بلّھے شاہ پسنجر ٹرین کی بحالی

پاکستان ریلوے نے پندرہ سال بعد قصور پاکپتن سیکشن پر چلنے والی بلّھے شاہ پسنجر ٹرین کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جب سے بلھے شاہ پسنجر ٹرین کی بحالی کی خبر اور شیڈول سامنے آیا ہے قصور پاک پتن سیکشن کے درمیان آنے والے تمام شہروں اور دیہات کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ ٹرین مئی 2011ء میں معطل ہوئی تھی۔ پورے 15 سال بعد ٹرین کا دوبارہ اجرا خوش آئند ہے۔

لاہور اور پاکپتن کے درمیان کسی دَور میں پانچ اپ اور پانچ ڈاؤن کل ملا کر دس گاڑیاں چل کرتی تھیں۔ پھر 2008ء میں پیپلزپارٹی کو حکومت ملی تو ریلوے کی وزارت اتحادی جماعت اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور کو مل گئی۔ اس زمانے میں پاکستان ریلوے کو مالی بحران، خسارے اور انتظامی مسائل کا سامنا رہا جس پر میڈیا اور پارلیمنٹ میں کافی بحث ہوتی رہی۔ اسی دور میں لاہور پاکپتن سیکشن پر چلنے والی دس میں سے آٹھ ٹرینیں بند کر دی گئیں۔ بلّھے شاہ پسنجر ٹرین بھی ان میں سے ایک تھی۔اب اس ٹرین کی بحالی کا احسن فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر ٹرین کے ٹائم ٹیبل یا شیڈول پر نظر ڈالی جائے تو اس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔ یہ ٹرین روزانہ دوپہر 12 بجے پاکپتن سے روانہ ہو کر سہ پہر ساڑھے تین بجے قصور پہنچا کرے گی جبکہ وہاں سے واپس پاک پتن کے لیے دن 4 بج کر 15 منٹ پر روانہ ہو کر شام سات بج کر 50 منٹ پر پاک پتن پہنچ جایا کرے گی۔ پاک پتن میں یہ ٹرین سولہ گھنٹے بالکل فارغ کھڑی رہا کرے گی۔

پاک پتن سے دن بارہ بجے ٹرین کی روانگی اتنی زیادہ مفید ثابت نہیں ہوگی جتنی توقع کی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ زیادہ تر سفر کے لیے صبح سویرے نکلتے ہیں۔ اگر یہ ٹرین پہلے کی طرح پاک پتن سے لاہور، لاہور سے پاک پتن، پھر پاک پتن سے قصور اور قصور سے پاک پتن شٹل پھیرا لگائے تو نہ صرف روزانہ اس سیکشن کے ہزاروں مسافروں کو فائدہ ہو گا بلکہ ریلوے کی آمدنی میں بھی یہ ٹرین اچھا خاصا اضافہ کرے گی۔ اگر یہ ٹرین صبح 4 بجے پاک پتن سے روانہ ہو کر صبح 9 بجے لاہور پہنچے تو اس میں جتنے بھی کمپارٹمنٹ لگائے جائیں وہ سب بھر جایا کریں گے۔ مرکزی شہر ہونے کی وجہ سے روزانہ اس سیکشن پر لوگ بہت بڑی تعداد میں لاہور جاتے ہیں۔ لاہور سے انجن کی تبدیلی کے بعد 10 بجے یہ ٹرین روانہ ہو کر دن 3 بجے پاک پتن پہنچ سکتی ہے۔ اس کے بعد 45ـ3 پر پاک پتن سے روانہ ہو کر 15ـ7 بجے شام کو قصور اور قصور سے رات 8 بجے روانہ ہو کر رات 30ـ11 بجے پاک پتن پہنچے تو اس ایک ٹرین کا فائدہ دو ٹرینوں جتنا ہو گا۔ ٹرین کو دیے گئے شیڈول کے مطابق سولہ گھنٹے بیکار کھڑا رکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ اس سیکشن پر حویلی لکھا، بصیرپور، منڈی احمد آباد، کنگن پور، عثمان والا اور کھڈیاں خاص جیسے بڑے شہر واقع ہیں جہاں سے روزانہ سفر کرنے والے لوگوں کی تعداد بہت بڑی ہے۔ لوگوں کی اکثریت روڈ ٹرانسپورٹ پر ریل کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ سفر کا یہ ذریعہ محفوظ، سستا اور آرام دہ ہے۔

اس معاملے کا ایک تکنیکی پہلو بھی ہے۔ اگر ٹرین صرف قصور اور پاکپتن کے درمیان چلے گی تو ٹرین اور اس کا عملہ مرکز لاہور سے بالکل ہی کٹ جائے گا۔ ٹرین کے انجن کے لیے لاہور سے تیل کی سپلائی میں بھی مسئلہ بن جائے گا۔ ٹرین کا عملہ زیادہ تر لاہور میں مستقل قیام پذیر ہوتا ہے۔ ڈیوٹی کی تبدیلی کے وقت روزانہ عملے کو بائی روڈ لاہور سے قصور آنا جانا پڑے گا جبکہ پاک پتن میں سولہ گھنٹے تک بغیر کسی کام کے ٹرین کا عملہ آن ڈیوٹی رہا کرے گا۔ اس سیکشن پر ریلوے کا پورا انفرا اسٹرکچر موجود ہے۔ ہر ریلوے اسٹیشن پر عملہ بھی تعینات ہے۔ اگر بلھے شاہ پسنجر ٹرین میری تجویز کے مطابق لاہور تا پاکپتن چلائی جائے اور درمیان میں پاکپتن تا قصور یہ ٹرین ایک شٹل سروس مہیا کرے تو محکمہ ریلوے پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا لیکن اس کی افادیت اور ریلوے کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ اگر لاہور پاکپتن سیکشن کے منتخب عوامی نمائندے مل جُل کر کوشش کریں تو یہ کام ناممکن نہیں ہے۔

آخر میں مسافروں سے بھی گزارش ہے کہ 2011ء میں اس ٹرین کی بندش میں دیگر عوامل کے علاوہ کچھ ہماری غیر ذمہ داری کا بھی ہاتھ تھا۔ لوگ بغیر ٹکٹ سفر کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ایس ٹی ایز (اسپیشل ٹکٹ ایگزامینرز) یعنی ٹی ٹی صاحبان، پولیس والے یا گارڈ کو کم پیسے دے کر سفر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس عمل سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچتا تھا۔ ہمارے نمائندگان کے ذریعے اگر یہ سہولت حاصل ہونے جا رہی ہے تو خدارا اس کی قدر کیجیے گا۔ خود بھی ٹکٹ خریدیے گا اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیجیے گا۔