سعودی عرب میں رمضان المبارک کی تیاریاں عروج پر

دبئی/ریاض: رمضان المبارک اور آئندہ حج سیزن کے پیشِ نظر سعودی عرب نے حرمین شریفین اور ملک بھر کی مساجد کے انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے بڑے اور فیصلہ کن اقدامات کر لیے ہیں۔
ایک جانب مسجدِ حرام مکہ مکرمہ میں جدید اسمارٹ کاؤنٹنگ سسٹم متعارف کرا دیا گیا ہے، تو دوسری جانب وزارتِ اسلامی امور نے رمضان کے لیے مساجد، ائمہ اور عملے سے متعلق سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مسجدِ حرام میں نصب جدید اسمارٹ سسٹم عبادت گزاروں کے داخلے اور اخراج کو ریئل ٹائم میں مانیٹر کرے گا۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہجوم کی کثافت، رش کے مقامات اور نقل و حرکت پر فوری نظر رکھی جا سکے گی، جس سے سکیورٹی اور انتظامی ٹیمیں بروقت فیصلے کرتے ہوئے راستوں کو تبدیل اور بھیڑ کو کنٹرول کر سکیں گی۔ حکام کے مطابق یہ نظام خاص طور پر نمازوں کے اوقاتِ عروج، تراویح کی راتوں اور عمرہ کے غیر معمولی رش کے دوران نہایت اہم کردار ادا کرے گا، جب لاکھوں عبادت گزار مسجدِ حرام کا رخ کرتے ہیں۔

ادھر سعودی وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد نے رمضان المبارک سے قبل ملک بھر کی مساجد کے لیے ایک جامع سرکلر جاری کیا ہے، جو ائمہ، مؤذنین اور مسجد کے تمام کارکنان پر لاگو ہوگا۔ ہدایات میں مکمل حاضری کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ غیر حاضری صرف انتہائی مجبوری اور باقاعدہ منظوری کی صورت میں ممکن ہوگی، اور اس دوران قواعد کے مطابق متبادل کی تعیناتی ضروری ہوگی۔

وزارت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تمام مساجد میں نمازوں کے اوقات ام القریٰ کیلنڈر کے مطابق مقرر کیے جائیں گے۔ عشاء کی اذان بروقت دینے اور اذان و جماعت کے درمیان 15 منٹ کا وقفہ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، خصوصاً عشاء اور فجر کی نماز کے لیے، تاکہ روزہ داروں اور عبادت گزاروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات مملکت کے اس وسیع تر وژن کا حصہ ہیں، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی اور سخت نظم و ضبط کے ذریعے رمضان اور حج جیسے مصروف ترین مواقع پر عبادت گزاروں کی سلامتی، سہولت اور عبادات کے پُرسکون ماحول کو یقینی بنانا ہے۔