تہران/ مقبوضہ بیت المقدس/ واشنگٹن/بغداد/تل ابیب/مناما: مشرق وسطیٰ میں جنگ 25 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے،اسرائیل نے ٹرمپ کے حملے مؤخر کرنے کا فیصلہ نظرانداز کرتے ہوئے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا، جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکی اڈوں پر ملٹی وار ہیڈ میزائل داغ دیے۔
پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کے تحت حملوں کی نئی لہر کا آغاز کردیا، 78ویں لہر کے دوران خطے میں امریکی اہداف اور اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا، ایلات، دیمونا اور شمالی تل ابیب سمیت مختلف اہداف پر ملٹی وارہیڈ میزائل اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق ان کارروائیوں میں عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، اب تک پاسداران انقلاب کی زیادہ تر جنگی یونٹس اور بسیج فورسز کو مکمل طور پر میدان میں نہیں اتارا گیا، تاہم ضرورت پڑنے پر انہیں بھی شامل کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی فوج نے کہا کہ صدر ٹرمپ ٹیلیفون اورسوشل میڈیا سے اپنا سرہٹائیں اور اپنی آنکھوں کو آسمان، اسٹاک مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر مرکوز کریں، ایران بڑا سرپرائز دینے والا ہے۔پاسداران انقلاب کے ختم الانبیابریگیڈ کے ترجمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کا جملہ طنزاً دہرایا کہ ٹرمپ یو آر فائرڈ، تھینک یو فاراٹینشن ٹو دِس میٹر۔
قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم کا امریکی صدر سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد میڈیا پر پیغام میں کہنا تھا کہ ڈیل ہونے تک ایران اور حزب اللّٰہ پر حملے جاری رکھیں گے۔نیتن یاہو نے کہا کہ امریکا اور ایران امن بات چیت کرتے ہیں تو اسرائیل اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا، صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں جنگ کے تمام مقاصد معاہدے سے حاصل کیے جاسکتے ہیں، ایسا معاہدہ ہمارے مفادات کا تحفظ کرے گا۔
ادھراسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے ایران پر ایک بڑا فضائی حملہ کیا ہے جس میں ملک کے مختلف علاقوں میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا،پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلیجنس کے 2 ہیڈکوارٹرز اور ایرانی وزارتِ انٹیلیجنس کے ایک ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
مزید کہا گیا کہ ایرانی ہتھیاروں کے ذخائر اور فضائی دفاعی نظام کے مقامات پر بھی حملے کیے گئے، اس فضائی کارروائی میں شمالی اور وسطی ایران میں 50 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ ایرانی میزائل حملے میں بال بال بچ گئے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی صدر شمالی اسرائیل میں موجود تھے جب پہاڑی پر میزائل گرا، اسرائیلی صدر شمونہ کریات میں نیوز کانفرنس کررہے تھے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے مشرقی آذربائیجان میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا، حملوں میں 6 شہری جاں بحق،9 زخمی ہو گئے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب پر میزائل حملے میں ایک اسرائیلی خاتون ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے، ایرانی میزائل حملے میں تل ابیب میں متعدد عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
ایرانی ایمرجنسی سروس کے مطابق جنگ کے آغاز سے امریکا اور اسرائیل نے ایران کے 215 شہروں کو نشانہ بنایا، 83 ہزار سے زائد عمارتوں کو نقصان پہنچا، امریکی اسرائیلی حملوں میں اب تک 208 بچے جاں بحق ہو چکے،168 بچے میناب اسکول پر امریکی میزائل حملے میں جاں بحق ہوئے۔
شہید بچوں میں 13 کی عمر 5 سال سے بھی کم تھی، شہید ہونے والے بچوں میں سب سے کم عمر بچہ صرف 3 دن کا تھا، ایران بھر میں امریکی اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 1500 سے تجاوز کرگئی۔
امریکی فوج نے عراقی دارالحکومت بغداد میں قائم اپنے ایک فوجی اڈے سے انخلا کی تیاری شروع کردی۔ العربیہ ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فوج نے بغداد کے وکٹوریا فوجی اڈے سے انخلا کی تیاری کرلی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے اڈے میں موجود ہتھیاروں اور بھاری سامان کو تباہ کرنا شروع کردیا۔فارس نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے وسطی اصفہان میں ایک ہی سڑک پر واقع گیس کی ایک انتظامی عمارت اور گیس پریشر کم کرنے والے اسٹیشن پر حملہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق اس حملے سے ان تنصیبات کے کچھ حصوں کے ساتھ ساتھ قریبی گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے، مغربی ایران میں واقع خرم شہر پاور پلانٹ کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائن کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
