امارات،مراکش غزہ بورڈ میں شامل،فرانس کا انکار،ٹرمپ کی رجیم چینج کی دھمکی

غزہ/دبئی/پیرس/ ماسکو/مراکو/واشنگٹن:متحدہ عرب امارات اور مراکش نے امریکی صدر کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی جبکہ فرانس کے انکار پر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر میکرون کو رجیم چینج کی دھمکی دیدی۔

عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت بنائے گئے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت قبول کرلی۔

رپورٹ کے مطابق اس بات کا اعلان یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز جاری بیان میں کیاجس میں کہا گیاکہ متحدہ عرب امارات غزہ بورڈ آف پیس میں فعال شمولیت اور عملی شراکت کے لیے تیار ہے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق یو اے ای بورڈ آف پیس کے مشن میں مؤثر کردار ادا کرے گا اور عالمی سطح پر تعاون،استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔اس طرح متحدہ عرب امارات نہ صرف پہلا مسلم بلکہ اْن اوّلین ممالک میں بھی شامل ہوگیا جس نے کھل کر اس امریکی اقدام کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اب تک جن ممالک نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی پیشکش کو قبول کیا ہے ان میں پہلا یورپی ملک ہنگری ہے جس نے غیر مشروط طور پر ہامی بھری۔اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا عندیہ دیا ہے تاہم اب تک باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے اصولی طور پر آمادگی کا اظہار کیا ہے تاہم فیصلے کا حتمی اعلان چارٹر کے جائزے کے بعد کیا جائے گا۔دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے صاف انکار کیا ہے جس کے جواب میں امریکی صدر نے فرانس پر 200 فیصدٹیرف عائد کرنے اور صدرکو رجیم چینج کی دھمکی دی ہے۔

فرانسیسی صدر نے امریکی دباؤ اور ٹیرف دھمکیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا تو ٹرمپ برہم ہوگئے اور کہا کہ ایمانویل میکرون زیادہ عرصے فرانس کے صدر نہیں رہیں گے۔علاوہ ازیں جرمنی، اسپین، نیدرلینڈز، سویڈن، جاپان اور برطانیہ جیسے امریکی اتحادی بھی تاحال ٹرمپ کے اس بورڈ آف پیس میں شمولیت سے ہچکچا رہے ہیں۔

یورپی ممالک نے بھی تاحال خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جب کہ اقوام متحدہ نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ادھرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو غزہ میں امن، حکمرانی اور تعمیرِ نو کے لیے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی ۔

ٹرمپ کی جانب سے پیوٹن کو دی گئی یہ دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ تقریبا ًچار سال سے جاری ہے اور وہاں امن معاہدہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس سے متعلق بتایا کہ پیوٹن کو دعوت موصول ہو گئی ہے اور روس واشنگٹن سے تمام تر نکات کی وضاحت چاہتا ہے۔

دمتری پیسکوف نے اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ آیا پیوٹن اس پیشکش میں دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں۔بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کو بھی اس بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے جبکہ مراکش نے غزہ بورڈ پیس میں شمولیت کیلئے صدر ٹرمپ کی دعوت قبول کر لی، وزارت خارجہ مراکش کا کہنا ہے امن بورڈ کا مقصد مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام لانا ہے۔

دریں اثناء غزہ شہر میں واقع الشفاء ہسپتال نے غزہ کی پٹی میں نہایت سنگین صحت کے بگاڑ سے خبردار کیا ہے جہاں غیر تشخیص شدہ امراض بڑے پیمانے پر پھیل رہے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق صحت کا نظام مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے سے قاصر ہے جبکہ تشخیصی اور علاج کی سہولیات کی شدید قلت صورتحال کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔

الشفاء ہسپتال میں شعبہ استقبالیہ اور ایمرجنسی کے سربراہ ڈاکٹر معتز حرارہ نے بتایا کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران شعبہ روزانہ پانچ سو سے زائد مریضوں کا استقبال کر رہا ہے۔ان کے مطابق روزانہ تقریباً دو سو مریض شدید سانس کی بیماریوں میں مبتلا آ رہے ہیں جن میں تیز بخار سانس میں شدید دشواری انتہائی کمزوری مسلسل اسہال الٹی کھانسی اور سینے میں درد شامل ہیں۔

ڈاکٹر حرارہ نے وضاحت کی کہ مریضوں میں علامات کی شدت کا فرق ان کی قوت مدافعت پر منحصر ہے۔ بعض مریض دو دن میں صحت یاب ہو جاتے ہیں جبکہ دیگر کو ہسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے خصوصاً وہ افراد جو پہلے سے دائمی امراض میں مبتلا ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بعض مریضوں کو اس وقت انتہائی نگہداشت میں منتقل کیا جاتا ہے جب دستیاب علاج خون میں آکسیجن کی سطح بہتر کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزارت صحت پھیلنے والے بعض وائرسز کی نوعیت متعین کرنے سے قاصر ہے کیونکہ لیبارٹری اور تشخیصی سہولیات موجود نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ درج کی گئی یہ بیماریاں نہ کورونا وائرس ہیں اور نہ موسمی انفلوئنزا بلکہ ان کی علامات معمول سے کہیں زیادہ شدید ہیں تاہم وائرس کی اصل نوعیت کا تعین ممکن نہیں۔ادھرغزہ کی پٹی میں گردوں کے فیل ہونے کے مرض میں مبتلا مریضوں کی انسانی تکالیف خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہیں۔

