ان انتخابات کے بارے میں، ایک پاکستان ہی میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں جماعت اسلامی کی کامیابی کی پیشین گوئیاں کی جارہی تھیں، کیونکہ سفاک حسینہ واجد کو ملک سے نکال باہر کرنے میں سب سے بڑا اور جرأت مندانہ کردار جماعت اور اسلامی جمعیت طلبہ ہی کا تھا لیکن حیرت ہے وہاں کے عوام پر کہ انہوں نے جماعت کے اس احسان کا کما حقہ بدلہ نہیں چکایا، تاہم جماعت اسلامی نے دوسرے نمبر پر رہ کر آخری گنتی کے مطابق ملک بھر میں جو 75نشستیں حاصل ہیں، وہ بھی گزشتہ ساٹھ سالوں میں بہت عظیم الشان کامیابی ہے۔
تیسری دنیا کے مستقل انتخابی نتائج سے یہ حقیقت کھل کے سامنے آتی ہے کہ یہاں جمہوریت اور انتخابات کوئی معنی نہیں رکھتے۔ یہاں تو بیلٹ پیپر پر اندر ٹھپے لگتے ہیں، بیلٹ بکسز باہر لے جائے جاتے ہیں، پریزائڈنگ افسران اسلام اور جمہوریت دونوں سے چڑ رکھتے ہیں اور غنڈہ گردی عام ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ تیسری دنیا میں ووٹ کی کوئی عزت و قدر نہیں ہے جبکہ مغربی دنیا میں بہرحال ووٹ کی اپنی ایک قوت ہے۔ وہاں کی حکومتوں نے برسہا برس کے بعد سیکھا ہے کہ ووٹ اپنی ایک اندرونی و بیرونی قدر و قیمت لازمی رکھتا ہے۔ بنگلادیشی انتخاب کے نتائج بتاتے ہیں کہ نفاذ دین کی لڑائی ابھی لمبی اور لمبی ہوگی لیکن یہ بات طے ہے کہ موجودہ نسل ظلم کی بہت شناخت رکھنے لگی ہے اور شدت سے خواہشمند ہے کہ ان کے خطوں میں امن، چین، جمہوریت، اور عدل و انصاف کی حکمرانی ہو۔
دنیا کے تجزیہ نگاروں کو بہرحال اس امر پر تعجب ہوتا ہے کہ کسی بھی مقام کی تحریک اسلامی کے کارکنان و ذمے داران میں پچاس ساٹھ سالہ شکست اور پھانسی و قتل کے باوجود تھکن کے آثار کبھی پیدا نہیں ہوتے۔ وہ اٹھ کر ہر بار ایک نئے عزم کے ساتھ جمہوری عمل میں دوبارہ شریک ہو جاتے ہیں۔ مایوسی اور میدان سے فرار، ان میں سے کسی کے ہاں بھی موجود نہیں ہے۔ پھر جب وہ اس سخت ترین و بے مثال استقامت کی جڑیں تلاش کرنے کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں نظر آتا ہے کہ اس کی وجہ، اللہ تعالیٰ اور اسلامی نظریے پر ان تحریکوں کا دل کے نہاں خانوں تک ناقابل شکست ایمان ہے۔ پھر جب وہ ان صفات کو اپنے ہاں تلاش کرتے ہیں تو وہاں انہیں سخت مایوسی نظر آتی ہے۔ انہیں یہ صفت صرف نظریاتی مردوں ہی میں نظر نہیں آتی بلکہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی عورتیں اور بچے تک اسی جوش و جذبے میں گندھے ہوئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فتح و شکست دونوں فیصلوں سے بے نیاز نظریاتی جدوجہد میں منہمک رہتے ہیں۔ اور اسی لیے ان کے مفکرین پیشین گوئی کرتے ہیں کہ فتح اگر ہوگی تو بالآخر پولیٹیکل اسلام ہی کی ہوگی۔ یہ فتح لکھی ہوئی ہے۔ ہزاروں سالہ مشرکانہ عقائد سے خانہ کعبہ کو ایک دن تو بہرحال آزاد ہونا ہی تھا اور اگر طائف کے لوگ اسلام نہیں لائے تھے تو ان کی نسلیں تو اس نعمت سے مستفید ہوئی ہی تھیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ کفر کی وادیوں میں اسلام کے آگے بڑھنے کا واحد راستہ الیکشن ہی نہیں ہیں۔ عوام میں قبول اسلام کی تیز ہوتی ہوئی رفتار اشارے دے رہی ہے کہ اسلام اس راستے سے بھی وہاں آگے بڑھ رہا ہے۔ راقم بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کے کہتا ہے کہ اسلام وہاں محض فرش پر آکے نہیں بیٹھ گیا ہے بلکہ ان کے صوفوں پر آکے براجمان ہوگیا ہے۔ دوسری طرف وہاں کے قوانین میں بھی اسلام اور مسلمانوں کے لئے مستقل گنجائشیں نکالی جا رہی ہیں جس کی صرف یہ ایک مثال کافی ہے کہ مغرب میں اب اذانیں لائوڈ اسپیکرز پر دی جانے لگی ہیں جس کا آج سے محض پانچ چھ سال پہلے تک تصور بھی نہ تھا۔ الا ان کلمة اللہ ھی العلیا۔
لوگ اصل میں جماعت اسلامی کا دین بالکل ہی الگ سمجھتے ہیں۔ جماعت پون صدی میں انہیں مکمل دین یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مجموعی دین کی تعریفیں سمجھا سمجھا کے تھک گئی مگر قوم اسے دین ماننے پر تیار ہی نہیں ہوئی۔ بلکہ بات اس سے بھی کچھ آگے کی ہے۔ یہ قوم فی الاصل سیاست میں دین کو اہمیت ہی نہیں دیتی۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ملک میں تمام دینی جماعتیں، سیاست میں تقریباً ناکام ہی رہی ہیں۔ تاریخ میں وہ بھی اسمبلی میں چند نشستوں سے زیادہ نہیں پہنچ سکیں۔
لوگ سیاست میں دھوکے بازی، بدمعاشی، بیرونی غلامی، بددیانتی، اقربا پروری، اور خاندانی سیاست کو تو ضرور پسند کرتے ہیں لیکن ایک پرسکون، شریفانہ، خالص جمہوری، پاک وصاف، بیرونی غلامی سے آزاد، اور ٹھیک انصاف کی حکومت بالکل پسند نہیں کرتے۔ یہی اس قوم کا مزاج بنا ہے۔ اس پر مستزاد جماعت اسلامی کا دینی نظریہ؟ وہ تو ان کے دماغ میں بالکل ہی سرایت نہیں کرتا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے سیاست میں قدم ہی نہیں رکھا اور محض قوم کے دینی مزاج کی تشکیل میں عمر گزار دی۔ مگر قوم تو اس ڈھنگ پر بھی عمل پیرا نہ ہو سکی۔
بنگلادیش کے انتخابات کا اس لحاظ سے بھی جائزہ لینا چاہئے کہ وہاں کے عوام نے بنگلادیش نیشنل پارٹی (بی این پی) خالدہ ضیا اور جماعت اسلامی کو اکثریتی پارٹی منتخب کروا کر بھارت سے اپنی نفرت کا برملا اظہار کیا ہے۔ بھارت کی ڈارلنگ پارٹی وہاں صرف عوامی لیگ تھی جس نے بھارت کو وہاں ہر شعبہ زندگی پر حاوی کر دیا تھا۔ بلکہ ایک لحاظ سے حسینہ واجد نے ملک کو بھارت میں گروی ہی رکھ دیا تھا۔ ورلڈ بینک کے ایک پاکستانی ڈائریکٹر نے ذاتی گفتگو میں راقم کو بتایا کہ ایک دو بار جب وہ بنگلادیش سرکاری دورے پر گئے تو انہوں نے وہاں بیشتر اداروں کے سربراہوں کو ہندو ہی پایا تھا۔ سفاک حسینہ کو بنگلادیش سے فرار ہونے کے بعد بھارت نے جو اب تک پناہ دی ہوئی ہے، وہاں کے عوام کو اس کا آج تک بے حد صدمہ ہے۔ وہ اسے اپنے ہاں موت کی سزا دینا چاہتے تھے۔ چنانچہ بی این پی اور جماعت اسلامی دونوں کو بھاری اکثریت سے منتخب کروا کے انہوں نے بھارت سے اپنی شدید نفرت کا اظہار کیا ہے۔
یہ بات بھی بہت باعث تسکین ہے کہ جو پارٹی وہاں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آئی ہے، جماعت اسلامی بنگلادیش کبھی اس کے ساتھ بھی حکومت بناتی رہی ہے اور جیت کر بھی اس کے قائد طارق رحمان نے کسی بھی قسم کا جشن منانے کی ممانعت کی ہے۔ یہ بھی ایک خوش آئند اور شریفانہ اقدام ہے۔ ورنہ جشن منانے سے ایک طرح کے متکبرانہ و انتقامی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

