(ادارہ” الکہف” گجرانوالہ میں خطاب)
سیاست کسے کہتے ہیں؟ اور پھر سیاست کا ہمارا اْصول کیا ہے، اہلِ دین کا؟ اور آج کی دنیا کا اصول کیا ہے؟ یہ تو بنیادی دو چیزیں میں آج عرض کرنا چاہوں گا۔ پھر کبھی موقع ملا تو اِن میں تضادات کیا ہیں، تقاضے کیا ہیں، اس میں تعارض کیا ہے، کشمکش کیا ہے، امکانات کیا ہیں، اور مستقبل کیا ہے؟ یہ بھی ایک مستقل موضوع ہے، کبھی موقع ملا تو اس پر بھی عرض کروں گا۔
سیاست کہتے ہیں معاشرے کے اجتماعی نظام کو چلانا اور اس کے لیے محنت کرنا۔ ریاست، معاشرے کے، سوسائٹی کے اجتماعی ماحول کو کنٹرول کرنا، چلانا، اس کے لیے محنت کرنا، یہ سادہ سی تعریف ہے سیاست کی۔ ویسے تو سیاست کی بہت لمبی چوڑی تعریفیں کی گئی ہیں۔ معاشرے کے نظام کو چلانا، اس کے لیے اپنے اصول وضع کرنا، اس کے لیے محنت کرنا، اس کے لیے نظام میں آگے بڑھنا، سیاست یہ ہے۔
پہلے نمبر پر میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمارا نظام کیا ہے۔ شروع سے چلا آ رہا ہے۔ اللہ رب العزت نے زمین پر انسانی نسل کی آبادی کا آغاز کیسے کیا تھا؟ قرآن پاک اس کو بیان فرماتا ہے کہ آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام، میاں بیوی۔ ”اسکن انت و زوجک الجنہ” (البقرہ)۔ میاں بیوی تو جنت میں ہی تھے۔ وہاں سے زمین پر اتارے۔ ”اھبطوا منھا جمیعا” (البقرہ)۔ ”اھبطا منھا جمیعا” (طہ)۔ آدم علیہ السلام کو اور حوا علیہا السلام کو جنت سے زمین پہ اتارا گیا۔ نقطہ آغاز یہ ہے۔
اْس وقت اللہ رب العزت نے اس جوڑے کو دو تین باتیں بنیادی طور پر فرمائی تھیں۔ ایک یہ ”ولکم فی الارض مستقر ومتاع الیٰ حین” (الاعراف )۔ زمین میں مستقر بھی ہو گا، رہنے کی جگہ ہو گی۔ ” متاع” زندگی کے اسباب بھی ہوں گے، جو زندگی کی ضروریات ہیں، ملیں گی۔ اور لمیٹڈ ہوں گی ”الیٰ حین” ایک وقت تک۔ یہ تین باتیں زمین پہ اتارتے ہوئے اللہ پاک نے فرمایا۔ آج کی زبان میں اللہ پاک نے فرمایا: جاؤ زمین پہ رہو، روٹی، کپڑا، مکان ملے گا۔ اللہ رب العزت نے اتارتے ہی ساتھ ہی فرما دیا ”مستقر” بھی ہو گا، ”متاع” بھی ہو گا، لیکن ہو گا ”الیٰ حین”۔ ایک بات اور بھی فرمائی ”بعضکم لبعض عدو” (الاعراف )۔ جتنا عرصہ بھی زمین پہ رہو گے ایک دوسرے سے لڑتے رہو گے۔
