ایک غیر سرکاری تنظیم سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (سی ایس او ایچ) کی جانب سے شائع کردہ 2025 کے واقعات پر سالانہ رپورٹ ہندوستان میں نفرت کی سیاست کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان اور منظم نفرت انگیز جرائم کے تشویشناک معمول بننے کی تصدیق کرتی ہے۔
رپورٹ میں 21 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 1,318 براہ راست نفرت انگیز تقاریر کے واقعات درج کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 13 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 97 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں، جب 668 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ محققین کے مطابق یہ اعداد و شمار وقتی یا الگ تھلگ واقعات کے بجائے نفرت کے ایک مسلسل اور پھیلتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 98 فیصد واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے 1,156 تقاریر براہِ راست مسلمانوں کے خلاف تھیں، جبکہ 133 میں مسلمانوں کے ساتھ عیسائیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر 162 واقعات میں سامنے آئیں، جو مجموعی واقعات کا 12 فیصد ہیں اور 2024 کے مقابلے میں 41 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
آر ایس ایس اور بی جے پی پر الزام
ماہرین کہتے ہیں کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر شدت پسند ہندو قوم پرست تنظیموں کی منظم اسکیم کا حصہ ہیں۔
سماجی کارکن اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا،’’اس کی وجہ واضح طور پر آر ایس ایس اور حکمراں جماعت بی جے پی ہے، جن کی آئیڈیالوجی مسلمانوں کے خلاف نفرت کو بھڑکانا ہے اور اسے فروغ دیا جا رہا ہے اور مضبوط کیا جا رہا ہے۔‘‘
انسانی حقوق کے کارکن اور سپریم کورٹ کے وکیل پرشانت بھوشن بھی ہرش مندر کے خیال سے متفق نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے کہا، ’’بی جے پی کا کام ہی سماج میں ہندو مسلم صف بندی کرنا ہے، تاکہ فساد ہو اور ہندو متحد ہوں، چونکہ ہندو اکثریت میں ہیں اس لیے ہندو ووٹ کی بنیاد پر وہ اقتدار میں آجائے اور اقتدار پر برقرار رہے۔‘‘
حکومت تاہم اس طرح کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سماج میں منافرت پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔
سی ایس او ایچ کی رپورٹ میں ایک واضح سیاسی رجحان کی بھی نشاندہی کی گئی۔ تقریباً 88 فیصد نفرت انگیز تقاریر کے واقعات بی جے پی کے زیرِ حکومت ریاستوں، بی جے پی کی قیادت والی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی ریاستوں یا بی جے پی کے زیرِ انتظام مرکز کے علاقوں میں پیش آئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
سی ایس او ایچ کی ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ایویان لیڈگ کا کہنا تھا کہ ’’پورے سال نفرت انگیز تقاریر کی بلند سطح برقرار رہی۔ پچھلے برسوں کے برعکس، سلسلہ کم نہیں ہوا۔‘‘
اترپردیش سب سے آگے
یوگی ادیتیہ ناتھ کی حکومت والی اتر پردیش میں نفرت انگیز تقاریر کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے، اس کے بعد مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور دہلی کا نمبر ہے۔ یہ پانچوں ریاستیں مجموعی طور پر ملک بھر میں درج ہونے والے نفرت انگیز تقاریر کے تقریباً 65 فیصد واقعات کی ذمہ دار رہیں۔ اس کے برعکس، اپوزیشن جماعتوں کے زیرِ حکومت ریاستوں میں 2025 میں 154 واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد کمی ہے۔
رپورٹ میں منظم ہندوتوا گروہوں کو عوامی نفرت انگیز تقاریر کے بڑے محرکات قرار دیا گیا۔ وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو 289 واقعات سے جوڑا گیا، اس کے بعد انترراشٹریہ ہندو پریشد کا نمبر آیا۔ گزشتہ سال کے دوران 160 سے زائد تنظیموں اور غیر رسمی گروہوں کو منتظم یا شریک منتظم کے طور پر شناخت کیا گیا۔
ہرش مندر کا کہنا تھا کہ ’’نفرت انگیز تقاریر اور لنچنگ اس مہم کے الگ الگ پہلو ہیں۔ اترپردیش میں انکاونٹر اور بلڈوزر اس کے پہلو ہیں۔ جب کہ آسام اور اتراکھنڈ میں اس کا ایک دوسرا پہلو نظر آرہا ہے، جسے ہم ’ایتھنیک کلنزنگ‘ کہہ سکتے ہیں۔ ایک مذہب کے لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ اس ریاست میں آپ کے لیے کوئی جگہ نہیں۔‘‘
رپورٹ میں کئی سیاسی اور مذہبی شخصیات کے نام بھی سامنے آئے۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی سب سے زیادہ تقاریر کرنے والے مقرر کے طور پر ابھرے، جن کی 71 تقاریر ریکارڈ کی گئیں، اس کے بعد انترراشٹریہ ہندو پریشد کے رہنما پروین توگڑیا اور بی جے پی کے رہنما اشونی اپادھیائے کا نمبر آیا۔ ہندو سادھوؤں اور مذہبی رہنماؤں کی شرکت 145 واقعات میں پائی گئی، جو 2024 کے مقابلے میں 27 فیصد اضافہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’مذہبی شخصیات اقلیت مخالف بیانیے کو جائز قرار دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی رہتی ہیں‘‘ اور خبردار کیا گیا کہ ایسی شرکت ان پیغامات کو وقار اور اختیار دیتی ہے جو منافرت اور تشدد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
پرشانت بھوشن خبردار کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’ یہ تنگ نظری ہے۔ ان کو یہ سمجھ میں نہی آ رہی کہ اس سے کوئی دور رس فائدہ نہیں ہو گا۔ ایسی سوچ گھٹیا سوچ ہے کہ مسلمانوں کو دبا کر یا کسی کا نقصان کرکے آپ کا فائدہ ہو جائے گا۔‘‘

