مدینہ طیبہ پر حملہ ناقابل معافی جرم ہے

پاکستان نے سعودی عرب کے مقدس اور تاریخی شہر مدینہ منورہ میں شہری بجلی تنصیب پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل اظہارِ یکجہتی کیا ہے ۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے ترسیل اسٹیشن پر حملہ کیا، مسجدنبی بجلی فراہمی کے سول نظام پر حملہ ناقابل قبول ہے، حملہ سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقدس مقامات اوروہاں موجود عازمین کی حفاظت اور احترام ہر حال میں لازم ہے، پاکستان ایسے حملے فوری اور غیر مشروط روکنے کا مطالبہ کرتا ہے، ایسے حملے خطے کی سلامتی اور امن کیلئے بڑا خطرہ ہیں ۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کی یکجہتی کی غیر متزلزل حمایت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری،علاقائی یکجہتی اور تقدس کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ، عوام کی حفاظت اور عازمین کے تحفظ کیلئے سعودی عرب کی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے، پاکستان خطہ میں امن کیلئے کوشاں رہا ہے اور یہ کوششیں جاری رکھے گا۔

یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے دنیا کے دو ارب مسلمانوں کی عقیدتوں کے مرجع و مرکز مدینہ طیبہ کو بجلی فراہم کرنے کے نظام پر میزائل حملہ انتہائی مذموم اور قابل نفرین حرکت اور ایک ناقابل معافی جرم ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس بزدلانہ فعل کے ذریعے حوثی ملیشیا نے پوری امت مسلمہ کے سامنے اپنی اصلیت واضح کردی ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالیہ دنوں حوثی ملیشیا کے ایک مذہبی رہنما کی جانب سے حرمین شریفین کو ہدف بنانے کی دھمکی محض ایک دھمکی نہیں تھی بلکہ یہ اس گروہ کے حرمین شریفین سے متعلق مذموم عزائم کا اظہار تھا۔اس سے اس تاثر کو بھی تقویت ملتی ہے کہ بدقسمتی سے اسلامی دنیا میں کئی ایسے مذہبی گروہ اور طبقات موجود ہیں جن کا اصل ایجنڈا عالم اسلام کے اجتماعی مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ اپنے مخصوص فرقہ وارانہ عزائم کی تکمیل ہے اور وہ اس مقصد کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔

مدینہ طیبہ پر میزائل حملے پر پوری اسلامی دنیا میں سخت غم و غصے کے جذبات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ خلیجی و اسلامی ممالک نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ میں شہری تنصیبات اور مسجدِ نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے گرڈ اسٹیشن کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق مذمت کرنے والوں میں قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، اردن، ترکیہ، عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر علاقائی و اسلامی ادارے بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے دینی حلقوں نے بھی مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پاکستان علماء کونسل اور انٹرنیشنل تعظیمِ حرمین شریفین کونسل کی اپیل پر ملک بھر میں حوثی باغیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ پر حملوں کے خلاف یوم مذمت منایا گیا ۔ اس موقع پر ملک کے طول و عرض میں علما و مشائخ، آئمہ مساجد اور خطبا نے جمعہ المبارک کے عظیم الشان اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ارضِ مقدس مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے امن و سلامتی کو تاراج کرنے کی ناپاک جرأت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملے کی خبر پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ مدینہ منورہ پر حملے کی خبر سے دل رنجیدہ اور زخمی ہے، مقدس شہر پر حملے کی جسارت سفاکیت کی انتہا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مدینہ منورہ پر حملہ عالم اسلام کے دلوں اور عقیدے پر حملہ ہے۔

حوثی ملیشیا کی جانب سے مدینہ منورہ کو دہشت گرد حملے کا نشانہ بنائے جانے کے بعد عالم اسلام کی نگاہیں سہ فریقی مکہ معاہدے میں شامل ممالک ،سعودی عرب ، پاکستان اور ترکیے پر لگی ہوئی ہیں اور مسلمانان عالم کی خواہش ہے کہ حرمین شریفین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے ہر گروہ کی سرکوبی کی جائے۔ اس سلسلے میںپاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ آئندہ ہفتے مکہ معاہدے کے تحت ہنگامی اجلاس ہوگا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوگا جو حرمین شریفین کیے لیے جان قربان کرنے کو تیار نہ ہو۔ان کے مطابق 6 سے زائد ممالک مکہ مکرمہ ڈیفنس پیکٹ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔یہ ایک خوش آیند منظرنامہ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہر قسم کے داخلی اور خارجی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی ممالک کا اتحاد وقت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔اسلامی ممالک کو ایک مضبوط اور مستحکم دفاعی اتحاد قائم کرکے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہیے کہ عالم اسلام اب اپنے دفاع و سلامتی اور اپنے مقدسات کے تحفظ کے لیے بیدار اور تیار ہے۔عالم اسلام کی واحد ایٹمی قات کے ناتے اس اتحاد کی قیادت پاکستان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہوگا۔

بے قابومہنگائی اورعوام کی مشکلات

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح 11.53 فیصد پرپہنچ گئی ہے جب کہ ملک میں ہفتہ واربنیادوں پر مہنگائی میں 0.21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ادارہ شماریات نے بتایا کہ ایک ہفتے میں 20 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، حالیہ ہفتے 10 اشیاء سستی اور 21 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ بے قابومہنگائی موجودہ دور کا ایک سنگین معاشی مسئلہ ہے جس نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ ہونے والے اضافے نے تو گویا اشیاء صرف کی قیمتوں کو پر لگادیے ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء ، مثلاً آٹا، چینی، گھی، دودھ اور سبزیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔مہنگائی کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔آمدنی میں اضافے کے بغیر اخراجات بڑھنے سے لوگوں کی قوتِ خرید کم ہوتی جا رہی ہے۔بجلی، گیس، پیٹرول اور کرایوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔بہت سے والدین اپنے بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔مہنگائی کے باعث غربت، بے روزگاری اور معاشرتی مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کرے۔روزگار کے مواقع بڑھانے اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