دوسری قسط:
سربراہِ مملکت کا معیارِ زندگی
حاکم وقت کو اپنی رعیت کی نظر میں کیسا ہونا چاہیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے طرز زندگی سے خود بھی اِس کی مثال پیش کی اور آپ کے بعد اصحابِ خلافت راشدہ نے بھی اسی طرز کا معیارِ زندگی برقرار رکھا۔ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دور کے سب سے کمزور طبقے کے برابر اپنا معیارِ زندگی رکھا، اس پر علماء نے اور صوفیاء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں کہ حضور کا فقر اختیاری تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے گھر میں کئی کئی دن تک آگ نہیں جلتی تھی، ام المؤمنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خاندان نبوت میں ہم نے معمولی قسم کی کھجوریں تین دن مسلسل پیٹ بھر کر کھائی ہوں۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ چاہتے تو کیا زندگی کی سہولتیں حاصل نہ کر سکتے تھے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک پیغمبر ہوتے ہوئے، کمانڈر انچیف ہوتے ہوئے، چیف جسٹس ہوتے ہوئے، منتظم اعلیٰ ہوتے ہوئے اور حاکم وقت ہوتے ہوئے اپنا معیارِ زندگی معاشرے کے عام طبقے کے برابر رکھا۔ آپ خیال فرمائیے کہ اِس معاملے میں رسول اللہ کس قدر حساس تھے کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور کا ہم سب کے ساتھ ایسا معاملہ ہوتا تھا کہ کسی اور خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ نہ ہوتا ہوگا، حضور نے خود فرمایا کہ میں اپنے گھر والوں کے معاملے میں تم سب سے بہتر ہوں۔
حضورۖ کا معیارِ زندگی
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ازواج کے ساتھ زندگی میں ایک مرتبہ ناراضی کا مرحلہ آیا جس کی وجہ یہ تھی کہ غزوہ خیبر میں جب مالِ غنیمت ہاتھ آیا تو صحابہ کرام کے گھروں میں خوشحالی آئی اور معاشی صورت حال میں آسانی پیدا ہوئی جس کی بدولت سے معیارِ زندگی کچھ بہتر ہوا۔ ازواجِ مطہرات نے آپس میں مشورہ کیا کہ لوگوں کے گھروں میں تو سہولتیں آئی ہیں، ہمارے گھروں میں بھی آنی چاہئیں۔ آپس میں صلاح مشورہ کر کے طے کیا کہ جب حضور گھر تشریف لائیں گے تو آپس میں سب اکٹھی ہو کر حضور سے بات چیت کریں گی، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک زوجہ محترمہ کے گھر میں آئے تو پروگرام کے مطابق سب ازواج وہاں اکٹھی ہو گئیں، انہوں نے اپنا مدعا بیان کرنے کے لیے ام المؤمنین حضرت عائشہ کو اپنا ترجمان بنایا۔ حضرت عائشہ نے اپنی گفتگو اس انداز سے کی کہ یارسول اللہ! ہمارا زیادہ وقت پھٹے ہوئے کپڑے سینے سلانے میں گزر جاتا ہے، اگر تھوڑی سہولت ہمیں بھی حاصل ہو جائے تو اچھی زندگی گزار سکیں گی اور اطمینان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکیں گی، باقی لوگوں کے گھروں میں اگر سہولت آئی ہے تو ہمارے گھروں میں بھی آنی چاہیے۔ رسول اللہۖ اس پر ناراض ہوگئے کہ تم لوگوں نے یہ سوال کیوں کیا اور قرآن کریم نے اس پر وعید اتاری ”یا ایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیٰوة الدنیا وزینتھا فتعالین امتکن واسرحکن سراحًا جمیلًا” (سورة الاحزاب 82) کہ اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تمہیں دنیا کی زندگی اور اس کی آسائش منظور ہے تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا کر اچھی طرح سے رخصت کر دوں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے پیغمبر اِن سے کہہ دیجیے کہ اگر دنیا چاہیے تو اِس گھر میں نہیں ملے گی یہاں تو اسی طرح گزارا کرنا ہوگا۔ ایک ریاست کے سربراہ کے طور پر یہ جناب نبی کریم کا ایک اہم پہلو تھا۔ اور پھر خیال فرمائیے کہ اس کی پیروی آپ کے خلفاء میں کیسے ہوئی، آنحضرت کے وصال کے بعد آپ کے جانشینوں نے اِس طرزِ عمل کی پیروی کیسے کی؟
حضرت ابوبکر صدیق کا معیارِ زندگی