کویتی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام اس وقت ان حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے جنہیں اْن کی جانب سے دشمن کے میزائل اور ڈرون حملے قرار دیا ہے۔کویتی انتظامیہ کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سوموار اور منگل کی درمیانی شب ہونے والا تیسرا حملہ ہے اور اس سے متعلق جاری کیا جانے والا یہ تیسرا اسی نوعیت کا بیان ہے۔
عراق کے دو سیکورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ موصل سے شمال مشرقی شام میں واقع امریکی بیس کی جانب میزائل داغے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے، امریکی فوجی اڈے کی جانب کم از کم سات میزائل داغے گئے۔
مغربی موصل کے علاقے ربیعہ میں میزائل لانچر برآمد کر لیا گیا اور شام کی جانب سات میزائل داغنے کے لیے استعمال ہونے والی ایک جلی ہوئی گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن کے آغاز سے اب تک امریکا 158 ایرانی جہاز تباہ کر چکا ہے۔
امریکی صدر نے ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس میں ایک تقریب کے دوران کہاکہ ہم نے ان کے دفاعی صنعتی کمپلیکس کو تباہ کر دیا ہے اور ہم ان کے بحری بیڑے کو ختم کرنے کے عمل میں ہیں، اب تک 158 جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے ڈرونز اور میزائل داغنے کی رفتار میں 90 فیصد سے زائد کمی آچکی ہے۔اسی دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ سینٹرز، میزائل داغنے کے مقامات، ڈرون فیکٹریوں اور اسلحہ ساز تنصیبات پر حملوں کا اعلان کیا ہے۔
امریکی میڈیا نے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ آپریشنز کی معاونت کے لیے 82 ویں ایئر بورن ڈویژن کے ایک جنگی بریگیڈ کی تعیناتی پر غور کیا جا رہا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں مزید بحری کمک بھیجنے کے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں۔
ایران نے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے 6اہم اسٹریٹجک شرائط پیش کر دی ہیں جنہیں ایک نئے قانونی اور سیکورٹی فریم ورک کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مختلف علاقائی ممالک اور ثالثوں نے ایران کو جنگ بندی کے حوالے سے تجاویز دی ہیں جس کے جواب میں ایران نے اپنی شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔
اہلکار کے مطابق سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی واضح اور قابلِ عمل ضمانت دی جائے۔دوسری شرط خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی بندش ہے جبکہ تیسری شرط میں جارح قوتوں کو پیچھے ہٹانے اور ایران کو جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔چوتھی شرط کے تحت ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام علاقائی محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
پانچویں شرط آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا قانونی نظام نافذ کرنا ہے جبکہ چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا سرگرمیوں کے خلاف قانونی کارروائی اور ان عناصر کو ملک بدر کرنا ہے۔رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ممالک یا ثالثوں کے ذریعے امریکا اور اسرائیل تک پہنچائی گئی ہیں تاہم ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سیکورٹی اور سیاسی حلقے ان شرائط کو سنجیدگی سے لینے پر زور دے رہے ہیں۔
ایک اور اہلکار کے مطابق ایران پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت تحمل کے ساتھ مرحلہ وار آگے بڑھ رہا ہے۔ ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب اسے فضائی برتری حاصل ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں فوری جنگ بندی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیںتاہم ایران اپنی شرائط کے مطابق کسی بھی ممکنہ حل کے لیے تیار ہے۔امریکا کی جانب سے مغربی عراق پر کیے گئے فضائی حملے میں الحشد الشعبی کے کمانڈر سمیت 10جنگجو جاں بحق ہوگئے۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے عراق کے صوبہ انبار میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ الحشد الشعبی کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کمانڈر سعد الباجی سمیت 10جنگجو جاں بحق جبکہ 30شدید زخمی ہوگئے۔ الحشد الشعبی کو پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو کہ اب عراق کی فوج کا باقاعدہ حصہ ہے لیکن اس میں کچھ ایران نواز گروپ بھی شامل ہیں۔
اس فضائی حملے کے بعد مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق یہ فضائی حملے اس وقت کیے گئے جب پاپولر موبلائزیشن فورسز کے اعلیٰ کمانڈرز کی میٹنگ جاری تھی۔
ادھرایران، اسرائیل اور امریکا جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں اب تک ہونے والے جانی نقصان کی ہوشربا تفصیلات سامنے آ گئیں۔الجزیرہ نے ایران، اسرائیل اور امریکا جنگ شروع ہونے سے 23مارچ تک جانی نقصانات کے اعداد وشمار سے متعلق ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ خطے میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 2638 ہو چکی جبکہ 26ہزار سے زائد زخمی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگ میں سب سے زیادہ اموات ایران میں ہوئیں، جہاں 1500افراد لقمہ اجل بن چکے جب کہ لبنان میں ہونے والے حملوں میں 1001 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
