ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس کانفرنس کے دوران بھارت کا جھوٹ بے نقاب کرتے ہوئے ایس ایس جی حوالدار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔ اس کے بارے میں بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے مقبوضہ کشمیر میں مارا گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 29 ستمبر کو بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن اسٹیج کیا گیا۔ بھارتی کور نے دعویٰ کیا کہ ایک دہشت گرد مارا گیا اور لشکر طیبہ کے دہشت گرد کی لاش بھی مل گئی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے اس فالس فلیگ ڈرامے کی 6 وجوہات ہیں۔ بھارت سمجھتا ہے کہ ہر مسئلے کو دہشت گردی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ بھارت اپنی دہشت گردی کو چھپانے کے لیے دوسروں پر الزام لگاتا ہے۔ بھارت ایسے ڈراموں سے اپنی دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی جنوبی ایشیا کا سب سے سنگین اور خطرناک تنازع ہے، جس نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران دونوں ممالک کو کئی جنگوں، سرحدی جھڑپوں اور مسلسل کشیدگی سے دوچار رکھا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات صرف سرحدی یا سیاسی نوعیت کے نہیں بلکہ ان کے اثرات پورے خطے کے امن، معیشت اور اربوں انسانوں کے مستقبل پر مرتب ہوتے ہیں۔ مئی 2025 کی جنگ کے بعد یہ حقیقت مزید واضح ہوچکی ہے کہ معمولی سی غلطی یا غلط اندازے کی بنیاد پر پورا خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف دھکیلا جاسکتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر بھارت کے ان دعوؤں پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے، جن میں پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں ایس ایس جی کے حوالدار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا، حالانکہ بھارتی فوج چند روز قبل دعویٰ کرچکی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں اپنے ایک آپریشن کے دوران اسی نام کے شخص کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس واقعے نے بھارتی بیانیے کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کیے اور یہ تاثر مضبوط ہوا کہ بغیر تصدیق کے کیے گئے دعوے خطے میں جنگ کی آگ کو بھڑکا سکتے ہیں۔
پاکستان کا موقف ابتدا ہی سے یہ رہا ہے کہ دہشت گردی جیسے حساس معاملات کو سیاسی مقاصد یا جنگی ماحول پیدا کرنے کیلیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ 2025 میں پہلگام واقعے کے فوراً بعد بھارت نے کسی آزادانہ تحقیقات یا ٹھوس شواہد کے بغیر پاکستان کو ذمہ دار قرار دے دیا۔ پاکستان نے نہ صرف ان الزامات کو مسترد کیا بلکہ غیر جانبدارانہ اور مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی، تاہم مودی سرکار نے اس راستے کو اختیار کرنے کی بجائے جارحانہ طرز عمل اپنایا۔ پاکستان نے موقف اپنایا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات سے حقائق سامنے آجائیں گے، مگر بھارت کے سر پر کچھ اور ہی بھوت سوار تھا۔ الغرض بھارت نے پاکستان کے مختلف مقامات پر حملے کیے اور انہیں دہشت گردوں کے مبینہ مراکز قرار دیا۔ پاکستان نے اس جارحیت کے جواب میں اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور واضح کیا کہ ملکی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے اس غیر متوقع، طوفانی اور غیر معمولی طاقتور ردعمل نے بھارت کو دن میں تارے دکھائی دیے اور وہ چند ہی گھنٹوں میں گھٹنوں پر آگیا۔ پاکستان اسے اچھی طرح سبق سکھانا چاہتا تھا، مگر اس کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی کم کرانے کی کوششیں تیز ہوئیں اور امریکی درخواست پر پاکستان نے بھارت کی جان بخشی۔ پاکستان کی اس شاندار اور تاریخی فتح نے مودی سرکار کے سرِ پرغرور کو بری طرح خاک آلود کیا اور اب تک وہ اس کی رسوائی کی چھاپ اپنے چہرے سے نہیں دھو سکا۔ اب ایک مرتبہ پھر ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں جس سے لگتا ہے بھارت پھر کسی مہم جوئی کے موڈ میں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس اسی تناظر میں اہم ہے۔ ترجمان پاک فوج نے مودی سرکار کی مبینہ مہم جوئی کی منصوبہ بندی بروقت بے نقاب کرکے پوری دنیا کو پیغام دے دیا ہے۔
بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر متنازع خطہ ہے، جہاں بھارتی فوج کشمیری مسلمانوں کی زندگی اجیرن کیے ہوئے ہے۔ پاکستان کا دیرینہ موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی جڑ ہے۔ بھارت کو سمجھ لینا چاہیے خطے کے حالات اس بات کے متحمل نہیں کہ ہر چند ماہ بعد کوئی نیا بحران جنم لے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ اگر خدانخواستہ کسی غلط فیصلے، غلط اندازے یا غیر ذمہ دارانہ اقدام کے نتیجے میں جنگ چھڑ گئی تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا جنوبی ایشیا اور عالمی امن اس سے متاثر ہوگا۔ اس جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوگا، بلکہ نقصان انسانیت کا ہوگا۔ بہتری اسی میں ہے دونوں ممالک اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے غربت و بے روزگاری کے خاتمے اور تعلیم، صحت، تجارت اور علاقائی روابط پر صرف کریں، اس سے جنوبی ایشیا دنیا کے خوشحال خطوں میں شامل ہوسکتا ہے۔
پاکستان بارہا اس بات کا اظہار کرچکا ہے کہ وہ خطے میں امن، باہمی احترام اور مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم پاکستان کی امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اگر کسی بھی مرحلے پر پاکستان کی خودمختاری یا سلامتی کو چیلنج کیا گیا تو اس کا جواب دینا پاکستان کے عوام اور پاکستان کی بہادر افواج بہت اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ ساری دنیا جانتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، غیر مصدقہ الزامات اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو جنگی ماحول پیدا کریں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جنوبی ایشیا کو مستقل کشیدگی کے دائرے سے نکالا جائے۔ اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، مگر ان کا حل طاقت کے استعمال، فالس فلیگ آپریشنز یا عسکری مہم جوئی میں نہیں بلکہ مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری میں ہے۔ جنگیں ماضی میں بھی مسائل حل نہیں کرسکیں اور مستقبل میں بھی نہیں کریں گی۔ اگر پاکستان اور بھارت اپنے عوام کے بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں تو انہیں تصادم کی بجائے مکالمے، تعاون اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ یہی خطے کے امن، ترقی اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔
