غزہ/لندن/تل ابیب :فلسطینی وزارت صحت نے غزہ کی پٹی پر جاری قابض اسرائیلی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں شہدا اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔
وزارت نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں 9 شہدا کے جسد خاکی اور 19 زخمیوں کو لایا گیا ہے جبکہ ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود متعدد متاثرین تک رسائی اب بھی ناممکن بنی ہوئی ہے۔
وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ ایمبولینس عملہ اور شہر ی دفاع کی ٹیمیں وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی اور مسلسل میدانی خطرات کے باعث کئی لاشوں کو نکالنے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں آگے بڑھنے پر اصل تعداد میں اضافے کا قوی امکان ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک شہدا کی کل تعداد 628 ہو چکی ہے جبکہ 1,686 زخمی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 735 افراد کو ملبے سے نکالا گیا ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نام نہاد سیز فائر کے اعلان کے باوجود انسانی المیہ اور اس کے اثرات بدستور جاری ہیں۔
وزارت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سات اکتوبر 2023ء سے شروع ہونے والی اس بدترین جارحیت کے آغاز سے اب تک شہدا کی مجموعی تعداد 72,095 ہو گئی ہے اور زخمیوں کی تعداد 171,784 تک پہنچ چکی ہے۔
یہ غزہ کی پٹی کی تاریخ کے خونی ترین معرکوں میں سے ایک ہے جس کے دوران غاصب دشمن کے دانستہ حملوں اور وسائل کی شدید قلت کے باعث صحت کے نظام کے مکمل طور پر بیٹھ جانے کے شدید خطرات منڈلا رہے ہیں۔
دوسری جانب پٹی کے مختلف علاقوں میں گولہ باری، فضائی حملوں، عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور فائرنگ کے واقعات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع محلہ زیتون کے مشرقی حصے میں غاصب اسرائیلی توپ خانے نے گولہ باری کی جبکہ اسی وقت خان یونس کے مشرق میں بڑے پیمانے پر عمارتوں کو دھماکے سے اڑانے کی کارروائی کی گئی اور جنوب میں رفح کے علاقے مواصی پر قابض فوج کی گاڑیوں سے فائرنگ کی گئی۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابقغزہ شہر کے مشرقی حصے میں غاصب اسرائیلی توپ خانے کی بمباری اور خان یونس کے مشرقی جانب شدید فائرنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔ادھرلبنان اورقابض اسرائیل کے درمیان طے پانے والے سیز فائر معاہدے کی ایک بار پھر خلاف ورزی کرتے ہوئے غاصب اسرائیلی افواج نے ہفتے کو جنوبی لبنان کے قصبوں پر فضائی حملے کیے۔
لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ غاصب اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے علاقے وادی برغر، قصبہ سجد اور بلاط مرجعیون کے مضافات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ جنوبی لبنان کے ہی قصبے السریری کے گرد و نواح میں بھی دو فضائی حملے کیے گئے۔
لبنانی چینل المیادین نے اطلاع دی ہے کہ قابض فوج کے طیاروں نے جنوبی لبنان میں اقلیم التفاح کی پہاڑیوں پر سلسلہ وار فضائی حملے کیے۔حزب اللہ کے لبنانی چینل المنار کے مطابق غاصب اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرونز نے قصبہ مرکبا میں تیسری بار دھماکا خیز مواد گرایا۔
دوسری جانب غاصب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنانی حزب اللہ کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔قابض فوج نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اس کی افواج جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے انفرااسٹرکچر کے خلاف فضائی حملے کر رہی ہیں۔
دریں اثناء اسرائیل کی سپریم کورٹ نے غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والی بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے خلاف حکومت کی پابندی کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے، یہ فیصلہ 37 امدادی تنظیموں کے خلاف اسرائیل کے اعلان کے بعد آیا تھا جنہیں نئی قواعد کی خلاف ورزی پر کام بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ نے عارضی طور پر حکم دیا ہے کہ تنظیمیں اپنے بیشتر کام جاری رکھ سکتی ہیں جب تک عدالت ان کی اپیل پر فیصلہ نہیں کرتی، ان تنظیموں میں ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز،آکسفام، ناروے ریفیوجی کونسل اور کیئر شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے دسمبر میں ان تنظیموں کو خبردار کیا تھا کہ ان کے اسرائیلی ورک رجسٹریشن کی میعاد ختم ہو چکی ہے اور انہیں اپنی فلسطینی اسٹاف کی ذاتی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی جسے تنظیمیں سیکورٹی اور انسانی حقوق کے لحاظ سے خطرناک سمجھتی ہیں۔
ادھر امدادی تنظیمیں اور مقامی ذرائع غزہ کی صورتِ حال کو ”تباہ کن” قرار دے رہے ہیں اور پابندی کے اثرات انسانی خدمات پر نمایاں نظر آ رہے ہیں۔
علاوہ ازیں غزہ کی پٹی میں وزارت داخلہ کے فوڈ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ نے ہفتے کے روز ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے احکامات کی خلاف ورزی کے الزام میں 29 تاجروں کو گرفتار اور 11 دکانیں اور تجارتی ادارے سیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ یہ کارروائیاں وزارت اقتصادیات کے تعاون سے مارکیٹوں کی نگرانی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے چلائی گئی مہم کے حصے کے طور پر کی گئی ہیں کیونکہ بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق شکایات موصول ہوئی تھیں۔
ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا کہ میدانی دوروں میں متعدد دکانیں اور تجارتی ادارے شامل تھے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی گئی ہے جن میں عارضی بندش اور متعدد تاجروں کو تحقیقات کے لیے جیل بھیجنا شامل ہے۔
فوڈ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تاجروں کی جانب سے منظور شدہ نرخوں کی پابندی کو یقینی بنانے اور ذخیرہ اندوزی کی کسی بھی کارروائی کو روکنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ آنے والے وقت میں نگرانی کی مہمات جاری رہیں گی۔
وزارت داخلہ اور قومی سیکورٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوڈ اسٹاف اور سامان کی قیمتوں میں ذخیرہ اندوزی، استحصال یا ہیرا پھیری کے کسی بھی کیس کی اطلاع مرکزی آپریشنز کے ٹال فری نمبر 109 پر کال کر کے دیں اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ شکایات پر فوری کارروائی کریں گے۔
ادھرحماس نے ایران پر شروع ہونے والی امریکا اور غاصب اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔حماس نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ یہ اسرائیلی امریکی جارحیت پورے خطے کو براہ راست نشانہ بنانے کے مترادف ہے اور یہ خطے کی سلامتی، استحکام اور خود مختاری پر حملہ ہے۔
حماس نے اس جارحیت کے مقابلے میں ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور عرب و مسلم امہ سے اپیل کی کہ وہ اس جارحیت اور اس کے ان مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لیے متحد ہو جائیں جن کا مقصد عرب و اسلامی سرزمینوں اور وہاں کے عوام کے مفادات کی قیمت پر غاصب دشمن کی خواہشات کے مطابق گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے خطے کا نقشہ دوبارہ ترتیب دینا ہے۔

