بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف جنگی حکمتِ عملی اور اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی پالیسی مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں سابق را چیف نے کھل کر کہا کہ نہ تو فوجی محاذ آرائی اور نہ ہی پاکستان کو سفارتی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوششیں بھارت کے کسی کام آ سکیں۔
انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جوہری طاقتوں، پاکستان اور بھارت، کے درمیان مسائل کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات ہیں۔
سابق را چیف کا مزید کہنا تھا کہ بار بار کی فوجی جارحیت اور سخت گیر پالیسیوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا بلکہ اس سے دونوں ممالک کشیدگی کا شکار ہوئے ہیں جس کا نقصان پورے خطے کو پہنچ رہا ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان نے بھارت کے خلاف معرکہ حق کی تاریخی فتح کا جشن منایا ہے۔
مبصرین کے مطابق دلت کا یہ اعتراف بھارت کی مودی سرکار کی اس سخت گیر سوچ کے لیے بڑا دھچکا ہے جس میں پاکستان مخالف پالیسی کو طاقت کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔
بھارت میں را کے سابق چیف کے ان خیالات پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض حلقوں نے انہیں حقیقت پسند قرار دیا جبکہ قوم پرست عناصر نے ان پر پاکستان کے حوالے سے نرم مؤقف اختیار کرنے کا الزام لگایا۔
واضح رہے کہ اے ایس دلت سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں را کے سربراہ رہے اور کشمیر امور میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

