دوسری قسط:
زیادہ تفصیل میں جائے بغیر صرف لکشمی چوک کی بٹ کڑاہی کو لے لیں، اصلی بٹ کڑاہی پر دیسی گھی میں بنی دیسی مرغی کی بہترین کڑاہی کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ بٹ کڑاہی پر چاہے دیسی مرغ ہو یا مٹن، کڑاہی لاجواب بنتی ہے۔ یہ لاہور کی فخریہ پیش کش ہے۔ بٹ یا نیو بٹ کڑاہی کے سامنے دو تین ڈھابے سے ہیں، بھٹی ٹکیوں کے۔ دال چکن کے آمیزے سے بنی یہ ٹکیاں مکھن میں تلی جاتی ہیں، ساتھ توے والی روٹیاں ملتی ہیں۔ کیا بات ہے۔ یہیں پر ٹکاٹک بھی ملتا ہے، دل گردہ، وغیرہ وغیرہ۔ کاکا ٹکا ٹک والا مشہور ہے، اس کے دو تین سپاٹ ہیں۔ ویسے ٹکا ٹک میں سمن آباد چھوٹی مارکیٹ کا ریاض کیفے بھی پرانا اور مشہور ہے۔ ویسے باذوق لوگ تو ملک ہوٹل کے قورمے کے دلدادہ ہیں۔ بعض جگہوں پر دیگی سالن بھی ملتا ہے۔ جی پی او سے لکشمی جانے والی روڈ پر ایک بلڈنگ کے اندر دوپہر کو مٹن قورمے، قیمہ، پالک کا دیگی کھانا ملتا ہے۔ دیگی کھانے کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہوتا ہے۔ لکشمی چوک سے نسبت روڈ میو ہسپتال کی طرف جاتی ہے، نسبت چوک پر بائیں طرف ہریسے کی دوتین دکانیں ہیں، سب کا دعویٰ ہے کہ یہی اصل حاجی صاحب کی ہریسے کی دکان ہے جو ساٹھ سال سے قائم ہے۔ آپ نے صرف اسے چننا ہے جس پر بہت رش ہو، ویسے آخری دکان ہے وہ۔
ہریسہ معروف کشمیری ڈش ہے، جس نے نہیں کھائی، وہ محروم رہا۔ مٹن ہریسہ، بیف ہریسہ دونوں میں سے کوئی بھی ٹرائی کر لیں۔ ہریسہ کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہے۔ تلوں والے تازہ تازہ تنور سے اترے کلچوں کے ساتھ ہریسہ کھائیں۔ اگر آپ خوش نصیب ہیں اور لاہور کی کسی اصلی کشمیری فیملی آپ کو اپنے گھر کا بنا ہریسہ کھلائے تو یوں سمجھ لیں ارضی جنت کا پکوان مل گیا، مگر گوالمنڈی نسبت چوک کا ہریسہ بھی اچھا ہے۔
لاہور میں بریانی کے نام سے کراچی والے ہرگز دھوکا نہ کھائیں۔ اہل پنجاب بریانی کی اصل شکل اور ریسیپی سے واقف ہی نہیں یا یہ کہہ لیں کہ وہ ہونا نہیں چاہتے۔ ان کے نزدیک تین چار قسم کے چاول ہیں۔ سادہ ابلے چاول جن پر پتلی پیلی دال ڈال کر کھائی جاتی ہے، دوسرا کم مرچ والا پلا واور تیسرا بریانی یا پھر گڑوالے چاول، زردہ وغیرہ۔ وہ چاولوں میں مسالے ٹھوک کر اور اسے رنگین بنا کر سمجھتے ہیں کہ بریانی بنا دی۔ بہتر یہی ہے کہ بریانی اپنے شہر کراچی ہی سے کھائیں۔ لاہور سے دال چاول ٹرائی کر لیں، لکشمی سے تھوڑا پہلے منا کے دال چاول مشہور ہیں۔ ہال روڈ میں ایک بہت مشہور جگہ ہے وقاص بریانی، وہ بریانی تو ہرگز نہیں پلاؤ ہے سیدھا سادا، مگر بہت مزے کا ہے اور جتنا اچھا نرم، خستہ چکن پیس اس کا ہے وہ شرطیہ آپ نے زندگی بھر نہیں کھایا ہوگا۔ وقاص بریانی پر بے پناہ رش ہوتا ہے، بے شمار دیگیں آتی ہیں اور چند منٹوں میں ختم۔ اب تو وہاں بیٹھنے کی جگہ مل گئی ہے۔ ہال روڈ مشہور الیکٹرانکس کی مارکیٹ ہے، اس میں آگے کر کے یہ آتی ہے، بیڈن روڈ سے بھی راستہ آتا ہے۔ اسی نام سے ایک فیک دکان موجود ہے، اسے نظرانداز کر دیں، جہاں بے پناہ رش ہو، وہاں جائیں۔ یہ کھانا کبھی نہیں بھولیں گے۔
ماڈل ٹاؤن ڈی بلاک میں بھیا کے کباب ضرور ٹرائی کریں۔ ایسے عمدہ خستہ، شاندار بیف کباب آپ نے کبھی نہیں کھائے ہوں گے۔ خالص قیمہ بغیر کسی آمیزش کے۔ انگلی جتنے کباب ہوتے ہیں، آپ درجن آرام سے کھا سکتے ہیں، مجال ہے کہ ہلکا سا بھی بوجھ یا معدے پر گرانی محسوس ہو۔ یہ بھی لاہور کی ایک نمائندہ ڈش ہے۔ کراچی میں لاجواب کباب ملتے ہیں مگر لاہور میں بھیا کے کباب بھی بہرحال کم نہیں۔ کراچی والوں کو چاہیے کہ بریانی کی طرح نہاری بھی اپنے شہر ہی کی کھائیں، کیونکہ انہیں لاہوری نہاری پسند نہیں آئے گی۔ اس لیے نہیں کہ یہ اچھی نہیں بلکہ اس لیے کہ اہل کراچی کا نہاری کا ٹیسٹ الگ سے ڈویلپ ہوچکا ہے اور لاہوریوں کو کراچی والی نہاری پسند نہیں آتی۔ میرے حساب سے مزنگ کی محمدی نہاری نمبر ون ہے، ان کا شیرمال اور تافتان بھی شاندار ہے۔ وارث نہاری مشہور ہے، بعض کو وہ زیادہ پسند ہے، کچھ لوگ لوہاری دروازے میں جا کر دلی والے حاجی صاحب کی نہاری بھی کھاتے ہیں۔
ہمارا مشورہ کراچوی حضرات کے لئے وہی ہے جو اوپر دیا۔ تکہ باربی بی کیو کی بھی خاصی ورائٹی ہے۔ گوجرانوالہ کا مشہور شہباز تکہ جوہر ٹاؤن میں ہے، کئی جگہوں پر غنی شنواری ہوٹل وغیرہ بھی۔ اصلی الیاس کا ٹرک اڈے دبنہ کڑاہی کے سپاٹ بھی دو تین جگہوں پر ہیں۔ ٹرک اڈے غنی کا روش بھی مشہور ہے۔ (جاری ہے)

