خلافت راشدہ پر گفتگو کے بہت سے پہلو ہیں۔ میرے نزدیک آج کے عالمی حالات اور دنیائے اسلام کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے خلافت راشدہ پر گفتگو دو پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے انتہائی ضروری ہے اور علمائے کرام اور اہل دانش کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان دونوں پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں اور ذہنی توانائیوں کو استعمال میں لائیں۔
ایک پہلو یہ ہے کہ خلافت کے ادارے کی ملت اسلامیہ کے لیے اہمیت کیا ہے اور آج کے حالات میں اس کی اہمیت میں کس قدر اضافہ ہو چکا ہے؟ اس کا اندازہ آپ صرف ایک بات سے لگا سکتے ہیں کہ 1924ء تک ترکی میں خلافت کا ادارہ جیسا کیسا بھی موجود تھا، اگرچہ اس پر اسلامی خلافت کی شرائط اور اصولوں کا پوری طرح اطلاق بھی بہت سے اہل علم کے نزدیک محل نظر رہا ہے، اور اس کی عسکری قوت اور سیاسی وزن بھی معاصر قوتوں کے تناظر میں اپنا مقام کھو چکا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ کمزور ترین اور ڈھیلی ڈھالی خلافت بھی عالم اسلام کے مفادات کی اس حد تک نگہبان ضرور تھی کہ اس کی موجودگی میں فلسطین میں یہودیوں کو بسانے اور اسرائیل کی ریاست قائم کرنے کا کوئی منصوبہ کامیابی کی راہ نہیں پا رہا تھا۔ خلافت عثمانیہ نے یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کی اجازت دینے سے قطعی انکار کر رکھا تھا اور خلافت عثمانیہ کے ایک صوبے کی حیثیت سے فلسطین میں یہودیوں کو زمین کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں تھی۔ اسی طرح مشرق وسطیٰ کے تیل کے وسیع ذخائر پر مغربی کمپنیوں اور ممالک کا کنٹرول اور بالادستی بھی خلافت کی موجودگی میں موجودہ صورت میں ممکن نہیں تھی۔ ان دونوں مقاصد کے لیے خلافت کے رہے سہے ادارے کو سبوتاڑ کرنا ضروری سمجھا گیا، اور اس کے لیے ترکی اور عرب دونوں خطوں میں نیشنلزم کی عصبیتوں کو ابھار کر خود مسلمانوں کے ہاتھوں خلافت کا تیاپانچہ کر دیا گیا۔
تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا دعویٰ ہے کہ اگر خلافت کا ادارہ کسی درجہ میں بھی موجود رہتا اور اسے ختم نہ کر دیا گیا ہوتا تو نہ اسرائیل وجود میں آتا اور نہ ہی مشرق وسطیٰ کے تیل کے وسائل اس شکل میں مغرب کے کنٹرول میں چلے جاتے، جو شکل آج اس معاملہ میں عرب ملکوں کی بے بسی اور لاچاری کی صورت میں سب کو نظر آ رہی ہے۔ یہ خلافت کے ادارے کے خاتمے ہی کا نتیجہ ہے کہ آج کشمیر، فلسطین یا عالم اسلام کے کسی بھی مسئلہ پر عالمی سطح پر مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرنے والا کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں، جو آزادی کے ساتھ بات کر سکے اور مغرب کے مسلط کردہ بین الاقوامی نیٹ ورک کے شکنجے سے باہر رہ کر عالم اسلام اور ملت اسلامیہ کے مفادات کے لیے آواز اٹھا سکے۔ اس لیے خلافت کا قیام اور اس ادارے کی بحالی ہماری صرف دینی ذمہ داری نہیں، بلکہ ملی ضرورت اور اجتماعی تقاضا بھی ہے، جس کی طرف سنجیدہ توجہ دیے بغیر ہم عالم اسلام کے اتحاد اور ملت اسلامیہ کی مرکزیت کی طرف کوئی عملی قدم نہیں بڑھا سکتے۔
خلافت عثمانیہ کے حوالے سے بات کرنے کا مطلب عثمانی خلفاء کا دفاع نہیں ہے، کیونکہ عثمانی خلفاء نے جو خاندانی بادشاہت کا نظام قائم کر رکھا تھا، میں اسے اسلام کا سیاسی نظام نہیں سمجھتا اور سلطان عبد الحمید ثانی مرحوم اور ان جیسے دو تین اور باغیرت عثمانی خلفاء کو چھوڑ کر آخری دور کے باقی عثمانی خلفاء نے مغرب کے ساتھ تعلقات اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جو کچھ کیا ہے، وہ بھی اسلامی حمیت و غیرت کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا لیکن اس سب کچھ کے باوجود ”یورپ کا یہ مرد بیمار” بستر مرگ پر بھی عالم اسلام کے خلاف بہت سی سازشوں کی راہ میں رکاوٹ تھا اور اسی لیے اسے بستر مرگ پر نیشنلزم کے زہر کا ٹیکا لگانے کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔ میرا عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس حالت میں بھی خلافت کا ادارہ عالم اسلام کی مرکزیت کا بھرم کسی حد تک قائم رکھتے ہوئے صہیونی سازشوں کا راستہ رو کے ہوئے تھا۔ اگر آج خلافت کو اس کے صحیح مفہوم میں دوبارہ قائم کر دیا جائے تو اس کی سیاسی قوت و اہمیت کا اندازہ لگانا کچھ زیادہ مشکل امر نہیں ہے۔
