پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد حکومت نے مزید سخت فیصلوں کا عندیہ دیا ہے۔
نائب وزیراعظم اوروزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار‘وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی بھی اچھی تعداد ہے تاہم اگر یہ سلسلہ زیادہ چلا تو صورت حال تبدیل ہوسکتی ہے‘عالمی صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت مزید سخت فیصلے کرے گی۔
وزیراعظم چاہتے ہیں عوام پرکم ازکم بوجھ ڈالاجائے ‘ جیسے ہی معاملات بہتر ہوں گے اسی پھرتی کے ساتھ قیمتیں کم کریں گے‘ موجودہ صورتحال ختم ہونے کی کوئی تاریخ متعین نہیں‘کشیدگی میں کمی کیلئے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھی دوسرے ممالک سے رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی آرامکونے بھی ینبع پورٹ سے بڑے جہاز کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کو ہمارے سمندروں میں لا کر کھڑا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ خطے میں جنگ کی صورتحال ہے‘ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں‘ وزیراعظم اس متعلق بہت فکر مند ہیں، وزیراعظم نے جمعہ کو خود میٹنگ کی ہےجس میں صورتحال کاجائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہ کتنا اضافہ کرنا ہے، متوازن کرکے ہم نے کوئی راستہ نکالنا تھا‘ہم نے دیگر ملکوں کےوزرائے خارجہ سے رابطے کیے‘ پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ ساتھیوں کو ساتھ ملا کر کشیدگی کم کرائی جائے، اس کشیدگی کو کم کرنے میں کتنی دیر لگے گی دیکھنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل بھی دوسرے ممالک سے اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں‘پانچ روز گزر چکے ہیں روز جائزہ لیتے ہیں‘قیمتوں میں ہر روز خطیر اضافہ ہورہا ہے۔

