امریکی صدر ٹرمپ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وینزویلا پر فوج کشی نے لاطینی امریکا کو باقاعدہ ڈرا دیا۔ کولمبیا، کیوبا جیسے ممالک کو خدشہ ہے کہ کہیں اگلی باری ہماری نہ ہو۔ ٹرمپ کی ٹیرف وار نے چین جیسی سپرپاور کو بھی پریشان کردیا۔ دوسری طرف انڈیا جو خود کو امریکا کا قابل اعتماد اتحادی سمجھ رہا تھا وہ ایران سے خریداری کرنے والے ممالک پر بھاری ٹیرف کے خوف سے اتنا پیچھے ہٹا کہ چاہ بہار کی بندرگاہ جہاں اس نے کئی سو ملین ڈالر کی انویسٹمنٹ کر رکھی تھی، اُسے بھی یک لخت چھوڑ گیا۔ اب صدر ٹرمپ نے پورے یورپ کو لرزا دیا ہے۔ گرین لینڈ پر قبضے کی بات یوں کھلے انداز میں کر کے یورپ اور نیٹو کو دھچکا پہنچایا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ یورپ کو امریکا سے اتنے واضح الفاظ میں اختلاف کرنا پڑ رہا ہے۔ ماضی میں بہت کم ایسا ہوتا رہا کہ امریکی صدر فرانس جیسے اہم ملک کے صدر کے بارے میں تحقیر آمیز الفاظ استعمال کریں اور جواب میں فرانس، جرمنی، ناروے، ڈنمارک جیسے ممالک کے سربراہان امریکا کو بے نقط سنائیں۔ ایسا مگر اب ہورہا ہے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ کے 3بڑے اشاریے گزشتہ روز تین ماہ میں ہونے والی سب سے بڑی یومیہ کمی کا شکار ہوئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے چونکہ اعلان کیا ہے کہ یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز (ہالینڈ)، فن لینڈ اور برطانیہ کی مصنوعات پر 10فیصد ٹیرف لگے گا، جو یکم جون سے 25فیصد ہو جائے گا۔ اس اعلان نے سرمایہ کاروں میں غیریقینی صورتحال پیدا کی اور مارکیٹ میں وسیع فروخت کا سبب بنی۔ یورپی پارلیمنٹ کے حالیہ اجلاس میں صدر ٹرمپ کے خلاف تندوتیز تقریریں ہوئی ہیں اور اہم یورپی اخبارات لی مونڈے وغیرہ نے سخت اداریے اور امریکا مخالف آرٹیکلز چھاپے ہیں۔ ٹرمپ نے امریکا کو یورپ کے مقابلے میں ایک ناپسندیدہ حریف کے طور پر لا کھڑا کیا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ واقعی گرین لینڈ خرید سکتے ہیں یا کینیڈا پر کوئی عملی دباؤ ڈال سکتے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ وہ عالمی سیاست کے قائم شدہ اصولوں کو کہاں تک کمزور کر سکتے ہیں؟ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر ہے۔ وہ عالمی تعلقات کو اصولوں، اتحادوں اور مشترکہ اقدار کے بجائے خالص فائدے اور نقصان کے پیمانے پر پرکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ریاستیں اتحادی نہیں بلکہ ایسے فریق ہیں جن سے بہتر یا سخت سودا کیا جا سکتا ہے۔ یہی ذہنیت انہیں نیٹو جیسے دفاعی اتحاد پر بھی سوال اٹھانے پر مجبور کرتی ہے اور یہی سوچ گرین لینڈ جیسے حساس خطے کو خریدنے کے تصور تک لے جاتی ہے۔ یورپ کے لیے مسئلہ یہ نہیں کہ ٹرمپ غیرروایتی ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ان کی سوچ عالمی سیاست کو ایک ایسی سمت میں لے جاتی ہے جہاں طاقتور ریاست خود کو ہر اصول سے بالا تر سمجھنے لگے۔ فرانسیسی اخبار Le Monde نے درست لکھا کہ یہ بیانات محض عجیب نہیں بلکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی سطح پر بنائے گئے اُصول و ضابطوں کے لیے ایک امتحان ہیں۔ گرین لینڈ بظاہر ایک دُورافتادہ اور برفانی علاقہ ہے مگر اس کی جغرافیائی اہمیت غیرمعمولی ہے۔ گرین لینڈ کے پگھلتے ہوئے برفانی ذخائر غیراستعمال شدہ وسائل کے خزانہ سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ اس جزیرہ کی برفانی تہوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق نوے ارب بیرل تیل اور دنیا کے تیس فیصد گیس کے ذخائر اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے ضروری نایاب معدنیات (رئیر ارتھ منرلز) چھپے ہوئے ہیں۔
