رپورٹ: علی ہلال
اسرائیلی کے متعصب اور انتہاپسند وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے اسرائیلی شہریت کے حامل اکیس لاکھ عربوں کے سر پر شہریت کی منسوخی کی تلوار لٹکادی۔ نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ اسرائیل میں بسنے والے فلسطینی عربوں کی شہریت منسوخ کرکے انہیں غزہ بھیج دیا جائے گا۔
نام نہاد جمہوری حقوق کے علمبردار اسرائیل کے وزیراعظم نے یہ بیان عین ایسے موقع پر دیا ہے جب وہ دنیا میں انسانی حقوق کے علمبردار امریکا کے دورے پر روانہ ہورہے تھے۔ عرب میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے منگل کے روز دو فلسطینیوں کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے پر دستخط کر دیے جبکہ سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق دونوں افراد کو غزہ منتقل کیا جائے گا۔ عبرانی میڈیا کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہاہے کہ ’میں نے آج صبح دو اسرائیلی دہشت گردوں کی شہریت منسوخ کرنے اور انہیں بے دخل کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے ہیں‘۔ نیتن یاہو جن پر غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے سلسلے میں بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمہ زیرِ سماعت ہے نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ افراد نے اسرائیلیوں کے خلاف چاقو اور فائرنگ کے حملے کیے تھے۔انہوں نے مزید عندیہ دیا کہ ایسے مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے اور بھی کئی افراد اس فہرست میں شامل ہیں۔اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق دونوں فلسطینیوں کو غزہ بھیجا جائے گا۔
مزید پڑھیں :
انڈونیشی فوج کے غزہ پہنچنے کی تیاری، مزاحمت کا سخت موقف
واضح رہے کہ غزہ کی پٹی 8 اکتوبر 2023ء سے جاری اسرائیلی کارروائیوں کے باعث شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ دو برس سے جاری اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً 24 لاکھ فلسطینی سنگین حالات سے دوچار ہیں۔اسرائیلی چینل 12 کے مطابق شہریت منسوخ کیے جانے والے افراد کے نام محموداحمد اور محمد احمدحسین حلسی بتائے گئے ہیں۔ اسرائیل کی مجموعی آبادی ایک کروڑ سے زائد ہے جس میں فلسطینیوں کی شرح 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل امتیازی سلوک اور سرکاری پالیسیوں کے باعث دباو اور سائیڈ پر رکھے جانے کا سامنا کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ اسرائیل ملک کے اندر رہنے والے عرب باشندوں کو ہمسایہ ممالک بالخصوص شام، فلسطین اور لبنان میں مقیم اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے جانے پر سختی سے پابندی عائد کرچکا ہے اور ان عربوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ 2007ء میں اسرائیلی پارلیمنٹ کے دو اراکین عزمی بشارہ اور جمال زحالکہ نے شام کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیلی سرحد کے قریب علاقے میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات پر اسرائیلی میڈیا اور اداروں نے شدید کہرام مچایا اور واپسی پر اسرائیلی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان افراد سے سخت تفتیش کی۔ اس وقت اسرائیلی پارلیمنٹ میں بھی اس معاملے پر بہت گرم بحث ہوئی تھی۔
