غزہ/بیروت/لندن: غزہ کی پٹی میں جاری سیز فائر کے مسلسل 146 ویں روز بھی قابض اسرائیل کی جانب سے معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رہیں جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں فائرنگ اور بمباری سے 3 فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے۔
شمالی غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی فوج نے فائرنگ کر کے ایک فلسطینی بچے کو شہید کر دیا۔ مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شمالی علاقے میں واقع بیت لاہیا پراجیکٹ میں 13 سالہ معصوم بچہ قابض فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوا۔
اس سے قبل شمال مشرقی محلے حی التفاح میں قابض اسرائیل کی گولہ باری سے ایک شہری شہید ہوا۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق حی التفاح میں مسجد المحطہ کے قریب قابض فوج کے ٹینکوں سے داغے گئے گولے کی زد میں آ کر ایک فلسطینی شہری زندگی کی بازی ہار گیا۔
اسی طرح مشرقی علاقے شجاعیہ میں قابض اسرائیل کی فورسز نے ایک اور شہری کو نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حی الشجاعیہ میں شارع صلاح الدین پر قابض اسرائیل کے ایک ڈرون طیارے نے شہری پر میزائل داغا جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گیا۔
گذشتہ 10 اکتوبر سے قابض اسرائیل کی افواج غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں میں فضائی و زمینی بمباری اور فائرنگ کے ذریعے مسلسل جنگ بندی کے معاہدے کی دھجیاں اڑا رہی ہیں۔
دریں اثناء مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں قابض اسرائیلی فوج اور انتہا پسند آباد کاروں کی جانب سے حملوں اور چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں ایک نوجوان زخمی ہوا، ایک بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بڑے پیمانے پر زرعی اراضی کو بلڈوز کر دیا گیا۔نابلس کے جنوب میں واقع قصبے بیتا میں قابض فوج کی فائرنگ سے ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق قابض فوج نے قصبے پر دھاوا بولا اور اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں نوجوان کے پاؤں میں گولی لگی۔
اسے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ قابض فوج نے متعدد گھروں کی تلاشی کے دوران سامان کی توڑ پھوڑ بھی کی۔شمالی وادی اردن میں خربہ مکحول کے مقام پر وحشی آباد کاروں نے احمد برہان بشارات نامی بچے کو اس وقت بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جب وہ اپنے خاندان کے مویشی چرا رہا تھا۔
قلقلیہ گورنری میں قابض فوج کئی فوجی گاڑیوں کے ساتھ مشرقی سمت سے داخل ہوئی اور شہر کی گلیوں، صوفین محلے اور بازار کے علاقے میں گشت کیا۔ اس دوران ایک موٹر سائیکل سوار کا پیچھا بھی کیا گیا۔بیت لحم کے جنوب میں واقع گاؤں جورہ الشمعہ میں قابض اسرائیلی فوج نے نسل کشی کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے زیتون کے درجنوں درخت اکھاڑ دیے۔
عید خاندان کی ملکیتی تین دونم زرعی زمین کو بلڈوزر کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔طولکرم شہر میں قابض فوج نے کفر اللبد قصبے پر دھاوا بولا اور فائرنگ کی۔ ساتھ ہی شمالی طولکرم کے قصبے قفین میں ایک شہری توفیق ہرشہ کے مکان پر زبردستی قبضہ کر کے اسے فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا۔
جنین میں قابض فوج نے سیلہ الحارثیہ سے سامر عبیدی نامی نوجوان کو اغوا کر لیا جبکہ البیرہ شہر میں الامعری کیمپ کے قریب سے بھی ایک اور نوجوان کو حراست میں لیا گیا ہے۔دوسری جانب لبنان کے مختلف علاقوں پر قابض اسرائیل کی فوج کی مسلسل اور سفاکانہ فضائی غارت گری کے نتیجے میں مزید 13 لبنانی شہری جاں بحق ہو گئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
یہ جانی نقصان جنوبی لبنان، بقاع اور دارالحکومت بیروت کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے والے حالیہ جارحانہ حملوں کے دوران ہوا۔لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق صوبہ بقاع کے قصبے نبی شیت میں قابض اسرائیل کی بمباری سے چار شہری شہید ہوئے جبکہ ملک کے جنوبی قصبے مجدل سلم میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے فضائی حملے میں مزید 9 افراد لقمہ اجل بن گئے جن میں زیادہ تر خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں۔
ان حملوں میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔لبنانی وزارت صحت نے صیدا شہر میں تین شہریوں، بیروت کے علاقے بئر حسن میں ایک شہری اور دارالحکومت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں قابض اسرائیل کی بمباری سے ایک اور شہری کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔
قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ پر دس سے زائد وحشیانہ فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں متعدد رہائشی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور شہری ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
ادھرفلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ برس 11 اکتوبر کو ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 640 ہو چکی ہے جبکہ 1,707 فلسطینی زخمی ہوئے اور 753 افراد کی میتیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے غزہ کی پٹی میں ادویات کے ذخائر انتہائی کم سطح تک گرنے اور طبی امداد کی رسائی میں رکاوٹوں کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجی جانے والی امداد پر عائد ناروا پابندیوں کے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔مشرقی بحیرہ روم کے خطے کے لیے ادارے کی ڈائریکٹر حنان بلخی نے وضاحت کی ہے کہ غزہ میں، پٹی ، سرنجوں جیسی بنیادی طبی اشیاء پہلے ہی ختم ہو چکی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کا طبی نظام تاحال شدید نزاکت اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔
علاوہ ازیںقابض اسرائیلی حکام نے مسجد اقصٰی کے خطیب شیخ عکرمہ صبری کو مقبوضہ بیت المقدس کے بدنام زمانہ المسکوبیہ عقوبت خانے میں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد رہا کر دیا حالانکہ ان کی طبیعت ناساز ہے اور وہ فلسطین میں ایک بلند پایہ مذہبی مقام اور اسلامی مرجعیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔
رہائی کے بعد شیخ عکرمہ صبری نے مسجد اقصٰی کو بند کرنے کے صہیونی فیصلے کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ مسجد میں نماز کی ادائیگی کو روکنا یا اسے بند کرنا مذہبی نقطہ نظر سے کسی صورت جائز نہیں ہے۔