گرین لینڈ اس وقت ڈنمارک کے تحت ایک نیم خود مختار علاقہ ہے مگر مقامی آبادی کی اکثریت اس قبضہ کو بیسیوں صدی کی نوآبادیاتی ذہنیت کی پیداوار سمجھتی ہے۔ شاید اس جزیرہ کی سخت زندگی کی وجہ سے ڈنمارک مقامی آبادیاتی تشخص یا ڈیمو گرافی بدلنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ گرین لینڈ میں درجہ حرارت منفی 50ڈگری سیلسیئس تک گر سکتا ہے اور وسائل کے نکالنے کی لاجسٹک مشکلات نے تجارتی استحصال کو سست کر دیا ہے۔ گرین لینڈ کے اندر بھی ڈنمارک سے مکمل آزادی کی خواہش موجود ہے، ٹرمپ کے اعلان سے قبل ہی گرین لینڈ کے وزیراعظم میوٹے ایگڈے نے نئے سال کے خطاب میں ڈنمارک سے آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے نوآبادیاتی زنجیروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا، تاہم وہ لوگ امریکا کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔ دی وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا طویل عرصے سے گرین لینڈ کو ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتا آیا ہے۔ سرد جنگ کے دوران امریکا نے گرین لینڈ میں تھولے ایئربیس قائم کی جو اس کے میزائل دفاعی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔
ڈنمارک کے افسران کا کہنا تھا کہ امریکا ہی گرین لینڈ میں پس پردہ آزادی کی حمایت کرتا آیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے اس علاقے پر مختصر عرصہ تک قبضہ کر کے اس کا دفاع کیا تھا۔ کیونکہ ڈنمارک پر ان دنوں نازی جرمنی نے قبضہ کیا تھا۔ جنگ کے بعد 1946ء میں امریکا نے گرین لینڈ کو خریدنے کی پیشکش کی تھی لیکن ڈنمارک نے اس پیشکش کو مسترد کردیا۔ 1979ء میں ڈنمارک نے گرین لینڈ کو داخلی خودمختاری دی۔
ڈنمارک صرف گرین لینڈ کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں پر کنٹرول رکھتا ہے۔ اس کے باوجود مقامی حکومت کے وزیروں نے پچھلے چند سالوں میں چین کے دورے کیے ہیں اور چینی وفود کا اس جزیرے میں استقبال کیا ہے۔ قدرتی وسائل اور چین و روس کی دلچسپی نے اسے عالمی طاقتوں کے ریڈار پر لا کھڑا کیا ہے۔ ٹرمپ کا گرین لینڈ خریدنے کا بیان یورپ میں اس لیے خطرے کی گھنٹی بنا کیونکہ اس میں نوآبادیاتی دور کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یورپی سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھا کہ اگر آج گرین لینڈ سودے کی بات ہو سکتی ہے تو کل کسی اور کمزور خطے کا کیا ہوگا؟اہم فرانسیسی اخبار لی فگارو نے اس سوچ کو رئیل اسٹیٹ جیوپالیٹکس قرار دیا۔ یعنی وہ سیاست جس میں زمین اور خودمختاری کو جائیداد کی طرح دیکھا جائے۔ یورپ کے لیے یہ ناقابلِ قبول تصور ہے، کیونکہ یورپی یونین کی بنیاد ہی سرحدوں کے احترام اور قانون کی بالادستی پر رکھی گئی ہے۔