خلافت راشدہ کے حوالے سے گفتگو کا دوسرا اہم پہلو میرے نزدیک یہ ہے کہ نظام خلافت کے سیاسی ڈھانچے کے خطوط کو واضح کیا جائے اور اس کے بارے میں ہر سطح پر اور دنیا بھر میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا دلیل و منطق کے ساتھ ازالہ کیا جائے، کیونکہ اس کے بارے میں خود اہل فکر و دانش میں اس قدر کنفیوژن پایا جاتا ہے کہ اسے دور کیے بغیر خلافت کی بات کرنے کو علمی و سیاسی حلقوں میں ”بے وقت کی راگنی” سے ہی تعبیر کیا جائے گا۔
ہمارے ہاں بدقسمتی سے اسلام کے سیاسی نظام کی بات کرتے ہوئے اس کا قریب ترین عملی نقشہ ترکی کی خلافت عثمانیہ کے سیاسی ڈھانچے کی صورت میں ذہنوں میں ابھرتا ہے، یا پھر سعودی عرب کے حکومتی ڈھانچے کو بطور مثال پیش کر دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ دونوں خاندانی بادشاہتیں ہیں جن کا اسلام کسی صورت میں روادار نہیں ہے لیکن اسلام کے نام پر جب یہ دو ماڈل سامنے آتے ہیں تو ایک سیاسی کارکن کے ذہن میں خلافت کا عملی نقشہ یہی بنتا ہے کہ یہ ایک آمرانہ نظام ہے، جس میں حکومت کی تشکیل ایک خاندان کے فیصلوں کی رہین منت ہوتی ہے اور جس میں عوام کو رائے، ووٹ یا حکومت کے کسی فیصلے پر کھلے عام تنقید کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا۔ یہ نقشہ سامنے آتے ہی ایک باشعور سیاسی کارکن کے ذہن کو بریک لگ جاتی ہے اور وہ ایک مسلمان کی حیثیت سے تمام تر عقیدت و محبت رکھتے ہوئے بھی خلافت کا لفظ زبان پر لانے کا آج کے دور میں حوصلہ نہیں پاتا۔ یہ معاملہ ہمیں صاف کرنا ہو گا اور اس کو پوری طرف صاف کیے بغیر ہم خلافت کے نظام کی طرف فکری و علمی سفر میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔
خلافت کے سیاسی ڈھانچے کے بارے میں کنفیوژن اور ابہام کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے بیشتر علمائے کرام اور روایتی حلقے مغربی جمہوریت کی نفی کرتے ہوئے حکومتی معاملات میں عوامی رائے کی اہمیت و ضرورت کو مطلقاً مسترد کر دیتے ہیں، جس سے اس تاثر کو تقویت حاصل ہوتی ہے کہ خلافت کی بنیاد شخصی آمریت یا زیادہ سے زیادہ کسی خاندان کی موروثی حکمرانی پر ہی قائم ہو سکتی ہے، اور اس کی تشکیل و بقا میں عوام کی رائے اور ووٹ کا کسی درجہ میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اس لیے آج سب سے بڑی اور سب سے پہلی ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاثر کو ذہنوں سے دور کیا جائے کہ خلافت شخصی آمریت کا نام ہے، صرف طاقت کے بل پر قائم ہونے والی حکومت کا نام ہے، یا موروثی طور پر منتقل ہونے والی خاندانی حکومت کا نام ہے کیونکہ خلافت کو اگر اس کے اصل سرچشمہ یعنی خلافت راشدہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کے دائرے میں ان میں سے کسی طرز کی حکومت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ خود خلافت راشدہ کا قیام عوامی رائے کے ذریعے عمل میں آیا تھا۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سقیفہ بنی ساعدہ میں عمومی مباحثہ کے ذریعے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفة المسلمین چنا گیا تھا اور مسجد نبوی کے کھلے اجتماع میں عمومی بیعت کی صورت میں انہیں عوامی اعتماد کی سند حاصل ہوئی تھی، لیکن امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس کے باوجود صرف اتنی عوامی مشاور ت کو کافی نہیں سمجھتے تھے، اور اسے مخصوص حالات کے حوالے سے دیکھتے ہوئے امیر المؤمنین کے انتخاب کے لیے اس سے زیادہ وسیع دائرہ میں عوامی مشاور ت کو ضروری قرار دیتے تھے۔
جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس کی تفصیلی روایت میں موجود ہے کہ جب امیر المومنین حضرت عمر فاروق کو کچھ حضرات کے بارے میں یہ علم ہوا کہ وہ حضرت عمر کی وفات کے بعد کسی بزرگ کی بیعت کرنے اور اس کا اعلان کر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو حضرت عمر نے مسجد نبوی میں خطبہ جمعہ کے دوران اس پر ناراضی کا اظہار فرمایا اور اعلان کیا کہ جس نے عام مسلمانوں کی مشاور ت کے بغیر کسی کو خلیفہ بنانے کی بات کی، اس کی بات ہرگز تسلیم نہ کی جائے۔ اس موقع پر حضرت عمر نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت ابوبکر کی بیعت اچانک ہو جانے پر اس معاملہ کو قیاس نہ کیا جائے، کیونکہ وہ مخصوص حالات تھے اور خلیفہ کا جلد از جلد چناؤ ضروری تھا، اس لیے جلدی میں سب کچھ ہو گیا تھا۔ (جاری ہے)

