جنیوا:عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منگل کے روز دنیا بھر میں جاری 36 بدترین انسانی بحرانوں—جن میں غزہ، سوڈان، ہیٹی اور جمہوریہ کانگو شامل ہیں—سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی ہنگامی اپیل جاری کر دی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے کے مطابق رواں سال دنیا بھر میں 23 کروڑ 90 لاکھ افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہوگی، جبکہ مطلوبہ فنڈز سے بنیادی صحت کی سہولیات کو فعال رکھا جا سکے گا۔
ڈبلیو ایچ او کے شعبۂ صحت ہنگامی حالات کے سربراہ چِک وے ایہیکویازو نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ
“تقریباً پچیس کروڑ افراد ایسے انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں جو ان سے زندگی کی بنیادی سہولتیں—جیسے تحفظ، رہائش اور صحت کی دیکھ بھال—چھین لیتے ہیں۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ ان حالات میں صحت کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، چاہے وہ زخمی افراد ہوں، وبائی امراض، غذائی قلت یا علاج کے بغیر رہ جانے والی دائمی بیماریاں۔
“لیکن افسوسناک طور پر علاج تک رسائی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔”
ڈبلیو ایچ او کی یہ اپیل گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہے، جس کی وجہ عالمی سطح پر امدادی فنڈنگ میں کمی بتائی گئی ہے۔
امریکا، جو روایتی طور پر عالمی ادارۂ صحت کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ رہا ہے، نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں غیر ملکی امداد میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں دوبارہ عہدہ سنبھالتے ہی ڈبلیو ایچ او سے ایک سالہ علیحدگی کا نوٹس بھی جاری کر دیا تھا۔
گزشتہ سال عالمی ادارۂ صحت نے ڈیڑھ ارب ڈالر کی اپیل کی تھی، تاہم صرف 90 کروڑ ڈالر ہی دستیاب ہو سکے۔
ایہیکویازو کے مطابق ادارہ اس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہے کہ اب امدادی وسائل کے حصول کی گنجائش پہلے جیسی نہیں رہی۔
“اسی لیے ہم نے اپنی اپیل کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر ترتیب دیا ہے، تاکہ دستیاب وسائل کے مطابق زیادہ سے زیادہ جانیں بچائی جا سکیں،” انہوں نے کہا۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ 2026 میں وہ اعلیٰ اثر رکھنے والی صحت سہولیات کو ترجیح دے گا اور کم اثر سرگرمیوں میں کمی کرے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ انسانی جانیں محفوظ بنائی جا سکیں۔
ادارے کے مطابق گزشتہ سال عالمی فنڈنگ میں کٹوتیوں کے باعث 22 انسانی بحران زدہ علاقوں میں 6,700 صحت مراکز یا تو بند ہو گئے یا ان کی خدمات محدود کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں 5 کروڑ 30 لاکھ افراد صحت کی سہولیات سے محروم ہو گئے۔
ایہیکویازو نے کہا کہ
“کنارے پر زندگی گزارنے والے خاندانوں کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ خوراک خریدیں یا دوا—جبکہ کسی کو بھی ایسے فیصلے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔”
آخر میں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ
“آج ہم ممالک اور عوام کے بہتر شعور سے رجوع کر رہے ہیں اور ایک صحت مند اور محفوظ دنیا میں سرمایہ کاری کی درخواست کر رہے ہیں۔”

