دیا تاکہ وہ یزید کو بھیج سکے، وہاں پر بدبخت شمر ذی الجوشن کی مخالفت کی وجہ سے بدبخت زمانہ ابن زیاد نے ایسا نہ کیا اور وہ عظیم سانحہ ہوا، مسلم تاریخ میں جس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ گویا سیدنا حضرت حسین نے اتمام حجت کی کوشش کی، جب ظالموں نے ایسا نہ ہونے دیا، سب راستے بند کر دیے تو ایک شاندار، خاندانی، عظیم گھرانے کے فرزند کے طور پر آپ نے جرأت، دلیری، شجاعت اور عزیمت کی عظیم مثال قائم کی۔ جان قربان کر کے سربلند ہوگئے۔

تاریخ مگر یہ بھی بتاتی ہے کہ سیدنا حضرت حسین سے پہلے سیدنا حضرت حسن کا دور بھی گزرا۔ آپ سے بڑا دلیر، شجاع، بہادر اور صاحب عزیمت کون ہوگا؟ آپ نے مگر حضرت معاویہ سے صلح کی، حکمت سے کام لیا، اپنے حق سے دستبردار ہوئے اور جنگ کے فتنے کو ٹال دیا۔ سیدنا حسن نے دنیا کو ایک مثال قائم کر کے بتایا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ جناب امام حسین نے اپنے انداز میں ایک عظیم مثال قائم کی، مگر ایسا کرنے سے پہلے اتمام حجت کی کوشش کی، اس سانحے سے بچنے کی ایک آبرومندانہ کوشش کی، ظالموں نے اس کا موقع نہیں دیا تو حضرت حسین نے غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا اور سب کچھ قربان کر دیا۔

یہ بھی مگر یاد رہے کہ سانحہ کربلا کے بعد بھی ائمہ اہل بیت موجود رہے، کئی سو سال تک۔ (اہل تشیع کے نزدیک) چوتھے امام جناب امام زین العابدین سے لے کر گیارہویں امام جناب سیدنا حسن عسکری تک اور پھر (شیعہ عقیدے) کے مطابق امام زمانہ کی غیبوت صغری اور پھر غیبوت کبری میں چلے جانے تک۔

کربلا کا ائمہ اہل بیت سے بڑا وارث کون ہوسکتا ہے؟ کربلا کی لیگیسی سب سے زیادہ اور سب سے بجا اور سب سے انداز میں ائمہ اہل بیت نے آگے چلائی۔ تاریخ مگر یہ بتاتی ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بعد کسی بھی امام اہل بیت نے کربلا کے سانحے کو دہرانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ گریز کیا، حکمت اور دانش سے کام لیا۔ حالانکہ بنوامیہ میں یزید کے بعد اسے بھی کئی برے حکمران آئے، تاریخی روایات کے مطابق ولید بن عبدالملک کے دور میں تو بہت کچھ ایسا ہوا جو قابل اعتراض تھا۔ ولید کے بعض اشعار بھی بہت متنازع اور الحاد کو چھونے والے تھے، اس دور میں مسیحی شاعر اخطل کو دربار میں یوں عروج حاصل ہوا کہ وہ بدبخت یوں آتا کہ شراب اس کی ڈاڑھی سے ٹپک رہی ہوتی۔ درباری مگر دم بخود بیٹھے رہتے کہ اسے خلیفہ کا قرب حاصل تھا۔

بعد میں بنو عباس کے ادوار میں علویوں پر مظالم کی انتہا ہوگئی، اس کے باوجود کسی ایک بھی امام نے جنگ کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ بعض علوی نوجوانوں نے ان مظالم سے تنگ آکر علم بغاوت بلند کیا اور ائمہ اہل بہت سے حمایت اور سرپرستی کا تقاضا کیا تو انہوں نے اس سے گریز کیا ۔ حتی کہ جب امام سجاد کے صاحبزادے حضرت زید شہید نے جنگ کا راستہ چنا تب بھی جناب امام باقر نے اس سے گریز کیا۔ جب عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے دور میں اہل بیت کے ایک بڑے بزرگ حضرت نفس زکیہ نے خلیفہ کے خلاف تلوار اٹھائی اور زبردست معرکے ہوئے تب بھی جناب امام جعفر صادق اس میں شامل نہیں ہوئے۔ ظاہر ہے یہ حکمت کی بنا پر کیا گیا، آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے، اسلامی علوم کی حفاظت اور بڑے ٹکراؤ سے بچنے کی خاطر۔ ورنہ شجاعت، دلیری، بے خوفی اور دنیا سے دوری ان عظیم ائمہ کی شخصیت کا جز لازم تھا۔

ائمہ اہل بیت پر اللہ اپنا خاص کرم فرمائے۔ وہ عظیم ہستیاں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے سے، اعلیٰ ترین نسب سے، اعلی ترین اخلاق، پاکیزگی، تقوی اور بے مثال کردار والے۔ علم ان کے گھر کی چیز تھا، فراست ان پر ختم تھی۔ میرے ماں باپ اہل بیت پر قربان ہوں، میں میرے بچے، میرے اہل خانہ اہل بیت رضوان اللہ اجمعین پر قربان ہوں۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ مصائب اور مشکلات میں اور کڑے وقت میں کیسے سلیقے، حکمت اور دانش سے آگے بڑھنا ہے۔ جب طاقت پاس نہ ہو تو کس طریقے سے وقت گزارنا ہے اور سب کچھ ختم نہیں کرا دینا۔

اس لیے صاحبو !اہل بیت کی تاریخ میں صرف کربلا ہی نہیں ہے، کربلا کے بعد بھی کئی سو سال گزرے ہیں، ائمہ اطہار اہل بیت نے مشکل اور کڑے وقت میں نباہ کرنے کا طریقہ بتایا اور سکھلایا ہے۔

ویسے تو میری ناچیز رائے میں ہمیں اپنے آج کے معاملات میں آج کے حساب سے اپنے دلائل دینے چاہئیں، اسلامی تاریخ کے ان اولین ادوار کی پناہ نہیں ڈھونڈنی چاہیے۔ آپ جو کام کر رہے ہیں، کریں، اس کے حق میں دلائل ہیں تو دیں، نہیں ہیں تو تلاش کریں۔ ورنہ کمزور کیس ہے تو دفاع ہی نہ کریں۔ بہرحال کہنے کا مقصد یہ تھا کہ مشکل، کڑے ادوار اور سنگین بحرانوں میں عقل، حکمت اور دانشمندی سے کام لینا غلط نہیں، یہ غیرت کے منافی بھی نہیں۔ اسلامی تاریخ میں اس کی گنجائش، دلیل اور جواز موجود ہیں۔ حالات کے مطابق حکمت عملی بنانا غلط نہیں۔ عظیم ائمہ اطہار کی تاریخ بھی ہمیں یہ سکھاتی ہے۔

یہ گزارش صرف ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں نہیں بلکہ عمومی بھی ہے، ہمارے ہاں ہر جگہ پر یہی دلیل دے دی جاتی ہے جہاں کوئی ٹکراؤ سے بچنے کی کوشش کر رہا ہو، حکمت سے کام لے کر جنگ ٹال رہا ہو تو اس پر طنز کرتے ہوئے کربلا کی مثال دی جاتی ہے۔ کربلا عظیم سانحہ ہے، مگر کربلا کے وارثوں نے بھی بعد میں کوشش کی کہ ایسا ظلم عظیم دوبارہ نہ ہو اور جب مخالف اور ظالم بہت زیادہ طاقتور تھے تو حکمت، دانشمندی سے گریز کرتے ہوئے وقت گزارا۔

سیدنا حضرت حسین کی جانب سے یہ تین شرطوں والی بات اسلامی تاریخ کی سب مشہور، مستند کتب تاریخ طبری، تاریخ ابن خلدون، تاریخ ابن کثیر وغیرہ میں رقم ہے۔ اہل سنت مورخین اس پر متفق ہیں اور بہت سے شیعہ مورخین نے بھی اس کو بیان اور تسلیم کیا ہے۔ اگر کوئی اس کو تسلیم نہیں کرتا تو نہ کرے مگر اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ بعد کے ائمہ اہل بیت نے اسی حکمت عملی پر عمل کیا جس کا اس روایت میں ذکر ہے۔ کربلا کے بعد عظیم ائمہ اطہار کا طریقہ کیا رہا؟ کیا انہوں نے حکمت سے کام لیتے ہوئے نقصان عظیم سے بچنے کی کوشش نہیں کی؟ کیا وہ شجاعت، دلیری میں بے مثال نہیں تھے، مگر انہوں نے مشکل ترین وقت میں جب مخالف بے پناہ طاقتور تھا، جب مظالم کی انتہا ہوگئی تھی، تب بھی طریقے اور حکمت سے وقت گزارا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جناب امام جعفر صادق نے جناب نفس زکیہ کی جنگ میں شمولیت سے گریز کیا کیونکہ وہ اسے حکمت و بصیرت کے تقاضوں کے خلاف سمجھتے تھے۔