تاریخِ اسرائیل … میک موہن حسین خط و کتابت

جنگ عظیمِ اوّل میں جرمنی طرف سے جب عثمانی ترک بھی جنگ شامل ہوئے تو حکومتِ جرمنی اس وقت شکست کی جانب گامزن تھی۔ برطانویوں کو اس بات کا پہلے سے احساس تھا کہ عرب آبادی تُرک عثمانیوں سے تنگ آچکی ہے۔ اس لیے 1915ء میں قاہرہ میںمتعین برطانوی ہائی کمشنر ہنری میک موہن نے ترک حکومت کے حجاز و جدہ کے گورنر عرب ہاشمی لیڈر حسین ہاشمی کو لکھا کہ وہ عثمانی خلافت کے خلا ف بغاوت کا راستہ اختیارکرے۔ (مغرب اپنے سفیروںکو کس طرح اسلامی مملکتوں کے عدم استحکام کے خلاف استعمال کرتا ہے، یہ واقعہ اس کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے)

جوابی خط میں شریف حسین نے برطانیہ سے عہد لیا کہ ان باغیانہ اقدامات کے لیے برطانیہ اسے مالی و سیاسی دونوں لحاظ سے تعاون کرے گا۔ حسین نے خط میں یہ بات بالکل واضح کردی تھی کہ وہ محض ایک آقا کو بدل کر کسی دوسرے آقا کی تبدیلی کی خاطر خلافت ِعثمانیہ سے بغاوت کا راستہ اختیار نہیں کرے گا۔ اس نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ برطانیہ جب تک یہ ذمے داری نہ لے کہ ترکی حکومت کے تحت موجودہ تمام عرب ریاستیں آخرکار آزاد کردی جائیں گی، اس وقت تک اسے کسی دوسری عرب قیادت کی مدد حاصل نہیں ہو سکے گی۔ شریف حسین نے میک موہن کو وضاحت در وضاحت کی خاطر کئی خطوط لکھے۔ (غالباً اسے برطانوی مزاج کا پہلے سے تجربہ تھا) میک موہن اور شریف حسین کے درمیان 16۔ 1915ء کے درمیان ہونے والے تبادلہ خطوط کو ‘حسین، میک موہن خط و کتابت’ کہا جاتا ہے۔ برطانیہ نے حسین کو پیشکش کی تھی کہ اگر اس نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کا پرچم بلند کیا توبرطانیہ شریف حسین کے ماتحت حکومت ِعثمانیہ کے تحت تمام عرب علاقوں میں ایک واحدآزاد عرب حکومت قائم کر دے گا۔

مطمئن ہوکر عثمانیہ حکومت کے حجاز میں نمائندہ عرب گورنر حسین نے خلافت عثمانیہ سے عربوں کی آزادی کی مہم شروع کی۔ اس بغاوت میں فلسطین اور شام کے عرب بھی حصہ دار بن گئے۔ مزید یہ کہ برطانیہ نے عرب علاقوں میں ٹی ای لارنس کو بھی روانہ کیا تاکہ وہ عربوں میں جنگ کا فسوں پھونک سکے۔ اسی شخص کو بعد میں لارنس آف عریبیا کا نام دیا گیا۔ برطانوی افواج کے ساتھ شامل ہوکر عرب جتھے، شریف حسین اور اس کے بیٹوں عبداللہ اور فیصل کی قیادت میں فلسطین اور شام میں داخل ہوگئے جس کا مقابلہ خلافتِ عثمانیہ نہ کر سکی اور وہ ان علاقوں سے دست بردار ہوگئی۔ اکتوبر 1918ء میں برطانیہ اور فرانس نے عربوں کو مکمل و متحدہ خود مختاری دینے کی مزید ضمانت دی۔ عرب اس دعوے پر خوشی سے سرشار ہوگئے۔ ریکارڈ کے مطابق دونوں جانب سے یہ کل دس خطوط لکھے گئے تھے تاکہ بعد میں ایفائے عہد میںکوئی ابہام نہ رہے۔ ان کی تاریخ پہلی جنگ عظیم کے دوران جولائی 1915ء تا مارچ 1916ء تھی۔ یاد ہونا چاہئے کہ اسی کے بعد نومبر 2019ء میں برطانوی وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے یہودی سرمایہ دار بیرن روتھ شیلڈ کو یہودیوں کے لئے فلسطین میں ایک ریاست کا سرکاری وعدہ کیا تھا جسے ا س کے نام پر ‘اعلانِ بالفور’ کہا گیا۔ ان وعدوں کے لحاظ سے شریف حسین نے کھل کر حجاز میں بغاوت کردی اور ریلوے کا نظام تباہ و برباد کر دیا تاکہ عثمانی افواج مکے اور مدینے تک نہ پہنچ سکیں۔ جن حضرات کو مکے مدینے جا نے کا اتفاق ہوتا رہا ہے، انہوںنے دونوں شہروںکے تباہ شدہ ریلوے اسٹیشن ضرور دیکھے ہوں گے۔

تاہم جنگ کے بعد فرانس اور برطانیہ نے شریف حسین کے ساتھ ا پنے وعدوں کی خلاف ورزی کی اور فلسطین میں صیہونیوں کو لابٹھایا۔ ادھرگورنر مکہ، حجاز میں بغاوت میں مصروف تھا۔ ادھر نجد کے حاکم ابن سعود (عبدالعزیز) خود بھی حجاز پر قبضہ کرنے آگے بڑھے تاکہ مکے مدینے کی حکومت شریف حسین کی جگہ خود ان کے قبضے میں آئے جو فی الواقع ایسا ہی ہوا۔ شریف حسین، عبدالعزیز سے شکست کھا گیا اور اسے ملک چھوڑنا پڑا۔ برطانیہ دونوں باغیوں کی سرپرستی کر رہا تھا۔ جب معلوم کیا گیا کہ وہ دونوں طرف کی پاسداری کیوں کر رہا ہے تو اس کا جواب تھا کہ کیونکہ دونوں ہی باغی اس کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ حجاز پر جب ابن سعود کا قبضہ ہوگیا تو شریف حسین کی خدمات کے پیش نظر فلسطین میں سے ایک ٹکڑا بنام اُردن اس کیلئے اور اس کی اولاد کے لئے وقف کر دیا گیا۔ چنانچہ آج بھی وہاں کے حکمران شریف حسین ہی کی اولاد ہیں اور اپنے جد کی مانند خود کو فخر سے ہاشمی کہلاتے ہیں۔

اس تاریخی داستان سے یہ سبق ملتاہے کہ مغربی طاقتیں سدا سے جھوٹ اور پھوٹ ڈالو کی سیاست پر عمل پیرا رہتی ہیں اور اس ضمن میں مسلم قوموں سے کئے گئے بہت سے وعدوں کو بھی پر ِ کاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتیں۔ نیز ان کے سفارت خانے اپنے شیطانی سازشوںکو تکمیل تک پہنچانے کی خاطر متعلقہ ملکوںمیں موجود ہوتے ہوئے بھی انہی ممالک کے خلاف ڈھٹائی سے سازشیں کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف تویہ قوتیں سدا سے ناقابلِ اعتبار رہی ہیں۔