اجتہاد کا مسیحی دنیا سے مستعار تصور

دوسری قسط:
یہ اشکال پیش کیا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں۔ یا رسول اللہ! قرآن پاک نے ایک بات ہمارے بارے میں کہی ہے جو میرے خیال میں تو نہیں تھی۔ دوسرے لفظوں میں ظاہری شکل کیا بنے گی، نعوذباللہ! قرآن پاک نے ایک بات خلافِ واقعہ کہہ دی ہے، ظاہری شکل یہ بنتی ہے۔ ہم اپنے احبار اور رہبان کو ‘اربابا من دون اللہ’ نہیں کہتے تھے اور قرآن کہتا ہے، کہتے تھے۔ یارسول اللہ! بات سمجھ میں نہیں آرہی۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی سے کہا: عدی! کیا تمہارے ہاں تمہارے احبار اور رہبان کو حلال حرام میں تبدیلی کا کوئی اختیار حاصل تھا۔ تمہارے عقیدے کے مطابق کسی وقت حلال کو حرام کر دیں، حرام کو حلال کر دیں؟ تمہارے احبار اور رہبان کو یہ اتھارٹی حاصل تھی کہ حلال حرام میں اپنی مرضی سے ردوبدل کر سکیں؟ تمہارے عقیدے میں یہ تھا؟ یارسول اللہ! ہاں، یہ تو تھا۔ فرمایا: یہی ‘ارباباً من دون اللہ’ ہے۔ یہ جو تمہارے عقیدے میں تمہارے مذہبی قوانین میں احبار اور رہبان کو یہ اتھارٹی حاصل تھی وہ تو اب بھی ہے، اب بھی حلال اور حرام میں کیتھولک عیسائیوں کے ہاں اتھارٹی کون ہے؟ پاپائے روم۔ ان کے ساتھ ایک کونسل بھی ہوتی ہے، پاپائے روم کی کونسل۔ آج بھی ان کو اختیار حاصل ہے۔ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عدی بن حاتم سے کہا کہ اگر تمہارے ہاں تمہارے مذہب کے مطابق تمہارے احبار اور رہبان کو حلال حرام میں ردوبدل کا کوئی اختیار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ہے۔ فرمایا: یہی ہے ‘ارباباً من دون اللہ’۔

تو میں نے یہ حوالہ اس لیے دیا ہے، یہ پرانی بات ہے، قدیمی بات ہے، آج کی بات نہیں ہے۔ ان کے ہاں یہ بات تقریباً دو ہزار سال سے، یا سولہ سو سال سے، یا سترہ سو سال سے چلی آ رہی ہے کہ ہمارے احبار اور رہبان کو یہ اتھارٹی حاصل ہے کہ وہ حالات کی مناسبت سے، موقعے کی مناسبت سے، اگر کہیں کوئی ردوبدل کرنا چاہیں تو ان کو اتھارٹی حاصل ہے۔ یہ ہے ان کا اجتہاد کا تصور۔

ہمارے ہاں اس کی تشکیل کا ایک موقع آیا تھا۔ ہماری تاریخ میں بھی اس کی تشکیل کا ایک موقع آیا تھا۔ اکبر بادشاہ کا ”دینِ الٰہی” کیا تھا؟ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمت اللہ علیہ نے ”تاریخِ دعوت و عزیمت” میں، حضرت مولانا سید محمد میاں رحمت اللہ علیہ نے ”علمائے ہند کا شاندار ماضی” میں، شیخ محمد اکرام نے ”موجِ کوثر” میں، وہ پس منظر بیان کیا ہے کہ کچھ علماء نے، علماء ہی تھے، ابوالفضل، فیضی، علمائے سوء تھے لیکن علماء تھے، انہوں نے اکبر کو، اکبر بے وقوف سا نوجوان تھا، بچپن میں حکومت مل گئی تھی، ابتدا میں بہت مذہبی تھا، اس کو گھیرا ڈالا اور گھیرا ڈال کر اس کو تیار کیا کہ تم اِس دور کے سب سے بڑے مجتہد ہو اور تمہیں حق حاصل ہے کہ آج کے دور میں تم دین کی بنیادی تشریحات و تعبیرات میں اگر کچھ فرق کرنا چاہو، تمہیں اختیار حاصل ہے، تم یہ اختیار استعمال کرو۔ باقاعدہ علماء کی ایک جماعت نے مل کر ”مجتہدِ اعظم” کا خطاب دیا مغل اعظم کو۔ محضرنامہ لکھا گیا کہ ضرورت ہے اجتہاد کی، ضرورت ہے مجتہد کی۔ مجتہد بھی کس درجے کا؟ مجتہدِ مطلق۔ اور مجتہدِ مطلق بھی کس درجے کا؟ جیسے پاپائے روم ہیں۔ پڑھیں ذرا، وہ دستاویز پڑھیں، کیا لکھی ہے۔

باقاعدہ علماء کی ایک جماعت نے دستاویز لکھی، اکبرِ اعظم کو مجتہدِ اعظم کا لقب دیا اور اس کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ بطور مجتہدِ اعظم کے تمہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ تم دین کی تعبیر و تشریح میں ردوبدل کر سکتے ہو۔ اکبر نے اس دستاویز کی بنیاد پر مجتہدِ اعظم کا لقب اختیار کر کے، اس نے وہ تمام تبدیلیاں کیں جو ”دینِ الٰہی” کے نام سے ہیں۔ ایسے ہی نہیں کیا، اس کو خطاب دیا گیا، اس سے تقاضا کیا گیا، اسے سمجھایا گیا کہ جناب! آپ مجتہدِ اعظم ہیں اس دور کے۔ اور ایک بات اس کے ذہن میں یہ ڈالی گئی کہ دین کی مدت تقریباً ہزار سال ہوتی ہے، ہزار سال گزر گیا ہے، اب نیا ہزار شروع ہونے والا ہے، ہو رہا ہے، نئے ہزار میں ایک نئی شخصیت چاہیے اور وہ تم ہی ہو سکتے ہو، اس لیے تم کرو اور ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ”قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں”۔ یہ نعرہ لگایا علماء نے، ابوالفضل، فیضی، مْلا مبارک، وہ جو بڑے بڑے مولوی تھے۔ یہ فیضی وہی ہے جس نے قرآن پاک کی بے نقط تفسیر لکھی ہے۔ اس درجے کے اہلِ علم تھے یہ۔ اکبر اعظم نے جو ”دینِ الٰہی” کے نام سے دین کی تعبیرات میں تبدیلیاں کی تھیں، اس کی بنیاد اجتہاد کا ٹائٹل تھا، مجتہدِ اعظم کا لقب تھا۔ اور پیچھے تصور یہ تھا کہ اجتہاد اس صوابدیدی اختیار کو کہتے ہیں جو شاید مذہبی قیادت کو ضرورت کے وقت حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ تصور ہمارے ہاں بھی چلا نہیں ہے۔ وہ نہیں چلنا تھا، نہیں چلا لیکن میں اس کی بنیاد بتا رہا ہوں۔

اجتہاد کا ایک تصور یہ ہے۔ میں اس پر دورِ حاضر کی دو تین مثالیں عرض کرنا چاہوں گا۔ بہت سے لوگ ہم سے بہت سے مسائل میں نیا رنگ اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ ان کو اتھارٹی تو ہے، کرتے نہیں ہیں، ضدی لوگ ہیں، مولوی ہیں، عوام دوست نہیں ہیں، ہمدردی نہیں ہے ان کے دلوں میں، کوئی اتھارٹی ہے ان کے پاس، کرتے نہیں ہیں یہ۔ میں دو ذاتی مشاہدات عرض کرنا چاہوں گا کہ اجتہاد کے نام پر دین کے مسائل میں، تعبیرات میں اور تشریحات میں رد وبدل کا مطالبہ کرنے والوں کے ذہن میں یہ تصور کس درجے کا ہے۔

ایک دفعہ میں برطانیہ میں لندن سے مانچسٹر جا رہا تھا ٹرین سے، میرا حلیہ الحمد للہ یہی ہوتا ہے ہر جگہ۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں، یہی ہوتا ہے۔ ایک نوجوان، غالباً انڈین تھا، مجھے دیکھ کر میرے پاس آ کے بیٹھ گیا۔ پہلا سوال یہ تھا، کیا آپ مولانا صاحب ہیں؟ میں نے کہا، لوگ یہی کہتے ہیں۔ آپ اجتہاد کر سکتے ہیں؟ میں نے کہا، مسئلہ بتاؤ۔ میں سمجھ گیا یہ کیا کہنا چاہ رہا ہے، کون سی فریکونسی ہے۔ بات کی فریکونسی سمجھنی چاہیے، کہاں سے بول رہا ہے یہ۔ میں نے کہا، مسئلہ بتاؤ یار، اگر مسئلہ میری سمجھ میں آیا تو حل کر دوں گا، نہیں تو کسی اور کے حوالے کر دوں گا۔ اس نے کہا، بات یہ ہے۔ سنیے۔ کہنے لگا، بات یہ ہے کہ الحمد للہ مسلمان ہوں، اتنے عرصے سے یہاں رہ رہا ہوں، نماز پانچ وقت کی پڑھتا ہوں، پابندی سے پڑھتا ہوں۔ الجھن یہ ہے کہ ظہر اور عصر کی نماز کی اپنے دفتری اوقات میں مجھے گنجائش نہیں ملتی۔ باقی تو صبح فجر، مغرب، عشاء اپنے وقت پر، حساب سے پڑھ لیتا ہوں۔ ظہر اور عصر، میرا دفتری نظام ایسا ہے کہ مجھے اجازت نہیں ملتی، گنجائش نہیں ملتی کہ ظہر اور عصر اپنے وقت پہ پڑھ سکوں۔ اس کے لیے میں نے ایک حل نکالا ہے کہ ظہر کی پڑھ کر جاتا ہوں فجر کے ساتھ، عصر کی پڑھتا ہوں مغرب کے ساتھ۔ آپ اجازت دے دیں۔ (جاری ہے)