اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لئے ایک راستہ بنایا ہے، اسی راستہ سے اس چیز کو حاصل کرنے میں انسان کی بھلائی ہے اور اس راستہ کو چھوڑ دینے میں اور اپنی طرف سے نئے راستے بنانے میں انسان کی بربادی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے غذا کو پیٹ تک پہنچانے کے لئے منھ کا راستہ رکھا ہے اور اسی کے لحاظ سے جسمانی نظام بنایا گیا ہے۔ جب انسان کوئی لقمہ اپنے منھ میں رکھتا ہے تو خود بخود منھ میں لعاب پیدا ہوتا ہے اور یہ لعاب کھانے کے ساتھ مل کر اس کو معدہ تک پہنچانے کے لائق بناتا ہے۔ پھر معدہ اسے پیستا ہے، جو اجزا انسان کے لئے کار آمد ہیں اُن کو جذب کرتا ہے اور جو بے فائدہ ہیں انہیں ایک مقر ر راستہ سے باہر پھینک دیتا ہے۔ اگر انسان صرف کھانے اور ہضم ہونے کے اس نظام پر غور کر لے تو خدا کے وجود پر ایمان لانے کے لئے کافی ہے۔ سانس کی نالی کے ذریعہ آکسیجن جسم کے اندر جاتی ہے اور پھیپھڑے تک پہنچتی ہے۔ اس سے انسان کا پورا نظام چلتا ہے۔ اگر کوئی شخص کھانے کی نالی کی بجائے غذا کو ناک میں ڈال دے، یا کوئی لقمہ سانس کی نالی میں ڈال دے تو زندگی خطرے میں پڑ جائے گی۔ جس سانس کے ذریعہ زندگی قائم رہتی ہے اور جس غذا سے انسان کا وجود ہے، وہی اس کے لئے ہلاکت کا سبب بن جائے گا۔
اسی طرح ایک راستہ وہ ہے جو انسان کو اس دنیا سے آخرت کی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ اس راستہ کی رہنمائی کی ہے اور اس کو کھول کھول کر انسانیت کے سامنے پیش کیا ہے۔ اسی راستہ کو اسلام کہا گیا ہے: ان الدین عند اللہ الاسلام ۔ (آل عمران) اسلام کے معنی سر جھکا دینے کے ہیں۔ یعنی ایسا طریقہ زندگی جس میں انسان ایک اللہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیتا ہے، اس کی رضا کے مقابلے میں اپنی خواہشات کو بھول جاتا ہے۔ یہی طریقہ اللہ کے یہاں مقبول ہے، اس سے ہٹ کر کوئی اور طریقہ اللہ کی بارگاہ میں قابل ِقبول نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ومن یتبع غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الآخرة من الخاسرین۔ (آل عمران) یہ دین جو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے انسان کی کامیابی اور نجات اسی میں ہے۔ اس کے علاوہ انسان کوئی بھی راستہ اختیار کرے وہ اس کے لئے نقصان اور ناکامی کا راستہ ہے۔ اسلام کی اگرچہ آخری صورت جو قیامت تک قائم رہے گی وہی ہے جس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے، لیکن اسلام اس کائنات انسانی میں اوّل دن سے رسولوں کے ذریعہ آتا رہا ہے۔ حضرت آدم پہلے انسان بھی تھے اور پیغمبر بھی، پھر، تمام نبیوں اور رسولوں نے اسی دین کی دعوت دی:(ترجمہ)”ابراہیم بھی اپنے بیٹوں کو اسی کی وصیت کرگئے ہیں اور یعقوب بھی (کہ) میرے بیٹو! بے شک اللہ نے تمہارے لیے دین کو پسند فرما لیا ہے، اس لئے اسلام ہی کی حالت میں تمہیں موت آنی چاہئے” اور دوسری جگہ ارشاد ہوا(ترجمہ( ”کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کا آخری وقت آیا، اس وقت یعقوب نے اپنے بیٹوں سے کہا: تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے؟ انھوں نے جواب دیا: ہم آپ کے خدا، آپ کے باپ دادا ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے خدا یعنی ایک ہی خدا کی عبادت کریں گے اور ہم اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔ ”(البقرہ)اس دینِ حق کی آخری اور مکمل شکل وہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ انسانیت تک پہنچی۔ پچھلی کتابوں میں جو تحریف اور ملاوٹ پیدا کر دی گئی تھی قرآن مجید کے ذریعہ ان کو دور کیا گیا۔ پچھلی شریعتوں کے بعض احکام منسوخ کر دیے گئے تھے، ا س لئے ایک ایسی کتاب کی ضرورت تھی جس میں منسوخ اور تحریف شدہ احکام نہ ہوں، یہ ضرورت قرآن مجید کے ذریعہ پوری کی گئی۔