گذرگاہوں کی مسلسل بندش اور بیرونِ غزہ علاج کے لیے سفر پر پابندی نے طبی انتظار کی فہرستوں کو ایک خاموش قاتل بنا دیا ہے جو بغیر کسی شور کے سیکڑوں مریضوں کی زندگیاں نگلنے کے درپے ہے۔غزہ کے ڈائلیسز شعبوں کے اندر بالخصوص دیر البلاح میں واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال میں صحت کے سنگین بحران کی واضح تصویر دکھائی دیتی ہے۔

ادویات اور بنیادی طبی سامان کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ ڈائلیسز مشینوں کی کمی نے علاج کے تسلسل کو خطرے میں ڈال دیا ہے جس کے باعث مریض جان لیوا پیچیدگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق یہ صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

یہ شعبے اپنی گنجائش سے کہیں زیادہ دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ روزانہ مریضوں کی بڑھتی تعداد نے علاج کے سیشنز کے اوقات کو درہم برہم کر دیا ہے جس کے نتیجے میں حالیہ عرصے کے دوران بے قاعدہ علاج کے باعث اموات بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔

یہ المیہ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ مریضوں کی روزمرہ زندگی میں مسلسل درد نیند سے محرومی اور اذیت کی صورت میں جھلکتا ہے۔ادویات کی عدم دستیابی اور درد کم کرنے کے مؤثر ذرائع نہ ہونے کے باعث مریض خاموشی سے کرب جھیلنے پر مجبور ہیں۔

مریضوں کا کہنا ہے کہ ان کا واحد مطالبہ گذرگاہوں کو کھولنا اور ضروری ادویات کی غزہ میں فراہمی ہے۔ موجودہ حالات میں ہسپتال بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں جس کے باعث غزہ کے اندر علاج کرانا خود ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم البیدر نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیل کے آبادکاروں کی مسلسل اور منظم جارحیت کے نتیجے میں شمالی اریحا کے بدوی علاقے شلال العوجا سے مزید 20 فلسطینی خاندان جبری طور پر بے گھر ہو گئے ہیں۔

اس طرح چند ہی دنوں کے دوران اس قصبے سے بے دخل ہونے والے خاندانوں کی تعداد بڑھ کر 37 ہو گئی ہے۔تنظیم نے اپنے بیان میں بتایا کہ الزاید قبیلے سے تعلق رکھنے والے 20 خاندان اپنے گھروں اور عارضی رہائشی ڈھانچوں کو خود اپنے ہاتھوں سے مسمار کرنے پر مجبور ہوئے اور شلال العوجا کے بدوی علاقے کو چھوڑ کر چلے گئے۔

یہ قدم قابض اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے بڑھتی ہوئی ہراسانی اور وحشیانہ حملوں کے بعد اٹھایا گیا۔البیدر کے مطابق یہ حملے وادی اردن میں بدوی تجمعات کو نشانہ بنانے والی جبری بے دخلی کی پالیسی کا حصہ ہیں۔

تنظیم نے واضح کیا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے یہ خاندان روزانہ کی بنیاد پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہے تھے جس میں خیموں کے گرد گھیراؤ آبادکاروں کی مویشیوں کو رہائشی علاقوں کے بالکل قریب چرانا گایوں اور بھیڑ بکریوں کو خیموں کے درمیان چھوڑ دینا اور مقامی آبادی کو روایتی چراگاہوں اور پانی کے قدرتی وسائل تک رسائی سے روکنا شامل تھا۔

ادھرقابض اسرائیلی پولیس نے بیت المقدس کے محقق اور تعلیمی نگران احمد الصفدی کو مسجد اقصیٰ میں داخلے سے چھ ماہ کے لیے روکنے کا ظالمانہ فیصلہ جاری کردیا۔ یہ فیصلہ باقاعدہ طور پر انہیں تحریری حکم نامہ تھما کر نافذ کیا گیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ کسی واضح وجہ کے بغیر صادر کیا گیا جو القدس کی نمایاں شخصیات،سماجی کارکنوں اور محققین کے خلاف قابض اسرائیل کی مسلسل انتقامی پالیسی کا حصہ ہے۔دوسری جانب وسطی غزہ میں واقع شہداء الاقصیٰ ہسپتال نے قابض اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے 6فلسطینی اسیران کو قبول کیا جو شدید تھکن اور کمزوری کی حالت میں ہسپتال پہنچے۔

یہ اسیر قابض اسرائیل کی قید و بند کی اذیت ناک زندگی گزارنے کے بعد آزادی کی سانس لے سکے۔رہائی پانے والے اسیران کو ریڈ کراس کے بین الاقوامی عملے کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا تاکہ انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے اور ضروری طبی معائنے کیے جائیں۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق آزاد ہونے والے اسیران سنگین طبی مسائل کا شکار ہیں۔ یہ خراب صحت قابض اسرائیل کی جیلوں میں بدترین تشدد، مسلسل تذلیل اور خوراک سے محرومی کا براہ راست نتیجہ ہے جو ان پر گرفتاری کے پورے عرصے کے دوران مسلط رہی۔

رہائی پانے والے اسیران کے نام درج ذیل ہیں جنہیں ریڈ کراس کے عملے کے ذریعے شہداء الاقصیٰ ہسپتال پہنچایا گیا۔وسیم ناہد شبات غنیم، عمر 16 سال، رہائشی جبالیا۔علاء الدین محمد صلاح عوض، عمر 36 سال، رہائشی جبالیا۔

محمود نشت محمد ابو سلمیہ، عمر 21 سال، رہائشی رفح۔محمد رضا محمد المباشر، عمر 22 سال، رہائشی رفح۔فواد نعمان عبد الغفار طبل، عمر 21 سال، رہائشی خان یونس۔عبد العال حمادہ عبد العال النجار، عمر 32 سال، رہائشی الشاط۔حمزہ عبد الوہاب علی کٹوع، عمر 27 سال۔کاظم سامح الحتو، عمر 35 سال شامل ہیں۔