صحابہ کرام کے باہمی تنازعات کے بارے میں ائمہ اہل سنت کے ارشادات

دوسری قسط:
(٤) امام ابن حجر المکی المتوفی 974ھ فرماتے ہیں کہ ”اہل السنہ والجماعہ کے عقائد میں سے یہ بات بھی ہے کہ حضرت معاویہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے مابین جو جنگ ہوئی وہ خلافت کا جھگڑا نہیں تھا۔ اس لیے کہ حضرت علی کی خلافت پر اجماع متحقق ہو چکا تھا۔ پس اس کے سوال پر فتنہ بپا نہیں ہوا، بلکہ اس لیے ہوا تھا کہ حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں نے حضرت علی سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ قاتلینِ عثمان کو ہمارے سپرد کر دیا جائے، کیونکہ حضرت معاویہ حضرت عثمان کے چچازاد بھائی تھے، لیکن حضرت علی یہ خیال کر کے قاتلوں کو ان کے سپرد کرنے سے رک گئے کہ ابھی خلافت کا فیصلہ تازہ تازہ ہوا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ باغی کوئی اور شورش بپا کر کے امارت کے مسئلہ کو نئے سرے سے اضطراب میں ڈال دیں۔ اور اس وقت خلافتِ اسلامی اتحاد کا نشان تھی اور ابھی تک پوری طرح مستحکم بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے حضرت علی نے اس سپردگی کو اس وقت تک مؤخر کرنا مناسب سمجھا جب تک ان کے قدم پوری طرح جم نہیں جاتے اور مسلمان ایک پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہو جاتے، تاکہ اس کے بعد وہ ایک ایک قاتل کو پکڑ کر ورثائے عثمان کے سپرد کر سکیں۔” (الصواعق المحرقہ)

یہ چند حوالے معتمد ائمہ اہل السنہ والجماعہ کی عبارت سے پیش کیے گئے ہیں جن پر غور کرنے سے مندرجہ ذیل تین امور روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتے ہیں:
مشاجرات کی بنیاد خلافت کا مسئلہ نہیں تھا اور نہ حضرت معاویہ اس وقت خلافت کے دعویدار تھے۔
مشاجرات کی بنیاد قاتلینِ عثمان کو حضرت عثمان کے وارثین کے سپرد کرنے کا سوال بھی نہیں تھا، بلکہ خلیفہ وقت حضرت علی قاتلینِ عثمان کو حضرت معاویہ کے مطالبہ کے مطابق ورثاء کے سپرد کرنے کو تیار تھے اور انہیں نفسِ سپردگی پر کسی قسم کا کوئی اعتراض نہیں تھا۔
اصل تنازع اس سپردگی میں تعجیل اور تاخیر کے سوال پر تھا۔ حضرت معاویہ تاخیر کو ناروا سمجھتے ہوئے تعجیل کا مطالبہ کر رہے تھے اور حضرت علی تعجیل کو خلافِ مصلحت خیال کر کے تاخیر کو اصوب (زیادہ صحیح) قرار دیتے تھے۔

جب ائمہ اہل السنہ والجماعہ کے ارشادات کی روشنی میں قاتلینِ عثمان کو ورثائے عثمان کے سپرد کرنے کا مسئلہ صحابہ کرام کے درمیان ایک متفق علیہ امر تھا اور حضرت علی خلیفہ وقت کو بھی سپردگی پر اعتراض نہیں تھا، بلکہ تنازع صرف اور صرف تعجیل اور تاخیر کے سوال پر تھا، تو بعض حضرات کی طرف سے حضرت معاویہ کے اس مطالبہ کو غیر آئینی جاہلیت کے قبائلی نظام سے اشبہ اور غیر اسلامی مطالبہ قرار دینے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ اس دعویٰ کو کہ حضرت معاویہ کو یہ مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا تھا کہ قاتلینِ عثمان کو حضرت عثمانکے ورثاء کے سپرد کر دیا جائے، اگر ان کے ہاں کوئی وقعت حاصل ہو تو ہو، بہرحال ائمہ اہل السنہ والجماعہ ان کے اس دعویٰ کو ماننے کے لیے قطعاً تیار نہیں کیونکہ جو مطالبہ تمام صحابہ کا متفق علیہ ہے، اور خلافتِ راشدہ کے منصب جلیلہ پر فائز سیدنا علی بھی نفسِ مطالبہ کو مانتے ہیں، تو اس مطالبہ کو غیر آئینی اور جاہلیت کے قبائلی نظام سے اشبہ قرار دینے کی بات قابلِ قبول نہیں ہے۔
الغرض مشاجراتِ صحابہ میں مابہ النزاع نہ تو خلافت کا مسئلہ تھا، جیسا کہ امام شعرانی کے بقول بعض لوگوں کو خواہ مخوا اس کا وہم ہوا ہے اور نہ حضرت عثمان کے قاتلوں کو ان کے ورثاء کے سپرد کرنے کا سوال تھا، کیونکہ یہ مطالبہ متفقہ علیہ تھا اور ائمہ عقائد کی تمام کتابوں میں مابہ النزاع ”تسلیم قتلہ عثمان الی الورثائ” کو نہیں بلکہ ”تاخیر تسلیم” اور ”استعجال تسلیم” کو قرار دیا گیا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ”نفسِ تسلیم” میں اختلاف نہیں تھا بلکہ تعجیل اور تاخیر میں اور سپردگی کے وقت میں اختلاف تھا۔
قصاص کا مسئلہ قرآن پاک کا منصوص مسئلہ ہے، بھلا حضرت علی رضی اللہ عنہ یا اور کوئی صحابی اس سے انکار کر سکتا تھا؟ اختلافِ رائے صرف یہ تھا کہ فی الحال ان قاتلوں کو حضرت عثمان کے وارثوں کے سپرد کر دیا جائے یا مصلحتاً کچھ عرصہ بعد جبکہ امرِ خلافت مضبوط ہو جائے۔

(٢) فریقین کی اصولی حیثیت
جب اتنی بات واضح ہوگئی کہ مابہ النزاع صرف قاتلینِ عثمان کی ورثاء کو سپردگی میں تعجیل و تاخیر کا سوال تھا، تو اب ہم نے ائمہ کرام کے ارشادات کی روشنی میں یہ دیکھنا ہے (کہ) ان دونوں فریقوں کی اصولی حیثیت کیا تھی؟
(١) امام اہل السنہ والجماعہ حضرت الامام ابو الحسن الاشعری فرماتے ہیں کہ:
”جو کچھ واقعات حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم کے درمیان واقع ہوئے ہیں ان کی بنیاد اجتہاد اور تاویل پر تھی، سب کے سب اہلِ اجتہاد تھے اور ان کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت اور شہادت کی خوشخبری دی تھی جو اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ سب کے سب اپنی اپنی جگہ اجتہاد میں حق پر تھے۔اور اسی طرح جو واقعات حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان واقع ہوئے ہیں وہ بھی اجتہاد اور تاویل پر مبنی ہیں اور سارے صحابہ کرام مامون ہیں جن کے دین پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام کی تعریف و ثنا کی ہے اور ہم کو ان کی توقیر و تعظیم کرنے کا، ان سے محبت رکھنے کا، اور ان کے بارے میں ہر اس بات سے براء ت ظاہر کرنے کا حکم دیا ہے جس سے ان میں سے کسی ایک کی تنقیص ہوتی ہو۔” (کتاب الابانہ للاشعری ص ٨٨) (جاری ہے)