لالہ رفیق

ہمارے ہاں ”بڑے بھائی” کو عرف عام میں ”لالہ” کہا جاتا ہے مگر رفیق کو اس کے دادا کی عمر والے لوگ بھی ”لالہ رفیق” کہہ کر ہی بلاتے ہیں۔ ایں سعادت بزور بازو نیست۔ اس کی شخصیت ہی ہر دلعزیز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ہنسنے کی نہ صرف خود جرأت رکھتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی بڑی فراخدلی سے اس کا موقع فراہم کرتا ہے۔ وہ اپنی ”سیرت” کے علاوہ اپنی ”صورت” کے لحاظ سے بھی محلے میں ”ممتاز” حیثیت کا حامل ہے۔ ایک روز ہمیں کہنے لگا یار میں ہوں تو بہت ”خوبصورت” مگر پاکستان کے نہیں ”حبشہ” کے لوگوں کی نظر میں۔ جو لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں وہ مجھے ”حبشی” کہتے ہیں۔

اسی کی مزید تفہیم کیلئے ہم آپ کو ایک واقعہ بھی سنائے دیتے ہیں۔ اسے شاید کسی فارم پر لگانے کیلئے پاسپورٹ سائز فوٹو بنوانی تھی، فوٹو سٹوڈیو جاتے ہوئے ہمیں بھی ساتھ لے گیا۔ فوٹوگرافر نے پوچھا کلرڈ یا بلیک اینڈ وائٹ؟ کلرڈ کے پیسے ڈبل ہوتے ہیں۔ لالہ کہنے لگا بلیک اینڈ وائٹ ہی بنا، خواہ مخواہ پیسے ”ضائع” کرنے کی کیا ضرورت ہے، ”میری” کلرڈ اور بلیک اینڈ وائٹ فوٹو بالکل ایک جیسی ہوتی ہے۔ یہ سن کر ہمارے ساتھ فوٹو گرافر بھی مسکرا پڑا۔ لالہ رفیق ہم دونوں کو مزید ”محظوظ” کرتے ہوئے بولا ”بلیک اینڈ وائٹ” بنانے میں بھی میری اپنی تدبیر کا عمل دخل ہے، میں ”وائٹ” کا شیڈ لانے کیلئے ایک تو فوٹو بنواتے وقت اپنی آنکھیں زیادہ کھول کر رکھتا ہوں تاکہ ان کی ”سفیدی” واضح ہو سکے۔ دوسرے یہ کہ خاص اس موقع کیلئے ہمیشہ اچھے ٹوتھ پیسٹ سے اپنے دانت چمکائے رکھتا ہوں جیسے ہی فوٹوگرافر فوٹو کلک کرنے لگتا ہے اپنے ہونٹ وا کر کے سفید دانت سامنے لے آتا ہوں اور تیسرا اہتمام یہ کرتا ہوں کہ اپنے سر کو چہرے سے الگ دکھانے کیلئے سر پر ”سفید” ٹوپی رکھنا ہرگز نہیں بھولتا۔ لالہ رفیق کی اس پھل جھڑی پر ہمارے ساتھ ساتھ فوٹو گرافر کی بھی ہنسی نکل گئی۔ ہنس چکنے کے بعد وہ لالہ رفیق کی سفید قمیص پر نظریں مرکوز کرتے ہوئے بولا ”چوتھا” اہتمام بتانا شاید آپ بھول گئے ہیں۔

