ہر ظلم کا حساب،آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی،وزیراعلیٰ کے پی

پشاور:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا، آج تمہاری کل ہماری باری ہوگی ہر ظلم کا حساب لیں گے۔

گورنمنٹ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جمرود کی اپلائیڈ سائنسز کی جانب سے اپ گریڈیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ جمرود کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ترقی میں پیچھے رکھا گیا،خیبر جمرود کو تعلیم کے میدان میں آئندہ ترقی یافتہ قوموں کی طرح ترقی ملے گی۔

عمران خان کے وژن کے مطابق انسانوں پر انویسٹمنٹ کی جائے گی، گزشتہ 78 سال میں ہمیں ب سے بندوق پڑھایا گیا، اب ہم اپنے جوانوں کو ق سے قلم سکھائیں گے، ہم غیرت مند بھی ہیں اور بہادر بھی لیکن بے وقوف نہیں ہیں،خیبر پختونخوا کے عوام ہر اس پالیسی سے بغاوت کریں گے جس میں ہمارا نقصان ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ نیشنل میڈیا ہے یا ن لیگ کا میڈیا ہے، نیشنل میڈیا پختونخوا کے عوام کو اپنا نہیں سمجھتا،5ہزار ارب روپے ہڑپ کرنے والوں کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوتا، میں نے وادی تیراہ متاثرین کے لئے4ارب روپے ریلیز کیے تو4دن تک میرے خلاف میڈیا پر مسلسل پروگرام کیے گئے، خیبر پختونخوا کے عوام کے مظالم میڈیا نہیں دکھاتا، نیشنل میڈیا سچ نہیں دکھا سکتا تو کم از کم جھوٹ بھی نہ دکھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے تمام آئینی قدم اٹھائے لیکن ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی، اگر آئینی اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی تو احتجاج ہوگا، فیصلے اسلام آباد یا پنڈی سے نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے مفاد میں ہوں گے، صوبائی حکومت عمران خان کے وژن اور پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق فیصلے کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ناحق قید کیا گیا، بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں، عمران خان کی صحت کے باوجود ذاتی ڈاکٹروں کو رسائی نہیں دی گئی، ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کو 12 سے زائد بار اڈیالہ جیل جاتے ہوئے روکا گیا، میرے پاسپورٹ کو اسٹاپ لسٹ میں ڈالا گیا، آئینی عہدے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔

خیبر پختونخوا پاکستان کی فیڈریٹنگ یونٹ ہے مگر وزیراعلیٰ کے ساتھ غیر مساوی رویہ جاری ہے۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ کے ساتھ یہ ہو رہا ہے تو عوام کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ وکیل علی زمان پر تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

صوبائی حکومت خیبر پختونخوا میں تعلیم کو نیا رخ دینے جا رہی ہے، فرسودہ تعلیمی نظام سے بے روزگاروں کی فوج پیدا ہورہی ہے، صوبائی حکومت جدید تعلیم کی طرف پیش رفت کر رہی ہے۔