یہ اللہ پاک نے چار باتیں پہلے دن فرما دی تھیں۔ لڑتے رہو گے، اور کھانا پینا ملے گا، ٹھکانہ ملے گا۔ ایک وقت ہو گا۔ ایک فرد کا ”حین” ہے ساٹھ، ستر، اَسی سال۔ ایک انسانیت کا ”حین” ہے قیامت تک۔ وہ بتایا نہیں۔ نہ یہ بتایا ہے، نہ وہ بتایا ہے۔ یہ باتیں فرما کر اللہ پاک نے فرمایا کہ مقصد کیا ہے، کیوں اتارا ہے تمہیں، دنیا میں کرنا کیا ہے؟ اس کو دوسرے لفظوں میں، انسانی سماج کا ایجنڈا کیا ہے؟ ”فاما یاتینکم منی ھدیً فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون۔ والذین کفروا وکذبوا باٰیاتنا اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون” (البقرہ)۔ ہدایات میری طرف سے آئیں گی، اپنی مرضی نہیں کرنی۔ ڈائریکشن میں دوں گا، ہدایات میری طرف سے آئیں گی، اْن ہدایات کی پابندی ضروری ہو گی۔ ایجنڈا میں دوں گا۔ آج کی زبان میں، تمہیں دنیا میں رہ کر کرنا کیا ہے؟ ایجنڈا میں دوں گا۔ ہدایات ہوں گی اور ان ہدایات کی پابندی ضروری ہو گی۔ جو اْن ہدایات کی پابندی کرے گا وہ واپس آئے گا اپنے پرانے گھر میں۔ اور جو نہیں کرے گا وہ دوسرے گھر میں جائے گا۔ یہ سادہ سی، بنیادی بات، انسانی سماج، جس کا آغاز جوڑے سے ہوا تھا۔
درمیان میں ایک بات اور کہہ دوں۔ یہ ایک مستقل جھگڑا ہے ہمارا فلسفے کا اور تاریخ کا کہ انسانی معاشرے کی، سماج کی بنیاد فرد پر ہے یا فیملی پر ہے۔ زیرو پوائنٹ فرد ہے یا فیملی؟ میں گزارش کیا کرتا ہوں کہ فرد نہیں، فیملی ہے۔ مغرب کا فلسفہ یہ کہتا ہے کہ فرد نقطۂ آغاز ہے، اس لیے وہ سارا نظام فرد کے گرد گھماتا ہے۔ انڈویجوئلزم۔ مغربی فلسفے کی بنیاد کیا ہے کہ انسانی سوسائٹی کا نقطہ آغاز کیا ہے؟ فرد۔ فرد کی آزادی، فرد کے حقوق، اس کو انڈویجوئلزم کہتے ہیں۔ اور کہتے ہیں وہاں سے آغاز ہوا تھا، پورے مغربی فلسفے کا مدار فرد کی آزادی، فرد کے حقوق، فرد کے اختیارات پر ہے۔ لیکن ہمارا آغاز، قرآن پاک ہمیں بتاتا ہے کہ فرد سے نہیں، فیملی سے آغاز ہوا تھا۔ اس لیے ہم فیملی کے حوالے سے، اجتماعیت کے حوالے سے ساری باتیں سوچتے ہیں اور سب کچھ کرتے ہیں۔ ایک بنیادی فرق تو یہ ہے کہ فیملی آئی تھی۔
فرمایا ”اما یاتینکم منی ھدیً”۔ ہدایات میری طرف سے آئیں گی، ڈائریکشن میں دوں گا، اس کی پابندی ضروری ہو گی۔ ”فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون والذین کفروا وکذبوا باٰیاتنا اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون”۔ یہ انسانی سماج کا آغاز ہے اور اللہ پاک نے پہلے دن بتا دیا تھا کہ دنیا میں جو کچھ کرنا ہے وہ میری ہدایات کے مطابق کرنا ہے۔ اب اس پر یہ اصول قائم ہوا کہ دنیا میں انسان، فرد ہو، فیملی ہو، سوسائٹی ہو، ریاست ہو، وہ پابند ہیں کس کے؟ ”امایاتینکم من ھدیً”۔ پابند ہیں۔ قرآن پاک پورے سماج کو پابند بناتا ہے۔
