تہران/نیویارک:ایران میں کرنسی کی قدر میں بے تحاشا کمی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہوگئے، ملک گیر مظاہروں کے دوران ہلاکتوں پر اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اظہارِ رائے اور پرامن احتجاج کے بنیادی حقوق کا احترام کریں۔
عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق تہران سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، احتجاج کا یہ سلسلہ دکانداروں کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جو ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قیمت میں بے تحاشا کمی پر برہم تھے۔
مختلف مقامات پر ایرانی فورس اور مظاہرین میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک7 مظاہرین اور ایک پولیس اہل کار کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔مظاہرین کے پتھرائو کے نتیجے میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
مظاہرے تہران اور فارس کے علاوہ مرو دشت اور لردگان میں بھی ہوئے ہیں،کئی صوبوں میں اسکول، یونیورسٹیاں اور سرکاری ادارے بند کیے جاچکے ہیں ۔سب سے شدید جھڑپیں صوبہ لورستان کے شہر ازنا میں ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، یہ علاقہ دارالحکومت تہران سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔
عالمی نشریاتی اداروں کے مطابق حالیہ مظاہرے 2022ء میں مہاسا امینی کی مبینہ دورانِ حراست موت کے بعد ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔دوسری جانب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمائندہ مائی ساتو نے ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران 8 مظاہرین کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کی ہے۔
بی بی سی کے مطابق اقوام متحدہ کی نمائندہ مائی ساتو کا کہنا ہے کہ ایران میں ملک گیر مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ان کے مطابق موصول ہونے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔
مائی ساتو نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی اور پرامن اجتماع کے حق کا احترام کریں اور مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔اپنے بیان میں خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران دشمن کیسامنے نہیں جھکے گا، ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے کہاکہ دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے۔ان کا کہنا تھاکہ جب دکاندار اور تاجر ملک کی مالیاتی صورتحال، کرنسی کی قدر میں کمی، ملکی کرنسی اور غیر ملکی کرنسی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو دیکھتا ہے کہ جس کی وجہ سے کاروباری ماحول غیر مستحکم ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے،”میں کاروبار نہیں کر سکتا”وہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔
خامنہ ای نے مزید کہا کہ ملک کے حکام اس کو قبول کرتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ صدر اور دیگر اعلیٰ حکام اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایک مشکل کام ہے اور اس میں دشمن بھی ملوث ہے، غیر ملکی کرنسی کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ اور عدم استحکام فطری نہیں بلکہ اس میں دشمن ملوث ہے اور یقیناً اسے روکنا چاہیے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا پیغام غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے۔
ادھراقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو غیر قانونی اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل سے اِن کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق امیر سعید ایراوانی کی جانب سے اقوامِ متحدہ کو گزشتہ روز لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ایران میں جاری احتجاج کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت یا بدامنی کو ہوا دینا ایران کی خودمختاری کے خلاف ہے۔ایراوانی نے اپنے خط میں واضح کیاکہ ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا مناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔

