ایران سے جنگ امریکا کو مہنگی پڑے گی!

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف چھیڑی گئی بلاجواز اور بلااشتعال جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے اور اب تک سامنے آنے والے حقائق اور شواہد اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ استعماری ذہنیت کے تحت کی جانے والی یہ مہم جوئی شاید غلط اندازوں،خوش فہمیوں اور ماضی کی طرح گمراہ کن معلومات کی بنا پر کی گئی ہے اور اب جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے،صہیونی لابی کے ایمایا دباؤ پر ایران پر جنگ مسلط کرنے والی ٹرمپ انتظامیہ کی کہہ مکرنیوں،تضاد بیانیاں اور فرسٹریشن میں بھی اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

بین الاقوامی عسکری تجزیہ نگاروں کے مطابق اگرچہ حربی ٹیکنالوجی ، ہتھیاروں اور پیشہ ورانہ مہارتوں میں امریکا اور اسرائیل کو ایران پر واضح برتری حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی و اسرائیلی طیارے بغیر کسی روک ٹوک کے دار الحکومت تہران سمیت کئی اہم ایرانی شہروں پر مسلسل بمباری کر رہے ہیں ،ایرانی بحریہ اور فضائیہ تباہی کے خطرے سے دوچار ہیں اور تازہ اطلاعات کے مطابق امریکا نے ایران پر وسیع تباہی پھیلانے والے بم برسانے کے لیے اپنا جدید ترین بون طیارہ بھی برطانیہ کے اڈے پر پہنچادیا ہے اور خدشہ یہ ہے کہ بدکردار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کوغزہ کی طرح کھنڈرات میں بدلنے کی خونخوار نیتن یاہو کی خواہش پوری کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا تاہم اس کے باوجود اس جنگ میں امریکا کی جیت کے امکانات موہوم ہیں اور بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکا مشرق وسطی کی دلدل میں بری طرح پھنسنے کے لیے تیار ہے۔ایک جانب ایران نے جنگ کو طول دینے اور جارح قوتوں کو تھکانے اور معاشی مار مارنے کے لیے اچھی خاصی منصوبہ بندی کر رکھی ہے تو دوسری جانب روس اور چین بھی غیر مرئی انداز میں اس جنگ میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔چنانچہ امریکی اخبارات رپورٹ کر رہے ہیں کہ کس طرح روسی سٹیلائٹ تاک تاک کر امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے میں ایران کی مدد کر رہے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی تحقیقاتی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ایران نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ہی خطے میں نصب کئی اہم امریکی دفاعی نظاموں کو نشانہ بنایا۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کے مطابق اردن میں نصب جدید امریکی تھاڈ میزائل ڈیفنس سسٹم کا ریڈار تباہ کر دیا گیا جبکہ متحدہ عرب امارات میں بھی دو مقامات پر اسی نظام کے ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج کے مطابق جنگ کے دوران اب تک 500 سے زاید میزائل اور 2000 سے زیادہ ڈرونز داغے جا چکے ہیں جن میں سے تقریبا 60 فیصد امریکی افواج جبکہ 40 فیصد اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی اس غیر معمولی کار کردگی کے پیچھے در اصل چینی ٹیکنالوجی اور روسی سٹیلائٹ اور انٹیلی جنس کا تعاون کارفرما ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکا اسرائیل کی محبت میں چین اور روس کے دام تزویر میں خود کو پھنساچکا ہے۔اس وقت کا منظر نامہ یہ ہے کہ مشرق وسطی قائم امریکی اڈوں میں تعینات فوجی اور سویلین اہلکار فرار ہورہے ہیں۔ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے اور ایران کے جوابی حملوں کے بعد مشرق وسطی سے لاکھوں امریکی شہریوں کا انخلا امریکا کے لیے نیا چیلنج بن گیا ہے۔

جنگ کے طول پکڑنے کی صورت میں امریکا کو معاشی میدان میں جتنا گھاٹا ہوسکتا ہے،امریکی ادارے اس پر بھی رپورٹیں دے رہے ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کے ابتدائی 100 گھنٹوں میں امریکا کو تقریبا 3.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جو اوسطا روزانہ 891 ملین ڈالر بنتا ہے۔ اگر یہ اخراجات اسی حساب سے جاری رہے تو چند ہفتوں میں امریکا کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے۔ علاوہ ازیں اس جنگ کی وجہ سے عرب ممالک کی اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ گئی ہے۔امریکی جریدے فنانشل ٹائمز کے مطابق بڑے خلیجی ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر امریکا سے اپنی سرمایہ کاری نکالنے پر غور کررہے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق جنگ سے خلیجی ملکوں کے بجٹ اور معیشتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ عرب ممالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کی خواہش پر ایران کے خلاف مہم جوئی پر ناراض ہیں جس نے ان ممالک کے امن اور سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔اس مہم جوئی نے ان ممالک کو یہ پیغام دیا ہے کہ وقت آنے پر امریکا ان کی مدد نہیں کرسکتا۔اب اگر یہ ممالک امریکا میں کھربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری سے پیچھے ہٹتے ہیں تو اس سے امریکی صدر ٹرمپ کا امریکی معیشت میں کئی ٹریلین ڈالرز لے کر آنے کا دعوی بھی ہوا میں تحلیل ہوجائے گا۔ اس بنا پر یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ مشرق وسطی میں ٹرمپ کی مہم جوئی جو اس سے صہیونی لابی کے اکسانے پر شروع کر رکھی ہے، امریکا کو مہنگی پڑنے والی ہے۔

جنگ کی آڑ میں عوام پر حکومت کا وار

مشرق وسطی میں جنگ کی صورت حال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھی ہیں اور پوری دنیا غیر متوازن ذہنیت کے حامل امریکی صدر ٹرمپ کے جنگی جنون کی قیمت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں بھگت رہی ہے۔حکومت پاکستان نے بھی اس صورت حال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں55روپے فی لٹر کا اضافہ کردیا ہے جو کہ پہلے سے غربت و افلاس کا شکار پاکستانی عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے۔عالمی صورت حال اور جنگی حالات سے تو ہر شخص واقف ہے لیکن یہاں عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ کیا حکومت پاکستان کے پاس ہنگامی حالات کے لیے اتنا بھی انتظام نہیں تھا کہ تیل کے نرخ بڑھانے کے لیے کم از کم پندرہ تاریخ کا انتظار کرلیا جاتا؟کیا حکومت ایک دن عالمی منڈی میں تیل خرید کر اگلے دن مارکیٹ میں فروخت کر تی ہے جو اس قدر ہنگامی بنیاد پر تیل کے نرخ بڑھادیے گئے ہیں؟ کیا دنیا کے دیگر ممالک نے بھی اسی رفتار اور شرح سے تیل کی قیمتیں بڑھائی ہیں؟اطلاعات کے مطابق حکومت نے جنگی حالات کی آڑ میں آئی ایم ایف کے دباؤ پر پٹرولیم لیوی مزید20 روپر بڑھادی ہے۔اس سے ملک میں مہنگائی کا جو طوفان آنا ہے،وہ محتاج بیان نہیں ہے۔حکومت کو اس طرح کے ظالمانہ فیصلوں کے نتائج و مضمرات کا بھی احساس و ادراک کرنا چاہیے۔