اِسلام کا طرزِ حکومت

دوسری و آخری قسط:
اِس پس منظر میں خلافت کے قیام اور اِسلامی نظام کے سیاسی ڈھانچے کی تشکیل کا واحد ذریعہ رائے عامہ ہے اور اس کی صرف اس لیے نفی کر دینا درست نہیں کہ مغرب کے جمہوری نظام میں بھی حکومت کی تشکیل کے لیے عوامی رائے کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ عوامی اعتماد کے ذریعے حکومت کی تشکیل اور حکومت کے لیے رائے عامہ کے اعتماد کا حاصل ہونا اصل میں اسلام کا اصول ہے، جسے مغرب نے صدیوں بعد اختیار کیا ہے اور وہ اس معاملے میں اسلام کا نقال ہے۔ البتہ جمہوریت کا یہ پہلو اسلامی نقطۂ نظر سے قابل قبول نہیں ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں اور حکومت کو ہر قسم کے فیصلے کرنے کا مطلق اختیار حاصل ہے، کیونکہ اسلام میں حکومت، پارلیمنٹ یا عوام میں سے کسی کو قرآن و سنت کے احکام میں رد و بدل کا حق حاصل نہیں ہے اور عوام اور حکومت دونوں قرآن و سنت کے مقرر کردہ اصولوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے معاملات سرانجام دینے کے مجاز ہیں۔

اِس سلسلے میں سب سے بہترین اسوہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبد العزیز کا ہے جنہیں ان کے پیشرو خلیفہ نے اپنا جانشین نامزد کیا اور وصیت میں اپنے خاندان اور عوام کو ان کی بیعت کر لینے کی تلقین کی تو حضرت عمر بن عبد العزیز نے دمشق کی جامع مسجد میں کھلے بندوں اعلان کیا کہ وہ نامزدگی کے ذریعے خلافت کو قبول نہیں کرتے اور عوام کو ان کا یہ حق واپس کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی مرضی سے جس کو چاہیں، اپنا حکمران چن لیں۔ چنانچہ اس اعلان کے بعد عوام کے اصرار اور تقاضے پر انہوں نے خلافت کا منصب قبول کیا اور پھر جس طریقے سے اسے نبھایا، وہ اسلامی تاریخ کے ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ خلافت راشدہ کا پہلا اُصول عوامی رائے اور اعتماد کے ذریعے حکومت کی تشکیل ہے اور دوسرا اُصول عوام کو حکمرانوں کے احتساب کا حق دینا اور ان کی آزادانہ رائے کے حق کو تسلیم کرنا ہے، جس کا اظہار خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے پہلے خطبہ میں ان الفاظ میں کیا کہ میں تم پر حکمران بنا دیا گیا ہوں، اگر میں سیدھا چلوں تو میرا ساتھ دو اور اگر ٹیڑھا چلوں تو مجھے سیدھا کر دو۔ اور حضرت عمر نے اپنی خلافت کے دوران ایک عوامی خطاب میں لوگوں سے دریافت کیا کہ اگر میں ٹیڑھا چلنے لگوں تو تم کیا کرو گے؟ ایک شخص نے مجمع میں کھڑے ہو کر تلوار لہرا کر کہا کہ اگر تم ٹیڑھے چلو گے تو ہم اس تلوار کے ساتھ تمہیں سیدھا کر دیں گے۔ اس پر حضرت عمر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائے کہ رعیت میں ایسے حوصلہ مند حضرات موجود ہیں جو مجھے سیدھا کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

جبکہ حضرت عثمان نے اپنے دورِ خلافت میں اپنے گورنروں اور خود اپنے خلاف مختلف اطراف سے اٹھنے والی آوازوں پر خود کو حج کے عوامی اجتماع میں احتساب کے لیے پیش کیا بلکہ پیشگی اعلان کرایا کہ جس شخص کو کوئی شکایت ہو وہ حج کے موقع پر منیٰ میں آجائے اور اس کے ساتھ ہی سب گورنروں کو بھی بلا لیا جن کے خلاف منیٰ کے میدان میں عوامی احتساب کی عدالت لگی، جہاں کسی بھی شخص کو امیر المؤمنین یا ان کے کسی بھی افسر کے خلاف شکایت پیش کرنے کی کھلی آزادی تھی۔ لوگوں نے شکایات پیش کیں، اعتراضات سامنے آئے اور جن کے خلاف الزام تھے، انہیں خود عوام کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنا پڑی۔ اس لیے حکمرانوں پر آزادانہ تنقید اور ان کا احتساب عوام کا بنیادی حق ہے، جسے خلافت راشدہ نے نہ صرف تسلیم کیا اور عملاً لوگوں کو یہ حق دیا، بلکہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر نے خود عوام کو دعوت دی کہ اگر وہ کسی موقع پر ٹیڑھا چلنے لگیں تو لوگ انہیں پکڑ کر سیدھا کر دیں۔

