ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے سے متعلق پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات معطل

اسلام آبادہائی کورٹ نے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے سے متعلق پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات معطل کر دیے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے ایف بی آر کی درخواست پر پی آئی سی آرڈرز پر حکم امتناع جاری کیا ، جس میں عدالت نے قرار دیا کہ مالیاتی راز داری حقِ معلومات پر فوقیت رکھتی ہے، حقِ معلومات ایکٹ کے تحت بھی ٹیکس ریکارڈ ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے کہ ایف بی آر نے پی آئی سی کی جانب سے ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا فراہم کرنے کے آرڈرز کو چیلنج کیا تھا جب کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے اس سلسلے میں 8جنوری 2026ء اور3دسمبر 2025ء کو احکامات جاری کیے تھے ۔

دورانِ سماعت ایف بی آر کی جانب سے سینئر قانون دان حافظ احسان کھوکھر ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 216دیگر تمام قوانین پر بالادست، ٹیکس دہندگان کی معلومات افشا کرنے پر مکمل قانونی پابندی ہے۔

ایف بی آر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹیکس دہندگان کی شناخت ظاہر کرنا بھی قانون کی خلاف ورزی ہے، پی آئی سی نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ قانون میں فراہم کی گئی یہ رازداری اتفاقی یا صوابدیدی نہیں بلکہ ایک دانستہ قانون سازی کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد ٹیکس دہندگان کی معلومات کا تحفظ، ٹیکس نظام پر اعتماد کی بحالی اور حساس مالیاتی ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔

وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ پی آئی سی کا آرڈر ٹیکس دہندگان کی رازداری کے تحفظ کے لیے بنائے گئے خصوصی مالیاتی قوانین سے براہِ راست متصادم ہے۔بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات معطل کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کردیا۔