رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
اسرائیلی ریڈیو اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق غزہ میں ایک نئی بین الاقوامی عسکری و انتظامی حقیقت جنم لینے جارہی ہے۔ ہزاروں انڈونیشی فوجیوں کی غزہ آمد کی تیاریوں کی خبریں سامنے آ چکی ہیں جنہیں نام نہاد بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ بنایا جائے گا۔
یہ فورس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ کے بعد کے انتظامات سنبھالنے کے لیے تشکیل دی جا رہی ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کی تائید بھی حاصل بتائی جاتی ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق جنوبی غزہ میں رفح اور خان یونس کے درمیان ایک مخصوص علاقہ انڈونیشی فوجیوں کی تعیناتی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ زمینی تیاریوں کا آغاز ہوچکا ہے تاہم فوجیوں کی رہائش، بیرکس، رسد اور بنیادی ڈھانچے کی تکمیل میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں چند ہزار انڈونیشی فوجی غزہ میں داخل ہوں گے جبکہ جکارتا اور واشنگٹن کے درمیان تعیناتی، نقل و حمل اور اختیارات کے دائرہ کار پر مشاورت جاری ہے۔ انڈونیشیا کو اس فورس میں اولین شراکت دار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے اور فلسطینی مسئلے پر اس کا عوامی موقف ہمیشہ اسرائیل مخالف رہا ہے۔
مزید پڑھیں :
انڈونیشیا کی 8ہزار فوجی اہلکاروں کو غزہ بھیجنے کی تیاری
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہی پہلو فلسطینی مزاحمت کے لیے تشویش کا باعث بھی بن سکتا ہے کیونکہ کسی مسلم ملک کی فوج اگر امریکی اور اسرائیلی منصوبے کے تحت غزہ میں تعینات ہوتی ہے تو یہ مزاحمت کے بیانیے کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا کے علاوہ دیگر ممالک کے نام بھی زیر غور ہیں۔ ان میں بنگلادیش، آذربائیجان، مراکش، اُردن اور بعض افریقی ممالک شامل بتائے جاتے ہیں۔ مصر اور قطر کے کردار پر بھی بات ہو رہی ہے تاہم مصر زیادہ تر سرحدی اور انٹیلی جنس تعاون تک خود کو محدود رکھنا چاہتا ہے۔ ترکی کی خواہش ہے کہ وہ اس فورس کا حصہ بنے۔ دلچسپ بات کہ غزہ کی مزاحمت کا بھی یہی مطالبہ ہے لیکن ترکی کو اس فورس سے دانستہ طور پر باہر رکھا گیا ہے کیونکہ اسرائیل ترکی کی عسکری موجودگی کو کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یورپی ممالک اس فورس میں براہِ راست فوجی بھیجنے کے بجائے لاجسٹک، مالی اور تکنیکی معاونت تک محدود رہنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے صورتحال خاصی حساس ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ اور حکومتی حلقوں کی جانب سے اب تک کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا تاہم یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان سے غیررسمی رابطے ضرور کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کا موقف یہ ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی فورس میں شمولیت کا فیصلہ اُس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک اس فورس کا قانونی مینڈیٹ، دائرہ اختیار اور اصل مقصد مکمل طور پر واضح نہ ہو۔ پاکستان یہ بھی نہیں چاہتا کہ اس کی فوج کسی ایسے مشن کا حصہ بنے جو براہِ راست فلسطینی مزاحمت کو غیرمسلح کرنے یا داخلی تصادم کا سبب بنے۔بین الاقوامی استحکام فورس کے لیے جو ذمہ داریاں تجویز کی جا رہی ہیں اُن میں غزہ میں سیکورٹی کی نگرانی، مزاحمت کو غیرمسلح کرنا، اسلحے کی نقل و حرکت روکنا، انسانی امداد کی ترسیل کو یقینی بنانا، تعمیر نو کے منصوبوں کی حفاظت اور عبوری انتظامیہ کو سہارا دینا شامل ہے۔ یہی نکات سب سے زیادہ تنازع کا سبب بنے ہوئے ہیں، کیونکہ فلسطینی مزاحمت خاص طور پر حماس اور اسلامی جہاد واضح طور پر اعلان کر چکی ہیں کہ وہ اپنے ہتھیار کسی بھی صورت نہیں ڈالیں گی۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کا اسلحہ کوئی غیرقانونی ملیشیا کا نہیں بلکہ ایک قابض طاقت کے خلاف مزاحمت کا ذریعہ ہے، جسے بین الاقوامی قوانین بھی تسلیم کرتے ہیں۔

