سلامتی کو درپیش متنوع چیلنج، دفاعی استعداد میں اضافہ اور سفارتی کوششیں

افواجِ پاکستان کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے محافظ اداروں نے بلوچستان میں شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کے لیے آپریشن شبان کے نام سے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیوں کا مربوط سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ نوے گھنٹوں میں اکہتر دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بعض قبائل نے بھی فوج کے شانہ بشانہ فتنۂ ہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف زبردست مزاحمت کی ہے جس میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ بلوچ قبائل کا فوج کے ہمراہ دہشت گردوں کے مقابلے پر اترنے کا مطلب ان گمراہ اور فسادی عناصر کی سماجی عدم قبولیت ہے۔ بلوچ عوام اگر آزاد بلوچستان کے نام پر دیے گئے فریب کو مسترد کر کے پاکستان کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو بھارت کی افغانستان کے راستے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی نصف کوششیں مکمل طورپر ناکام ہو جائیں گی۔ دوسری جانب خیبر پختون خوا اور قبائلی اضلاع میں بھی ایسے ہی جذبے کا اظہار ضروری ہے۔ حالیہ دنوں میں کوہاٹ، ہنگو اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے خودکش حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فتنۂ خوارج کو محدود تر ہی سہی لیکن مقامی سہولت کاروں کا تعاون حاصل ہے جس میں مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ سیاسی عناصر کی سرپرستی جیسے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ افغانستان اس وقت بھارت کے اتحادی ہی نہیں بلکہ اس کی پراکسی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاک، افغان طویل سرحد کے مختلف مقامات سے ملک میں دراندازی، سرحدی خلاف ورزی اور حملوں کی اطلاعات مل رہی ہیں جو اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ افغان رجیم پاکستان بزعمِ خود پاکستان کو بھاری نقصان پہنچانے کے درپے ہے تاہم ملک کی محافظ افواج نے مربوط حکمتِ عملی، ممکنہ احتیاط اور کفایت شعاری سے کام لیتے ہوئے ملک کے دفاع کا فریضہ سنبھال رکھا ہے اور حملہ آوروں کے عزائم خاک میں ملادیے ہیں۔