خلافت راشدہ کا تیسرا اُصول حکمرانوں اور رعیت کے درمیان معیار زندگی کی یکسانیت اور معاشی لحاظ سے طبقاتی معاشرہ کی نفی ہے جس کا پہلا عملی اظہار اُس وقت ہوا جب خلیفہ اوّل حضرت صدیق اکبر کو منصب خلافت سنبھالنے کے بعد ذاتی کاروبار سے روک دیا گیا اور ان کے لیے بیت المال سے وظیفہ مقرر کیا گیا۔ اس موقع پر حضرت علی کی تجویز پر اصحاب شوریٰ نے طے کیا کہ خلیفہ وقت کو ایک عام شہری کے معیار پر ضروریات زندگی کے لیے بیت المال سے وظیفہ دیا جائے۔ جبکہ حضرت عمر نے خلافت سنبھالتے ہی اپنے گورنروں کو پہلا آرڈر یہ جاری کیا کہ وہ باریک لباس نہیں پہنیں گے، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائیں گے، ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہوں گے اور دروازے پر ڈیوڑھی نہیں بنائیں گے۔ یہ چیزیں اُس دور میں تعیش، معاشرتی امتیاز، پروٹوکول اور پرسٹیج کی علامتیں تھیں اور حضرت عمر کے آرڈر کا مقصد یہ تھا کہ حکمران طبقہ اور عوام کے معیار زندگی میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے، ان کے درمیان پرسٹیج اور پروٹوکول کی کوئی دیوار حائل نہیں ہونی چاہیے اور حکمرانوں کے دلوں میں عوام پر برتری کا کسی بھی درجہ میں احساس پیدا نہیں ہونا چاہیے۔

خلافتِ راشدہ کا چوتھا اُصول قانون کی بالادستی اور عدلیہ کا احترام ہے جس کا اظہار حضرت عمر نے ایک مقدمہ میں اس طرح کیا کہ قاضی نے حضرت عمر کو مقدمہ کے ایک فریق کے طور پر طلب کیا اور ان کی تشریف آوری پر انہیں بیٹھنے کے لیے کہا جبکہ دوسرا فریق کھڑا تھا۔ اس پر حضرت عمر نے ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ قاضی صاحب! آپ نے یہیں سے ناانصافی کا آغاز کر دیا ہے، آپ کو دونوں فریقوں کے ساتھ یکساں سلوک اختیار کرنا چاہیے۔ اور امیر المومنین حضرت علی کے مقدمہ میں جب قاضی شریحہ نے حضرت علی کے حق میں ان کے بیٹے کی گواہی کو مسترد کر دیا تو حضرت علی اس پر اللہ تعالیٰ کے حضور تشکر بجا لائے کہ ان کے دور خلافت میں انصاف اور عدل اپنے اصل معیار پر قائم ہیں۔

خلافت راشدہ کا پانچواں اصول عام لوگوں کی معاشی کفالت اور انہیں روزگار یا ضروریات زندگی کے لیے وظیفہ کی فراہمی ہے جس کے لیے امیر المؤمنین حضرت عمر نے باقاعدہ نظام قائم کیا۔ بے روزگاروں کے وظیفے مقرر کیے، معاشرے کے نادار اور ضرورت مند افراد کی فہرستیں مرتب کی گئیں اور بیت المال کو ان کی کفالت کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ صحیح بات یہ ہے کہ آج مغرب جس ویلفیئر ٹرسٹ کی بات کرتا ہے، اس کا عملی نقشہ سب سے پہلے منظم طور پر حضرت عمر نے پیش فرمایا تھا اور یہ وظیفے اور معاشی کفالت حکومت کی طرف سے احسان کے طور پر نہیں بلکہ سٹیٹ کی ذمہ داری کے اصول پر دیے گئے تھے جس کے بارے میں حضرت عمر کا یہ ارشاد سنہری اصول کی حیثیت رکھتا ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے پر کوئی کتا بھی بھوک سے مر جائے تو اس کے بارے میں عمر قیامت کے دن جواب دہ ہوگا۔ اور یہ سب کچھ صرف اسلامی ریاست کی مسلمان رعایا کے لیے نہیں تھا، بلکہ غیر مسلم رعایا کے لیے بھی معاشی طور پر وہی حقوق تھے، جو ان کے ہم وطن مسلمانوں کو حاصل تھے۔ حضرت عمر نے ایک روز ایک یہودی بوڑھے کو مانگتے دیکھا تو تعجب ہوا اور بلا کر کہا کہ تم مانگ کیوں رہے ہو، کیا تمہیں بیت المال سے وظیفہ نہیں ملتا؟ اس نے کہا ملتا ہے، لیکن مجھے جو سالانہ جزیہ دینا پڑتا ہے، اس کے لیے میرے پاس گنجائش نہیں ہے، اس لیے مانگ رہا ہوں۔ جزیہ اس ٹیکس کو کہتے ہیں جو ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلم رعایا پر فوجی اقدامات سے مستثنیٰ قرار دیے جانے کے عوض عائد کیا جاتا ہے۔ حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا کہ یہ انصاف کی بات نہیں ہے کہ ان لوگوں کی جوانی کی کمائی سے ہم ٹیکس حاصل کریں اور بڑھاپے میں انہیں لوگوں کے دروازوں پر بھیک مانگنے کے لیے چھوڑ دیں۔ اس کے ساتھ ہی حضرت عمر نے یہ حکم جاری کیا کہ جو غیر مسلم بوڑھا ہو جائے اور کمانے کے قابل نہ رہے اسے جزیہ سے مستثنیٰ کر دیا جائے اور بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر کیا جائے۔

اِن گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ ہم جب آج خلافت راشدہ کی بات کرتے ہیں اور اس کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کا صحیح نقشہ بھی لوگوں کے سامنے پیش کریں، اس کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہو جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کریں اور ان کانٹوں کو بھی صاف کریں۔ آج خلافت راشدہ کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ اس کا صحیح تعارف دنیا کے سامنے پیش کیا جائے اور عالم اسلام کی رائے عامہ کو خلافت کی ضرورت، اہمیت اور افادیت کا احساس دلایا جائے۔ اس کے بغیر خالی خلافت کا نعرہ لگا کر ہم اسلام کے اس عادلانہ سیاسی نظام اور ملت اسلامیہ دونوں کے ساتھ ناانصافی کے مرتکب ہوں گے۔