یوں تو آپ سے پہلے بھی ہر دور میں اللہ کے نبی آتے رہے اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں کے لیے الگ الگ پیغمبر بھیجے گئے، جو اپنے مخاطب کی زبان سے واقف تھے اور اسی زبان میں ان پر آسمانی کتاب نازل کی گئی، لیکن سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کے بعد جو بھی پیغمبر پیدا ہوئے، وہ ان ہی کی نسل سے پیدا ہوئے، ان کے دو صاحبزادے تھے: سیدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام، جن کی والدہ مصری نژاد خاتون حضرت ہاجرہ تھیں، ان کی نسل سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدا ہوئے، دوسرے: سیدنا حضرت اسحاق علیہ السلام، جن کی والدہ حضرت سارہ تھیں۔ تمام انبیاء بنو اسرائیل حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ حجاز مقدس اور اس کے قلب میں آباد مکہ مکرمہ میں کعبة اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر فرمائی، جہاں پوری دنیا کے مسلمان فریضہ حج ادا کرنے کے لئے جاتے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی نے فلسطین کے شہر بیت المقدس میں بھی عبادت گاہ تعمیر کی جو آج ”مسجد اقصیٰ” کہلاتی ہے۔
انبیاء بنی اسرائیل کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن جن پیغمبروں سے منسوب قومیں آج تک موجود ہیں اور دنیا میں آباد ہیں وہ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ماننے والے یہودی کہلائے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے عیسائی۔ اس طرح دنیا کے تین بڑے مذہبی گروہ: مسلمان، یہود اور عیسائی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نسبت رکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادی تعلیم توحید کی تھی مگر یہودیوں اور عیسائیوں نے تحریف اور آمیزش پیدا کر دی، اس لئے آج حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کی تعلیمات مسخ شدہ اور تحریف شدہ حالت میں ہیں اور جو کچھ ہیں ان پر بھی ان قوموں کا عمل نہیں ہے، نہ ان کے خواص کا نہ عوام کا۔
سیدنا ابراہیم اور تمام انبیاء کی بنیادی تعلیم عقیدہ توحید پر مبنی تھی۔ آج بھی تورات یہاں تک کہ خود انجیل میں بھی توحید سے متعلق واضح مضامین موجود ہیں، جن میں بہت خوبصورتی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا تعارف کرایا گیا ہے، جیسے کسی سامان میں ملاوٹ پیدا کرنے کے بعد اُس سامان کے کچھ نہ کچھ اجزا اُس میں باقی رہ جاتے ہیں، ایسا نہیں ہوتا کہ چاول میں ملاوٹ کی وجہ سے وہ مٹی بن جائے اور گیہوں میں ملاوٹ کی وجہ سے وہ پتھر بنا جائے، اسی طرح تورات و انجیل میں ڈھیر ساری تحریفات کے باوجود دین حق کی سچائیوں کے ذرات بھی موجود ہیں۔ عقیدہ توحید بھی ہے، رسالت اور وحی اور آسمانی کتاب کا تصور بھی ہے۔ جنت اور دوزخ کا بھی تذکرہ ہے، حلال وحرام کے احکام بھی ہیں، لیکن ان قوموں نے اس دین کو پس پشت ڈال دیا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ان کے مختلف فرقوں میں مشرکانہ رسوم و رواج بھی آگئے۔ ملحد اور ددھریہ بھی یہودی اور عیسائی کہلانے لگے۔ انھوں نے اللہ کی شریعت کی بجائے اپنی خواہش اور شہوت کو اپنی شریعت بنا لیا۔ غرض کہ یہودی اور عیسائی دین ابراہیمی کے راستے سے ہٹ چکے ہیں اور احکام الٰہی سے آزاد ہو چکے ہیں۔ صرف اُمت مسلمہ اپنی بہت سی کمیوں اور کوتاہیوں کے باوجود دین ابراہیمی پر قائم ہے۔
اب اس وقت مغربی دنیا کی طرف سے مسلمانوں کو راہ حق سے ہٹانے کے لیے ”ابراہیمہ” کے نام سے ایک نیا فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کو اس تصور کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے کہ اسلام، یہودیت اور عیسائیوں کے درمیان قربت پید اکی جائے اور اس کے لئے ایسے مراکز قائم کئے جائیں، جن میں مسجد، چرچ اور یہودی عبادت گاہ ایک ہی احاطہ میں ہوں۔ مغربی قوتیں اسلام کو یہودیت اور عیسائیت میں ضم کرنے کے لیے اس اصطلاح کا استعمال کررہی ہیں۔ جب 1979ء میں مصر اور اسرائیل کے درمیان ”کیمپ ڈیوڈ” معاہدہ ہوا، جس کا محرک امریکا تھا تو امریکی صدر جمی کارٹر نے کہا کہ ”آئیے ہم جنگ کو ایک طرف رکھ دیں اور ہم ابراہیم کے تمام پیاسے بیٹوں کے لئے امن کا ایک معاہدہ کریں تاکہ مکمل انسان ہمسائے، بلکہ مکمل بھائی بہن بن جائیں”۔ پھر 1993ء میں میں اوسلو معاہدہ ہوا، اس وقت ایک اور امریکی صدر کلنٹن نے کہا: ”آج اس بہادری کے سفر میں ہم ابراہیم کے بیٹے اسحاق اور اسماعیل کے ساتھ مل کر امن کو اپنے دل و جان سے پیش کررہے ہیں”۔ پھر 1994ء میں جب اسرائیل اور اُردن کے درمیان معاہدہ ہوا تو اس موقع پر اُردن کے شاہ حسین نے کہا: ”آج کے دن کو ہم اور ہماری نسلیں ابراہیم کے بیٹوں کی حیثیت سے یاد رکھیں گی”۔ (جاری ہے)