ایک دن لالہ رفیق شاید ہماری ”کم علمی” کو مزید نمایاں کرنے کی غرض سے کہنے لگا :ڈاکٹر صاحب آپ سے ایک ”مسئلہ” پوچھنے آیا ہوں، یہ بتائیں اگر کوئی بیوی اپنے شوہر کو”لالہ” کہے تو کیا نکاح برقرار رہے گا؟ ہم نے مسکراتے ہوئے کہا لالہ تم نے ”مفت” فتویٰ لینے کے چکر میں ہمیں ڈاکٹر سے ”مفتی” بنا دیا، ویسے یہ بتا کہ ”تمہاری” بیوی کو ایسی کیا مجبوری آن پڑی تھی کہ سارے محلے داروں کی طرح اس نے بھی تمہیں ”لالہ” کہہ دیا؟ لالہ رفیق بولا بات دراصل یہ ہے کہ کل جس محلے دار کی وفات ہوئی ہے، اس کے گھر پرسہ دینے کے بہانے محلے کی ساری خواتین ”باہم گپ شپ” کیلئے جمع تھیں، وہاں پر میری بیوی نے میرا ذکر کرتے ہوئے صرف ”رفیق” ہی کہنے پر اکتفا کیا تھا مگر اس احتیاط کے باوجود ایک ”ٹیکنیکل پرابلم” سامنے آ گئی۔ آپ تو جانتے ہی ہیں محلے میں میرے علاوہ بھی”رفیق” نام کئی لوگ موجود ہیں میری بیوی کی بات سن کر ان ”رفیقوں” کی بیگمات کے کان کھڑے ہو گئے، ایک نے تو فورا میری بیوی کو ٹوکتے ہوئے ”وضاحت” طلب کر لی کہ ”کون سے” رفیق کی بات کر رہی ہو؟ بس میری بیوی کو اپنی اور میری عزت بچانے کیلئے کہنا پڑ گیا۔ ”لالہ رفیق کی”۔ یہ سنتے ہی وہاں موجود ساری خواتین میں اس بات پر ”اجماع” منعقد ہو گیا کہ اپنے شوہر کو ”لالہ” کہنے کی بنا پر میری بیوی کا نکاح ٹوٹ گیا ہے۔ ہم نے کہا فتوی دینا تو ہمارا کام نہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ ”غلطی” سراسر تمہاری بیوی کی اپنی ہی ہے اس نیک بخت کو تمہارا ذکر کرتے ہوئے ”رفیق” نام لینے کی ضرورت ہی کیا تھی جیسے عام طور رواج ہے دوسری عورتوں کی طرح وہ بھی ”منے کے ابا” کہہ کر کام چلا لیتی، یہ سارا قضیہ پیدا ہی نہ ہوتا۔ لالہ بولا کیسی ”بیوقوفانہ” بات کر رہے ہیں آپ ! میری تو اولاد ہی نہیں ہے، میری بیوی آپ جتنی بیوقوف نہیں کہ ”منے کے ابا” کہہ کر اپنے لئے ”بدنامی” مول لیتی۔ ہم نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا مگر خدا کا شکر کہ کلینک میں کوئی مریض موجود نہیں تھا ہماری ”بیوقوفی” کا مشاہدہ صرف ڈسپنسر نے ہی کیا تھا جو پہلے ہی سے واقف ہے اور اس کیلئے یہ کوئی ”انکشاف” نہیں۔ اپنی ”بے حال” عزت کو ”بحال” کرنے کی اب یہی ایک صورت تھی کہ ہم لالہ رفیق کے مسئلے کا کوئی حل نکال کر سرخرو ہوں۔ ”شرعی حل” نکالنے کی تو ہمارے اندر اہلیت نہیں ہے مگر آپ جانتے ہی ہیں ”غیر شرعی حل” نکالنے کی ضرور اہلیت رکھتے ہیں چنانچہ ہم نے فلسفیانہ انداز میں خلاں کے اندر گھورا اور کہا لالہ مبارک ہو ایک شعر ذہن میں آ گیا ہے جو تمہارے مسئلے کا حل ہے۔ شاعر یوں کہتا ہے
سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

لالہ فکرمند ہوتے ہوئے بولا میرا مسئلہ کیسے حل ہوا، شاعر نے شعر میں میرا ”پورا نام” تو بیان ہی نہیں کیا ”لالہ رفیق” کی بجائے صرف ”لالہ” کہا ہے۔ ہم نے تسلی دیتے ہوئے کہا پہلی بات تو یہ ہے کہ شاعر تمہاری پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو گیا تھا اور دوسری بات یہ ہے کہ شاعر عالمی سطح کا شاعر ہے اس نے صرف ”رفیق” کی بیوی کیلئے نہیں ہر ایک مرد کی بیوی کیلئے آسانی مہیا کرنی تھی۔ گل لالہ ایک ”پھول” ہے اور دنیا کی ہر بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے شوہر کو ”لالہ” کہہ سکے۔ لالہ رفیق کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا، اس نے مسئلہ حل کرنے پر بے اختیار ہمارا ماتھا چوم لیا اور اٹھتے ہوئے بولا ابھی جا کر اپنی بیوی کو یہ ”خوشخبری” سناتا ہوں۔ ہم سکھ کا سانس لے ہی نہ پائے تھے کہ کلینک سے نکلنے کے بعد وہ یکدم واپس پلٹا، اس کے چہرہ پر چھا جانے والا اطمینان غائب ہو چکا تھا۔ کہنے لگا ڈاکٹر صاحب میری بیوی کو تو بالکل صحیح نظر آتا ہے۔ ہم نے کہا پھر کیا ہوا ”لالہ” کا لفظ تو زبان سے ادا کیا جاتا ہے اس کیلئے ”نابینا” ہونا ضروری تو نہیں ہے۔ لالہ ہماری ”بیوقوفی” پر ماتم کرنے کے انداز میں بولا… لیکن ڈاکٹر صاحب آپ مسئلہ کیوں نہیں سمجھ رہے، زبان تبھی ”لالہ” بولے گی جب آنکھوں کو میرا چہرہ ”لالہ” جیسا دکھے گا۔ آپ خود ہی ایمانداری سے بتائیں کیا آپ کو میں”لالہ” نظر آتا ہوں!!… کیا گل لالہ ”کالا” ہوتا ہے…؟؟