عرب اراکین پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ متعدد اسرائیلی افراد عرب ممالک بشمول لبنان کا دورہ کرچکے ہیں جن میں اسرائیلی فوجی مبصر رون بن یشائی بھی شامل ہے جس نے بھی لبنانی علاقے الضاحیہ سے رپورٹنگ کی، وہ اسرائیلی شہری ہیں اور غیراسرائیلی پاسپورٹ پر لبنان گئے مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی بلکہ انہیں سراہا گیا، کیونکہ انہوں نے اسرائیلی حملوں سے تباہ ہونے والے علاقوں کی تصاویر پیش کیں۔ 2009ءمیں دوسری مرتبہ اسرائیل میں یہ معاملہ توجہ کا مرکز بنا۔ اسرائیل کے اس وقت کے وزیرِداخلہ ایلی یشای نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیل کے اندر رہنے والے کسی فلسطینی شہری کے حملوں میں ملوث ہونے کے شواہد ملے تو اس کی شہریت منسوخ کردی جائے گی۔ بعدازاں متعدد عربوں کو سماجی حقوق سے بھی محروم کیا گیا جن میں قومی انشورنس (نیشنل انشورنس) کی مراعات بھی شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے اہم کرداروں میں سابق وزیرِخارجہ آویگڈور لیبرمین اور وزیراعظم نیتن یاہو کے نام نمایاں ہیں۔
جو متعدد دفعہ ملک کے مقامی عرب شہریوں کے خلاف بطور سزا اس نوعیت کے اقدامات کی علانیہ حمایت کر چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل نے 1948ء میں فلسطینی اراضی سے سات لاکھ 26 ہزار فلسطینی عربوں کو اپنے گھربار سے جبری بے دخل کیا تھا جبکہ ڈیڑھ لاکھ عرب ہاگانا ملیشیا کے مظالم کے باوجود اپنی اراضی پر باقی رہ گئے تھے۔ فلسطینی جو اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں رہتے ہیں، انہیں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، جن میں عربِ خطِ اخضر (گرین لائن عرب)، عرب 48، فلسطینی 48، عرب الداخل اور فلسطینی الداخل شامل ہیں۔
مزید پڑھیں :
حماس کو مرحلہ وار غیرمسلح کرنے کی تجویز سامنے آگئی
یہ وہ فلسطینی ہیں جو 1948ء کی نکبہ کے بعد بھی اپنی زمینوں پر قائم رہے جبکہ بڑی تعداد میں فلسطینی خاندانوں کو بے دخل کر کے مغربی کنارے، غزہ اور ہمسایہ ممالک (شام، لبنان اور اُردن) کے پناہ گزین کیمپوں میں جانا پڑا۔ 1949ء میں جنگ بندی کے بعد جو حدِ فاصل بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی گئی، اسے ’خطِ اخضر‘ کہا جاتا ہے اور اسی نسبت سے یہ نام وجود میں آیا۔ ان فلسطینیوں میں سے بیشتر اسرائیلی شہریت یا مستقل رہائشی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ پچانوے فیصد مسلمان ہیں۔ اپریل 2023ء کے اعدادوشمار کے مطابق وہ اسرائیل کی موجودہ آبادی کا تقریباً 21 فیصد بنتے ہیں۔یہ آبادی اُن علاقوں میں مقیم ہے جو 1967ء سے پہلے اسرائیل کے زیرِ کنٹرول تھے، یعنی ان علاقوں سے باہر نہیں جو بعدازاں 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے۔ نکبہ کے بعد مقبوضہ علاقوں میں باقی رہ جانے والے فلسطینیوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ (150 ہزار) تھی، سنہ 2023ء تک عرب 48 کی تعداد بڑھ کر 20 لاکھ 48 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ یہ زیادہ تر النقب، المثلث اور شمالی علاقوں میں آباد ہیں۔ عرب اڑتالیس اسرائیلی فورسز میں بھرتی نہیں ہوتے۔ یہ صرف سویلین اداروں میں کام کرتے ہیں بالخصوص تعلیم اور صحت میں اسرائیل میں ان کا اہم کردار ہے۔ گزشتہ برس کی ایک سروے کے مطابق اسرائیل میں صحت کے شعبے میں 48 فیصد ڈاکٹر عرب ہیں جس کے بعد ان کے خلاف متعصبانہ کارروائیوں میں اضافے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔
ماضی میں جب اسرائیل عرب ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے سرگرم تھا اور عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے کوشاں تھا تو ان عربوں کے حقوق کسی حد تک محفوظ تھے لیکن عبرانی میڈیا کے مطابق کورونا کے بعد سے اسرائیلی عربوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جن میں تازہ ترین اضافہ ان کی شہریت کی منسوخی کا سامنے آیا ہے۔

