غزہ کے جنگ زدہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اسرائیل کی طرف سے غزہ کے مسلسل غیرانسانی محاصرے کے خلاف درجنوں کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا ترکیہ سے ایک بار پھر غزہ کی جانب روانہ کیا گیا ہے۔
یہ بات فلوٹیلا کے منتظمین نے مغربی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتائی ہے۔
ترکیہ کی بین الاقوامی صمود فلوٹیلا کی مقامی شاخ کی کمیٹی کے رکن گورم دورو کے مطابق اس فلوٹیلا میں بھی تقریبا 50 کشتیاں شامل ہیں اور یہ ترکیہ کے جنوب مغربی حصے سے روانہ ہوئیں۔اس فلوٹیلا کو مزید چار یا پانچ جہاز راستے میں آملیں گے، اب یہ سب غزہ کی جانب رواں دواں ہیں۔
بین الاقوامی صمود فلوٹیلا کی طرف سے اہل غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک سال کے دوران یہ اب تک کا تیسرا فلوٹیلا ہے۔ اس سلسلے کے پہلے دو فلوٹیلا میں بھی انسانی حقوق تنظیموں کے نمائندے، وکلا، پارلیمنٹ کے ارکان اور سول سوسائٹی کے نمائدے شرکت کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی صحت پر تشویش، اپوزیشن لیڈر نے ملاقات کا بھی مطالبہ کردیا
تاہم ہر بار اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں ہی ان فلوٹیلاز کو روک کر ان پر سوار انسانی حقوق کارکنوں کو حراست میں لیا اور اہل غزہ کے لیے اٹھنے والی اس انسانی آواز کو بھی دبانے کی کوشش کی۔ اب پچھلا فلوٹیلا 30 اپریل کو اسی اسرائیلی کارروائی کا نشانہ بنا تھا۔ اس پر سوار انسانی حقوق کارکنوں کو دس روز تک اسرائیلی فوج نے حراست میں رکھا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی فوج کی اس کارروائی کو بھی غیرقانونی اور جارحانہ قرار دیا تھا۔ اسرائیل ان الزمات کی پروا نہیں کرتا کہ وہ بین لاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے بلکہ وہ اپنی یہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