حماس کی قیادت متعدد بار کہہ چکی ہے کہ اگر کوئی بین الاقوامی فورس محض جنگ بندی کی نگرانی، امداد کی تقسیم اور شہری تحفظ تک محدود رہے تو اس پر بات ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس کا مقصد مزاحمت کو ختم کرنا یا فلسطینیوں پر نئی بالواسطہ نگرانی مسلط کرنا ہوا تو اسے دشمن قوت تصور کیا جائے گا۔ یہی بات حماس کے سیاسی دفتر کے رہنما خالد مشعل نے اپنے تازہ ترین انٹرویو میں بھی کہی ہے۔مزاحمتی حلقوں کو خدشہ ہے کہ یہ فورس دراصل اسرائیل کو براہِ راست غزہ میں موجود رہنے سے بچانے کا متبادل انتظام ہے جس کے ذریعے اسرائیل اپنے فوجی واپس بلا کر بھی سیکورٹی کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ اسرائیل کی دیرینہ خواہش کی بھی بغیر کسی جانی نقصان کے تکمیل ہوگی، یعنی مزاحمت کا خاتمہ۔ لیکن مزاحمتی قیادت کے نزدیک یہ فورس غزہ کی خودمختاری کو محدود کرے گی اور مستقبل میں فلسطینی سیاسی فیصلوں پر دبا کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں :
غزہ کے ملبے سے معاشی مفادات سمیٹنے کی سازش
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ مزاحمت کو غیر مسلح کیسے کیا جائے گا جبکہ وہ خود اس کے لیے تیار نہیں۔ ماضی میں لبنان، عراق اور افغانستان جیسے تجربات ثابت کرتے ہیں کہ کسی مقامی مسلح قوت کو بیرونی فوج کے ذریعے ختم کرنا نہ صرف مشکل بلکہ طویل عدم استحکام کا سبب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض سفارتی حلقوں میں یہ تجویز بھی زیر بحث ہے کہ مزاحمت کو بتدریج سیاسی عمل میں شامل کر کے اسلحے کے کردار کو محدود کیا جائے مگر اس پر ابھی کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔قانونی پہلو بھی اس فورس کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد اگرچہ موجود ہے مگر یہ اب تک واضح نہیں کہ فورس کو امن فوج (Peacekeeping Force) کا درجہ حاصل ہوگا یا یہ ایک نیم عسکری انتظامی فورس ہوگی۔ اس کے اختیارات، گرفتاری کا حق، طاقت کے استعمال کی حدود اور مقامی قوانین پر اس کی عمل داری جیسے سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔ان تمام پیچیدگیوں کے باوجود امریکا اور اس کے اتحادی اس فورس کو غزہ کے مستقبل کا لازمی جزو قرار دے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ بغیر کسی بیرونی استحکام فورس کے غزہ میں دوبارہ جنگ، بدامنی اور انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمت اور عوامی حلقوں میں یہ خدشہ بڑھتا جا رہا ہے کہ یہ فورس مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک نئی شکل کا کنٹرول ہو سکتی ہے۔یوں غزہ ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے، جہاں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اصل معرکہ سیاسی، عسکری اور نظریاتی سطح پر جاری ہے۔ انڈونیشی فوج کی ممکنہ آمد محض ایک فوجی خبر نہیں بلکہ ایک ایسے مرحلے کا آغاز ہو سکتی ہے جو آنے والے برسوں میں فلسطین کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

