حماس کو مرحلہ وار غیرمسلح کرنے کی تجویز سامنے آگئی

رپورٹ: ابوصوفیہ چترالی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قائم کردہ مجلس السلام ( Peace of Board ) غزہ کی مزاحمتی قوتوں کے لئے ایک نئی پیشکش پر غور کررہی ہے۔
اس نئے مجوزہ منصوبے کے مطابق امریکا ابتدائی مرحلے میں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کو بعض ہلکے ہتھیار رکھنے کی اجازت دے سکتا ہے تاہم اس کے بدلے میں تنظیم سے ایسے تمام ہتھیاروں کی حوالگی کا مطالبہ کیا جائے گا جو اسرائیل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے باخبر حکام اور منصوبے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اس مسودہ دستاویز کو آئندہ چند ہفتوں میں حماس کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ ہے۔ اس ٹیم کی قیادت امریکا کررہا ہے جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر (Jared Kushner)، امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff) اور اقوام متحدہ کے سابق اعلیٰ عہدیدار نکولائے ملادینوف (Nikolay Mladenov) شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق منصوبے کی تفصیلات ابھی حتمی نہیں ہیں اور آئندہ دنوں میں اس کی مختلف شکلیں سامنے آ سکتی ہیں۔ ایک علاقائی سفارت کار اور منصوبے سے واقف دیگر افراد نے بتایا کہ مسودہ قابل ترمیم ہے اور اس میں تبدیلی کا امکان موجود ہے۔نیویارک ٹائمز نے موجودہ شکل میں اس منصوبے کو حماس کو غیرمسلح کرنے کی سمت ایک بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ اقدام صدر ٹرمپ کے غزہ سے متعلق 20 نکاتی منصوبے کا بنیادی جزو ہے جو دو سالہ جنگ کے بعد حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی بنیاد بنا تھا۔ وائٹ ہاو¿س کے ترجمان ڈیلن جانسن نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ حماس سے مکمل غیرمسلح ہونے کی توقع رکھتی ہے اور منصوبے کے مکمل نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقوں اور ثالثوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ اسی تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان نے حالیہ بیان میں کہا کہ ”غزہ کی تعمیر نو کے آغاز کی واحد کنجی حماس کا غیر مسلح ہونا ہے۔“
مرحلہ وار حکمتِ عملی
اخبار کے مطابق منصوبہ ان اصولوں پر مبنی ہے جن پر پہلے بھی علانیہ گفتگو ہو چکی ہے، خاص طور پر گزشتہ ماہ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈاووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں جیرڈ کوشنر نے اپنی تقریر کے دوران غزہ کو مرحلہ وار غیر مسلح کرنے کی تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ ’بھاری ہتھیار فوری طور پر سروس سے نکال دیے جائیں گے‘۔ کوشنر نے اپنی پیشکش میں ذاتی نوعیت کے ہتھیاروں کی رجسٹریشن اور انہیں غیرفعال کرنے کا بھی ذکر کیا تھا جس کے بعد غزہ کی سیکورٹی ذمہ داریاں ایک نئی فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کی جائیں گی۔ تاہم اس نے اس بات کی وضاحت نہیں کی تھی کہ کن اقسام کے ہتھیار اس عمل میں شامل ہوں گے۔رپورٹ میں شائع ہونے والی تفصیلات میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ مزاحمتی قوتوں کے غیر مسلح ہونے کے عمل کے دوران اسرائیل سے کن جوابی اقدامات کا مطالبہ کیا جائے گا۔ کیا ہر مرحلے میں اسرائیلی افواج بھی پیچھے ہٹیں گی؟ یا یہ یک طرفہ مطالبات کا سلسلہ ہوگا؟ نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ بعید از قیاس ہے کہ اسرائیل، حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے سے پہلے غزہ سے اپنی افواج واپس بلائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے میں ہتھیاروں کا مرحلہ وار خاتمہ شامل ہے جو کئی ماہ یا اس سے زیادہ عرصے پر محیط ہو سکتا ہے۔ مزاحمت کو غیر مسلح کئے جانے کے بعد اگلے مراحل میں غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی، بڑے پیمانے پر تعمیر نو کا آغاز اور انتظامی اختیار ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے حوالے کرنا شامل ہے۔
حماس کا موقف
ادھر حماس کے بیرونِ ملک سیاسی دفتر کے سربراہ خالد مشعل نے حالیہ دنوں میں واضح کیا ہے کہ مزاحمتی قوتوں کو غیرمسلح کرنے کی تجویز کوئی خالص بین الاقوامی مطالبہ نہیں بلکہ دراصل ایک اسرائیلی تصور ہے جسے عالمی فورمز پر فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خالد مشعل نے دوحہ میں منعقدہ الجزیرہ فورم کے سترہویں اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حماس حقیقت پسندانہ تجاویز پر غور کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ وہ ’ضمانتوں‘ پر مبنی ہوں، نہ کہ مکمل غیرمسلحی پر۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک نے قطر، مصر اور ترکی جیسے ثالثوں کے ذریعے طویل المدتی جنگ بندی اور کشیدگی روکنے کے لیے بین الاقوامی میکانزم کی تجاویز پیش کی ہیں۔
یہ مجوزہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ دو سالہ تباہ کن جنگ کے بعد شدید انسانی اور معاشی بحران سے دوچار ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تعمیرنو اور سیاسی انتظام کے مستقبل پر بحث جاری ہے تاہم غیرمسلح ہونے کا مسئلہ بدستور سب سے حساس اور متنازعہ نکتہ بنا ہوا ہے۔ امریکی قیادت میں سامنے آنے والا یہ خاکہ اس پیچیدہ بحران کے ممکنہ حل کی ایک نئی سمت ضرور دکھاتا ہے، لیکن اس کی عملی صورت، قبولیت اور نفاذ آئندہ سفارتی پیش رفت پر منحصر رہے گا۔ تاہم مزاحمت کو غیرمسلح کرنے کے اس منصوبے میں مبینہ ترمیم امریکی و اسرائیلی تکبر میں شگاف کی علامت ہے اور اس بات کا بالواسطہ اعتراف بھی کہ بہیمانہ فوجی کارروائی، منظم نسل کشی اور بھوک و موسمی سختی کا ہتھیار اہلِ غزہ کو جھکانے میں ناکام رہا۔ اہلِ غزہ کے پُرعزم صبر نے جبر کو اپنے موقف میں نرمی پر مجبور کر دیا ہے۔ اب غیرمسلح ہونے کی صورت میں ’جہنم کے دروازے کھول دینے‘ کی دھمکی مرحلہ وار، مبہم اور کچھ لو، کچھ دو کی التجا میں ڈھلتی دکھائی دے رہی ہے۔اس تجویز کو دجالی قوتوں کی مکمل پسپائی کہنا شاید مبالغہ ہو مگر یہ ایک جزوی رعایت ضرور ہے اور رعایت بہرحال کمزوری کا اعتراف نہ سہی، حقیقت کے ادراک کا اظہار ضرور ہے۔
جب طاقت کے مراکز اپنے اہداف پر مکمل عملدرآمد سے قاصر ہوں تو وہ بالآخر حقیقت سے مفاہمت پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ بسا اوقات استقامت فوری فتح کی ضمانت نہیں بنتی مگر طاقتور کو بیانیہ بدلنے پر مجبور ضرور کردیتی ہے اور جب بیانیہ بدلے تو دستاویزات اور مسودات بھی بدل جاتے ہیں۔ یہ پیش رفت اِس امر کی گواہی ہے کہ اہل غزہ کی استقامت نے تکبر کے آہنی سانچے میں پہلی دراڑ ڈال دی ہے۔