وہ ھدیً کیا ہے؟ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوٰة والتسلیمات اللہ کی طرف سے ہدایات لے کر آتے رہے اور جس کو مکمل کیا قرآن پاک نے۔ آسمانی تعلیمات کا، آسمانی ہدایات کا فائنل ایڈیشن کیا ہے؟ قرآن پاک۔ اس لیے قرآن پاک نے اپنا تعارف ہی اس لفظ سے کروایا ہے ”ذٰلک الکتاب لا ریب فیہ ھدیً للمتقین” (البقرہ)۔ وہ ھدیً جو تھا نا، وہ یہ ہے۔ اس کا فائنل ایڈیشن، آخری مکمل ایڈیشن قرآن پاک۔
اس لیے ہمارے ہاں ہر نظام کی بنیاد وحی ہے۔ ایک جگہ اللہ رب العزت نے۔ یہ سارا جو فکری اور فلسفیانہ کشمکش ہے نا، دو تین جملوں میں اللہ پاک نے سارا منظر بیان کیا ہے۔ اصل موجودہ کشمکش شروع سے چلی آ رہی ہے۔ وہ کیا ہے؟ ”ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس ولقد جاء ھم من ربھم الھدیٰ” (النجم )۔ فرمایا، یہ دو چیزوں کی پیروی کرتے ہیں: گمان کیا ہے اور خواہش کیا ہے؟ اس کا سادہ ترجمہ، ہم سوچتے کیا ہیں، چاہتے کیا ہیں، یہ آج کے فلسفے کی بنیاد ہے۔ ”ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس”۔ دو چیزیں بنیاد ہیں، ہم سوچتے کیا ہیں اور ہم چاہتے کیا ہیں۔ فرمایا، یہ تمہاری بات ہے۔ ”ولقد جاء ھم من ربھم الھدیٰ”۔ ہدایت اللہ کی طرف سے ہے۔ یعنی ہدایت والا نظام وحی کی بنیاد پر ہے۔ اور باقی نظام سوچ کی بنیاد پر، خواہش کی بنیاد پر ہیں۔
آج پوری دنیا کا یہ جو آزاد نظام کہلاتا ہے اور ڈیموکریسی کہلاتی ہے۔ انسان سوچتا کیا ہے؟ سوسائٹی کیا سوچتی ہے، سوسائٹی کیا چاہتی ہے؟ ووٹ اور الیکشن تو صرف سوسائٹی کی خواہش معلوم کرنے کا ذریعہ ہے۔ ووٹ خود کوئی نظام نہیں ہے۔ ووٹ صرف ایک کام کرتا ہے کہ سوسائٹی کیا چاہتی ہے، یہ بتاتا ہے، سوسائٹی کیا سوچتی ہے، یہ بتاتا ہے۔ ووٹ کا اتنا ہی کردار ہے اور اس سے زیادہ کوئی کردار نہیں ہے۔ سوسائٹی جو چاہتی ہے اور سوسائٹی جو سوچتی ہے۔ ”ظن”۔
ایک مغالطہ تھوڑا سا اور دور کر دوں۔ ظن کیا ہے؟ عقل کی بنیاد پر جو بات بھی آپ کریں گے۔ ذرا ایک بات نوٹ فرما لیں۔ عقل فرد کی ہو، سوسائٹی کی ہو، یا نسل کی ہو، اس کا آخری نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ جس چیز کے بعد مزید کا امکان ہو وہ یقین تو نہیں ہوتا۔ ظن اور یقین میں کیا فرق ہے؟ اور یقین کہاں سے آتا ہے؟ ظن کہاں رک جاتا ہے؟ ایک انسان سوچے، یا پارلیمنٹ سوچے، یا طبقہ سوچے، جو بھی سوچے گا، اس سے آگے سوچنے کا امکان باقی رہتا ہے یا نہیں رہتا؟ اگر آگے سوچنے کا امکان باقی ہے تو یہ یقین نہیں ہے۔ ظنِ غالب ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں، تمہارے فیصلے عقل پر ہوتے ہیں، خواہش پر ہوتے ہیں، ہدایت میری طرف سے آتی ہے۔ (جاری ہے)

