5ڈسکوز کی نجکاری تیار، اجارہ داری نہیں ہونے دیں گے،چیئرمین نجکاری کمیشن

چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا ہے کہ نجکاری کا مقصد صرف یہ نہیں کہ کچھ بیچ دینا ہے اسکے اور مسائل ہیں، اس سال 5ڈسکوز کی نجکاری کرنے جا رہے ہیں،پی آئی اے کی ڈیل میں بہت زیادہ زمین نہیں دی گئی، اگر یہ لوگ جہاز بیچنا چاہتے ہیں تو بیچ سکتے ہیں کیوں کہ وہ 20سال پرانے ہیں۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے الحمرا آرٹس کونسل میں تین روزہ تھنک فیسٹ 2026ء کے آخری روز نجکاری آسان راستہ یا بنیادی اصلاحات کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا ۔چیئرمین نجکاری کمیشن نے کہا کہ ہمارے پاس نجکاری کمیشن میں 20سال پرانے کیسز بھی پڑے ہیں، انویسٹرز نے کورٹ سے رجوع کر لیا اور بھی معاملات رہے، پی ٹی سی ایل میں سب جانتے ہیں 800ملین ڈالر کا مسئلہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نجکاری کا مقصد یہ نہیں ہے کہ کسی قسم کی اجارہ داری پیدا ہو، نجکاری سے اجارہ داری پیدا ہوئی تو جی ڈی پی نہیں بڑھے گی، اس عمل میں خاص خیال رکھا جا رہا ہے کہ مقابلہ پیدا ہواجارہ داری نہیں۔نجکاری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم سونا بیچنے جا رہے ہیں، نجکاری سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ہم نجکاری کرنے کس کی جا رہے ہیں، بینک کا حوالہ دیا جاتا ہے، بینک پیسہ اس لئے کما رہے ہیں کیوں کہ اس وقت پالیسی صحیح تھی۔انہوں نے بتایا کہ ہم اس سال 5ڈسکوز کی نجکاری کرنے جا رہے ہیں، اس معاملے پر بہت سی چیزوں پر ابھی کام چل رہا ہے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق چیئرمین نجکاری کمیشن محمد زبیر نے کہا کہ میں شروع سے نجکاری پر بات کر رہا ہوں، میں تو نجکاری کی بات 2013ء سے کر رہا ہوں، لیکن جو یہ پی آئی اے ڈیل ہوئی اس میں بہت سارے فوائد دیے گئے ہیں، اس سے پہلے جو 10ارب روپے بولی لگی اس کو یہ فوائد نہیں دئیے گئے۔محمد زبیر نے کہا کہ میرے دور میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سب سے آگے پی آئی اے اور سٹیل مل کو رکھیں گے، سوچ یہ تھی کہ یہ ہاتھی گر گئے تو باقی خود گر جائیں گے۔

اس وقت نجکاری کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، آج کی مخالفت نہیں وہ احتجاج والی مخالفت تھی، لیکن پھر حکومت نے اس معاملے سے یو ٹرن لے لیا۔انہوں نے کہا کہ یہ تجویز بھی دی گئی تھی کہ وفاقی حکومت پی آئی اے کو سندھ حکومت کو دے دیں، یہاں صرف بڑی کمپنیاں ہی لون لے کر کام کر سکتی ہیں، عام آدمی نہیں۔