غزہ/ تل ابیب:گذشتہ دو برسوں سے غاصب اسرائیلی حکام کی جانب سے جاری منظم لوٹ مار کے ایک تازہ اقدام میں قابض ریاست کے انفورسمنٹ اور کلیکشن اتھارٹی نے فلسطینی ٹیکسوں کی آمدن سے 258 ملین شیکل ان صہیونی خاندانوں کو منتقل کر دیے ہیں جنہیں فلسطینیوں کی جانب سے کی جانے والی فدائی کارروائیوں میں مبینہ نقصان پہنچا تھا۔
یہ رقم ان عدالتی فیصلوں کے تحت ادا کی گئی ہے جو گذشتہ برسوں کے دوران فدائی کارروائیوں کے ذمہ داروں اور فلسطینی اتھارٹی کے خلاف ہرجانہ اور تعزیری جرمانے کے طور پر جاری کیے گئے تھے۔ اب یہ رقم 125 مختلف کیسز میں ان صہیونی خاندانوں کے نمائندوں کو منتقل کر دی گئی ہے۔
عبرانی چینل آئی 24 نے رپورٹ دی ہے کہ قابض حکام کے انفورسمنٹ سسٹم کی ذمہ داریوں میں ان مبالغ کی وصولی بھی شامل ہے جن کے عدالتی فیصلے اسرائیلی عدالتوں نے قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید فدائی کارروائی کرنے والوں کے خلاف جاری کیے تھے۔ ان میں وہ ہرجانے اور تعزیری معاوضے شامل ہیں جو ہلاک یا زخمی ہونے والے صہیونیوں کے لواحقین کے لیے مقرر کیے گئے تھے۔
ادھرفلسطینی وزارت صحت نے غزہ کی پٹی پر غاصب اسرائیلی جارحیت کے متاثرین کے حوالے سے یومیہ شماریاتی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں پہنچنے والے شہداء اور زخمیوں کی تعداد کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق ہسپتالوں میں 9 شہداء کا اندراج کیا گیا ہے، جن میں وہ 6 شہداء بھی شامل ہیں جن کے جسدِ خاکی ملبے کے نیچے سے نکالے گئے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ 4 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ گیارہ اکتوبر کو سیز فائر کے اعلان کے بعد سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 618 ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1,663 تک جا پہنچی ہے۔