بلوچستان میں بھارتی فتنے کی ناکامی کے علاوہ صوبہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردوں کی پے درپے شکستوں کے بعد افغان رجیم کے عقل و خرد سے بیگانہ اور تعصب، انتقام اور انا کی آگ میں جلتے ہوئے حکام غالباً جنگ کو مزید پھیلانے اور طول دینے کا فیصلہ کر چکے ہیں لہٰذا دفاعی حکام کے مطابق ملک میں مزید خودکش حملوں کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومت کی نااہلی، غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی وجہ سے اس وقت دہشت گردی کے خلاف سیکورٹی فورسز کی دی جانے والی قربانیوں کو بھی اندیشے لاحق ہیں۔ امن و سلامتی سنگین خطرات کی زد میں ہے اور دہشت گردوں کی مقامی سہولت کاری کو مکمل طور پر ختم کرنے میں انتہائی دشواریوں کا سامنا ہے۔ ان حالات میں یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ بھارت کی افواج نے سرحدوں پر نقل و حرکت بڑھا دی ہے اور ایسی سرگرمیوں کی سن گن مل رہی ہے جو جنگ کے ممکنہ آغاز کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ ان تمام خبروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی سلامتی کو کسی ایک جانب نہیں بلکہ متعدد اطراف سے کثیرالجہتی چیلنجوں کا سامنا ہے جن کا مقابلہ کرنے کے لیے ہماری ریاست ایک طرف اپنی دفاعی استعداد کو مسلسل بڑھا رہی ہے تو دوسری جانب سیاسی اور سفارتی میدان میں بھی اس نے امن و سلامتی کے لیے کوششوں کو نظرانداز نہیں کیا ہے۔ جہاں تک دفاعی استعداد میں اضافے کا تعلق ہے تو یقینا یہ ایک قابلِ قدر اور تسلی بخش امر ہے کہ ہماری افواج ملکی دفاع اور سلامتی کے کسی بھی تقاضے کو نظر انداز نہیں کر رہی ہیں۔ بری، بحری اور فضائی شعبوں میں روزافزوں ترقی اور جدید ترین مہارتوں کے حصول کا سلسلہ جاری ہے جیسا کہ ڈرون ٹیکنالوجی میں مسلسل پیش رفت، مقامی ساختہ ڈرون کے باوجود ترکیہ اور امریکا سے درپیش تقاضوں کے مطابق نئے طیاروں کی درآمد، جے ایف تھنڈر کے یکے بعد دیگر ے نئے ماڈلوں کی فضائی بیڑے میں شمولیت اور چین سے اعلیٰ درجے کے جنگی جہازوں کا حصول جن کی موجودگی میں بھارتی فضائیہ کے حوصلے پل بھر میں پست ہو سکتے ہیں۔ بری فوج کو بھی جدید توپ خانے، ٹینکوں اور میزائلوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے، اسی سلسلے میں بحری افواج کو بھی جدید ترین وسائل مہیا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ گزشتہ روز ہی پاکستان کی بحری آبدوز ہنگور نے پہلی مرتبہ بحرِ عرب میں کروز میزائل سے درست نشانہ لگانے کا تجربہ کیا ہے۔ یہ مشق واضح کرتی ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی تیاروں کے سلسلے میں مکمل خبردار، مستعد اور چوکنا ہے اور دشمن کسی بھی سمت سے وار کرنے کی حماقت کرے گا تواسے منہ ہی کی کھانا پڑے گی۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر بھارت کو کڑے الفاظ میں تنبیہ کی ہے اور جتا دیا ہے کہ پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے سلسلے میں بھارت کے لیے کوئی رعایت روا نہیں رکھے گا، کم وبیش اسی سے ملتی جلتی بات نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے پاک، افغان کشیدگی کے متعلق کہی ہے۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق پاکستان مسائل کے سفارتی حل کا قائل ہے اور افغانستا ن کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے پاکستان کی یک نکاتی شرط ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان مخالف استعمال روک دیا جائے۔ پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ اس وقت افغانستان بھارت کی پراکسی بن کر ہم پر حملہ آور ہے اور جب تک وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ یا انھیں غیر مسلح اور پر امن راستہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کر دیتا، پاکستان نہ ہی اپنی سرحدیں کھولے گا اور نہ ہی وہ افغانستان کے ساتھ اپنے موجودہ برتاؤ میں تبدیلی لائے گا۔

افغانستان کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں پاکستان کا سیاسی اور سفارتی موقف حالات کے عین مطابق ہے۔ پاکستان یہ نہیں چاہتا کہ افغانستان بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان پر دہشت گردی کا عذاب بھی مسلط رکھے، اس کے عوام بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی نذر بھی ہوتے رہیں لیکن افغانوں کی تکریم، اعزاز اور مہمان نوازی کا سلسلہ بھی جاری رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پانی سر سے اونچا ہو چکا ہے اور طالبان قیادت کے ناعاقبت اندیش، احمقانہ اور منافقانہ کردار نے پاکستان ہی نہیں عالمِ اسلام کے بھی متعدد مفادات کو قدمو ں تلے روند کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے قابلِ اعتبار لوگ نہیں ہیں۔ بھارت اور افغانستان کے مشترکہ حملوں اور پراکسی وار کے جواب میں افواجِ پاکستان سیسہ پلائی دیوار کی مانند مستحکم ہیں۔ ملک کے عوام کی اکثریت اس جنگ کے خدو خال کو سمجھ چکی ہے اور وہ جانتی ہے کہ ان حالات میں دشمنوں کے ہاتھ میں کھلونا بننے کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ فوج اور عوام کے درمیان قائم اس مضبوط تعلق اور اتحاد کے نتائج ہیں کہ فتنہ و فساد کے پروردہ تخریب کاروں کے لشکر بتدریج ایک بڑی اور فیصلہ کن شکست کی جانب گامزن ہیں۔ دعا ہے کہ وطنِ عزیز میں امن کی بہاریں بہت جلد طلوع ہوں اور یہاں کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