عراق میں 61، قطر میں 16، یو اے ای میں 8، کویت میں 6، فلسطین اور شام میں چار 4، عمان میں 3، سعودی عرب اور بحرین میں دو، دو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس کے علاوہ اسرائیل میں 18 افراد ہلاک ہوئے جب کہ ایران جنگ کے دوران اب تک 13 امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔
جنگ کے دوران اب تک خطے میں 26 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں اور سب سے زیادہ زخمی ایران میں ہیں جہاں حملوں کے دوران 18 ہزار 551 افراد زخمی ہوئے ہیں۔اس کے بعد سب سے زیادہ زخمیوں کی تعداد اسرائیل میں ہے جہاں ایران اور حزب اللہ کے حملوں میں 4697 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا مقصد توانائی کی عالمی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ خطے کے کچھ ممالک کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں اور مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں، تاہم ان تمام تجاویز اور درخواستوں کا رخ واشنگٹن کی جانب ہونا چاہیے۔
ایران کا موقف واضح ہے کہ وہ اس جنگ کو شروع کرنے والا فریق نہیں ہے۔ایک اور بیان میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دوست ممالک کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے جو ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی درخواست کر رہا ہے لیکن ایران نے اب تک اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران مذاکرات کے سلسلے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم رکھنا چاہتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کی ذمہ داری اپنے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر ڈال دی۔
امریکی ریاست ٹینیسی میں گزشتہ روز ایک گول میز اجلاس ہوا، جس میں ٹرمپ نے کہا کہ فوجی کارروائی کی حمایت سب سے پہلے پیٹ ہیگستھ نے کی تھی۔انہوں نے پیٹ ہیگستھ کی موجودگی میں کہا کہ میرا خیال ہے آپ ہی بتائیں کیونکہ آپ نے ہی جنگ کا کہا تھا، آپ انہیں (ایران) جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
بحرین نے آبنائے ہرمز میں طاقت کے استعمال کیلئے سلامتی کونسل سے منظوری لینے کی تجویز پیش کر دی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مسودہ قرارداد میں تمام ضروری اقدامات کی اجازت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
بحرین نے بحری اتحاد کے ذریعے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کی بھی تجویز پیش کی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس آبنائے ہرمز سے متعلق متبادل قرارداد تیار کرنے میں مصروف ہے۔
سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے مشرقی صوبے کی جانب آنے والے 30 ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا۔یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران سے متعلق جاری کشیدگی 25ویں روز میں داخل ہو چکی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق گزشتہ روز بھی دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جس دوران تین بیلسٹک میزائل داغے گئے۔دفاعی نظام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ باقی دو غیر آباد علاقوں میں گر گئے، جس سے کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اسی دوران مشرقی صوبے میں مزید 7 ڈرونز کو بھی مار گرایا گیا۔
صدر ٹرمپ کے حملے روکنے کے اعلان کے باوجود امریکی سینٹ کام کا حملے جاری رکھنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران پر 28فروری سے اب تک 9ہزار اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ایران پر حملوں میں 140بحری جہازوں کو تباہ کردیا گیا، طے شدہ اہداف کو انتہائی مہارت سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کوایران کے 5 بیلسٹک میزائلوں اور 17 ڈرون حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں اب تک 357 کروز میزائل داغے گئے ہیں۔ ابوظبی سے اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ 15 کروز میزائلز اور ایک ہزار 806 ڈرونز کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔
اماراتی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ حملوں میں اب تک 8 افراد شہید 161 زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیل کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 4,829 افراد زخمی ہو کر مختلف اسپتالوں میں لائے جا چکے ہیں۔
یہ اعداد و شمار جنگ کے انسانی اثرات کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔وزارتِ صحت کے مطابق زخمیوں میں سے اب بھی 111 افراد اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں سے 12 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ طبی عملہ مسلسل مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے میں مصروف ہے۔رپورٹس کے مطابق حالیہ جھڑپوں اور میزائل حملوں کے باعث زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایمرجنسی سروسز اور اسپتالوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

