لاہور:وزیرآباد کی عدالت نے پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان پر وزیر آباد حملے کے مجرم محمد نوید کو غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے ایک اور الزام میں4سال قید کی سزاسنادی۔
رپورٹ کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ فضل الٰہی نے مجرم کو پنجاب آرمز (ترمیم شدہ)آرڈیننس2015 ء کے تحت مجرم قراردیا۔ایف آئی آر نمبر 742/2022 سے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد مجسٹریٹ نے چار سال کی سادہ قید کے ساتھ ساتھ 40,000 روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
مجسٹریٹ نے ہدایت کی کہ یہ سزا کسی بھی دیگر سزائوں کے ساتھ ساتھ چلائی جائے گی جو مجرم دوسرے فوجداری مقدمات میں کاٹ رہا ہو جو اس کے جیل میں داخل ہونے کی تاریخ سے لاگو ہو گا۔
عدالت کی جانب سے 2 فروری کو جاری ہونے والے سزا کے وارنٹ کے مطابق، سینٹرل جیل گوجرانوالہ کے سپرنٹنڈنٹ کو چار سال کی سزا پر عمل درآمد شروع کرنے کے لیے محمد نوید کو تحویل میں لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔
اپریل 2025 ء میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 302بی کے تحت محمد نوید کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
3 نومبر 2022 ء کو پنجاب کے علاقے وزیر آباد میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران مسلح شخص کی فائرنگ سے سابق وزیر اعظم عمران خان، سینیٹر فیصل جاوید اور متعدد افراد زخمی ہوئے جب کہ ایک کارکن جان کی بازی ہار گیا تھا۔
پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین نے اس وقت کی اتحادی حکومت پی ڈی ایم اور کچھ سرکاری عہدیداروں پر حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا، تاہم پولیس کی جانب سے واقعے کی ایف آئی آر جائے وقوعہ سے گرفتار کیے گئے محمد نوید اور دیگر نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لی گئی۔