حضرت صدیق اکبر اپنے ذریعہ معاش کے لیے مدینہ کی نواحی بستیوں میں کپڑے بیچا کرتے تھے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق اسلام کے خلیفہ اول منتخب ہوئے، منصبِ خلافت سنبھالنے کے بعد دوسرے دن کپڑوں کی گٹھڑی اٹھائے بازار میں جا رہے تھے کہ حضرت عمر فاروق سے ملاقات ہو گئی۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ یا خلیفة رسول اللہ! کہاں جا رہے ہیں؟ اس زمانے میں امیر المؤمنین کی اصطلاح استعمال نہیں ہوتی تھی، یہ اصطلاح حضرت عمر فاروق کے زمانے میں آئی۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا کہ کپڑے بیچنے جا رہا ہوں، حضرت عمر نے کہا کہ آپ تو خلیفة المسلمین ہیں، اگر آپ کپڑے بیچنے نکل پڑیں گے تو مسلمانوں کے معاملات کون نمٹائے گا؟ آپ کی عدم موجودی میں کسی ملک کا وفد آگیا کوئی مقدمہ آگیا یا کوئی ریاستی مسئلہ درپیش ہوا تو اسے کون نمٹائے گا؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اگر میں مسجد میں بیٹھ گیا تو بچے کہاں سے کھائیں گے، میرا تو یہ ذریعہ معاش ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ جناب آپ گھر تشریف لے جائیے، میں اصحابِ شوریٰ کو اکٹھا کر کے اِس مسئلے کا حل تلاش کرتا ہوں۔ حضرت عمر اصحابِ شوریٰ کے گھروں میں گئے اور سب کو مسجدِ نبوی میں اکٹھا کیا۔ خلافت راشدہ کے قیام کے بعد سب سے پہلا اجلاس اِسی مسئلے پر ہوا۔ حضرت عمر فاروق نے مسئلہ پیش کیا کہ میں نے راستے میں خلیفة المسلمین کو دیکھا کہ گٹھڑی اٹھائے کپڑا بیچنے جا رہے تھے، یہ بال بچے دار ہیں، اگر یہ کام نہیں کریں گے تو بچے کہاں سے کھائیں گے۔ اس لیے ہمیں بیت المال سے خلیفة المسلمین کے لیے تنخواہ مقرر کرنی چاہیے، چنانچہ سب اس بات پر متفق ہوگئے کہ خلیفة المسلمین کے لیے بیت المال سے تنخواہ مقرر ہونی چاہیے، پھر اس بات پر بحث ہوئی کہ خلیفة المسلین کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ اس وقت کے امیر المؤمنین بیک وقت حاکم وقت بھی تھے، چیف جسٹس بھی تھے اور افواج کے کمانڈر بھی تھے، تمام بڑے بڑے عہدے ان کے پاس تھے۔ تنخواہ کے متعلق مختلف آرا سامنے آئیں لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی رائے پر فیصلہ ہوا۔ حضرت علی نے فرمایا کہ مدینہ منورہ کے ایک عام آدمی کا تخمینہ لگایا جائے کہ اس کا خرچہ کتنا ہے، اس کے مطابق خلیفة المسلمین کی تنخواہ مقرر کر دی جائے۔ یہ وہی اصول تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قائم کیا تھا کہ حاکم وقت کا معیارِ زندگی عام آدمی کے برابر ہونا چاہیے۔
حضرت ابوبکر کی تنخواہ کتنی مقرر ہوئی؟ اس کا اندازہ اس واقعے سے لگا لیجیے کہ تاریخ میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر کی خلافت کے آخری عرصے میں عید کا وقت قریب آرہا تھا۔ زوجہ محترمہ نے عرض کیا کہ یا خلیفة المسلمین! عید کا دن قریب آرہا ہے، عید کے دن بچوں کے لیے کچھ میٹھا پکانے کا بندوبست کرنا چاہیے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا کہ میرے پاس تو اِس کی گنجائش نہیں ہے، مجھے تو بیت المال سے جو راشن ملتا ہے، میں اس سے زیادہ نہیں لے سکتا اور میرا اپنا کوئی کاروبار نہیں ہے، اس لیے یہ خیال رہنے ہی دو۔ اہلیہ نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں اپنے طور پر انتظام کروں؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا، ٹھیک ہے اگر کر سکتی ہو تو کر لو، چنانچہ چند دنوں کے بعد عید کا دن آیا اور حضرت ابوبکر تیاری کر کے عیدگاہ کی طرف جانے لگے تو دیکھا کہ اہلیہ نے میٹھا پکایا ہوا تھا۔ حضرت صدیق اکبر نے پوچھا یہ بندوبست کہاں سے کیا ہے، ہمارے پاس تو اس کی گنجائش نہیں تھی۔ اہلیہ نے جواب دیا کہ ہمارے گھر میں بیت المال سے راشن کا جو آٹا روزانہ آتا ہے، میں نے اس میں سے ایک مٹھی آٹا الگ کرنا شروع کر دیا تھا۔ چند دنوں میں اتنا آٹا ہوگیا کہ اس میں سے آدھا آٹا بازار میں بیچ کر میں نے گڑ اور تیل منگوایا، باقی آدھا آٹا اس میں گوندھ کر حلوہ بنا لیا ہے۔ حضرت ابوبکر نے پوچھا، ابھی تک کسی نے کھایا تو نہیں؟ جواب ملا نہیں، ابھی کسی نے نہیں کھایا۔ فرمایا دیگچی لاؤ، آپ نے دیگچی منگوا کر اٹھائی اور چل دیے۔ حضرت ابو عبیدہ عامر بن الجراح جو بیت المال کے انچارج تھے، ان سے جا کر فرمایا کہ ابو عبیدہ ! یہ حلوہ ابوبکر کے گھر والوں کا حق نہیں ہے، بلکہ یہ مدینہ منورہ کے یتیموں اور بیواؤں کا حق ہے۔ اور سنو! آج کے بعد میرے گھر میں ایک مٹھی آٹا کم بھیجا کرنا کیونکہ ہمارا گزارا ایک مٹھی کم آٹے سے بھی ہو جاتا ہے۔ دنیا کے کس خطے کا کس مذہب کا کس نظام کا کونسا حکمران ہے جو اس کی مثال پیش کر سکے؟ رسول اللہ اور ان کے خلفاء نے حکمرانی کا یہ معیار بتایا کہ حکمرانی برتری اور فخر کا نہیں بلکہ فریضے اور ذمہ داری کا نام ہے۔ (جاری ہے)