ٹرمپ کے دور میں کینیڈا جیسے قریبی اتحادی کے ساتھ بھی سخت رویہ اختیار کیا گیا۔ تجارت، دفاعی اخراجات اور سیاسی بیانات میں وہ احترام نظر نہیں آیا جو روایتی طور پر امریکا، کینیڈا تعلقات کا حصہ رہا ہے۔ یورپ میں اس کا مطلب صاف سمجھا گیا کہ اگر امریکا اپنے سب سے قریبی شراکت دار کے ساتھ بھی سودے کی زبان بول سکتا ہے تو یورپی اتحادی کس شمار میں آئیں گے؟ یورپی پارلیمنٹ میں کئی ارکان نے اسی نکتے پر زور دیا کہ اگر کینیڈا بھی ڈسپوزابیل ہے تو پھر کوئی بھی محفوظ نہیں۔ یہ جملہ یورپ کے اجتماعی خوف کی عکاسی کرتا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ میں ٹرمپ کے بیانات پر ہونے والی تقاریر غیرمعمولی طور پر سخت تھیں۔ ”یورپ برائے فروخت نہیں ہے” اور ”یہ انیسویں صدی نہیں ہے” جیسے بلند آہنگ جملے دراصل امریکا کے لیے ایک واضح سیاسی پیغام تھے۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے کہا کہ علاقائی سالمیت اور خودمختاری کوئی تجارتی شے نہیں جس پر طاقتور ریاستیں بات چیت کریں۔ نیٹو (NATO) کے حوالے سے بھی تشویش کھل کر سامنے آئی۔ ایک تقریر میں کہا گیا کہ جب امریکی صدر خود سرحدوں اور اتحادوں کو سوالیہ نشان بنا دے تو یورپ کو اپنے دفاعی ڈھانچے پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔ فرانس کے صدر میکرون اس بحث میں مرکزی کردار بن کر ابھرے۔ میکرون کا کہنا ہے: ‘یورپ اب مکمل طور پر امریکی تحفظ پر انحصار نہیں کر سکتا۔ یورپی دفاعی خودمختاری اب کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ عملی ضرورت بن چکی ہے’۔ فرانسیسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ نے یورپ کو ایک تلخ سچ دکھا دیا ہے کہ امریکا کا تحفظ مستقل ضمانت نہیں بلکہ سیاسی حالات کے ساتھ بدل سکتا ہے۔
نیٹو دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپی سلامتی کی علامت رہا ہے مگر ٹرمپ کے نزدیک نیٹو ایک مہنگا سودا ہے جس میں امریکا زیادہ اور یورپ کم حصہ ڈالتا ہے۔ یہ بیانیہ یورپ میں خطرے کی علامت سمجھا جاتا ہے کیونکہ اگر امریکا واقعی پیچھے ہٹتا ہے تو یورپی سلامتی کا پورا ڈھانچہ لرز سکتا ہے۔ اصل خوف یہ نہیں کہ امریکا فوری طور پر نیٹو چھوڑ دے گا بلکہ یہ ہے کہ اس اتحاد کی اخلاقی اور سیاسی بنیاد کمزور ہوجائے گی۔ اتحاد تبھی مضبوط رہتے ہیں جب ان کے پیچھے مشترکہ اقدار ہوں، محض حساب کتاب نہیں۔ ویسے یورپی تجزیہ کار اس سوال پر متفق ہیں کہ ٹرمپ فوجی قبضے یا براہِ راست علاقائی توسیع کی طرف نہیں جائیں گے مگر وہ دباؤ، تضحیک، اقتصادی حربوں اور ادارہ جاتی کمزوری کے ذریعے بہت کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ عالمی اداروں کو غیرمؤثر بنا سکتے ہیں، اتحادیوں میں بداعتمادی پھیلا سکتے ہیں اور طاقت کو دوبارہ سیاست کا مرکزی اُصول بنا سکتے ہیں۔ یورپ جانتا ہے کہ ٹرمپ ایک فرد ہیں مگر وہ ایک بڑے رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک ایسا رجحان جس میں قوم پرستی، تنہائی پسندی اور طاقت کی سیاست غالب آرہی ہے۔ گرین لینڈ، کینیڈا، نیٹو اور یورپی پارلیمنٹ کی تقاریر سب مل کر ایک ہی پیغام دیتی ہیں کہ اگر طاقت ہی سب کچھ بن گئی تو یورپ کو اپنی سلامتی، خودمختاری اور شناخت خود بچانی ہوگی۔ یہی وہ خوف ہے جو ٹرمپ کے نام کے ساتھ یورپ میں جڑا ہوا ہے۔

