وینزویلا پر امریکی حملہ،صدر اہلیہ سمیت گرفتار،نیویارک منتقل،مقدمہ چلانے کا فیصلہ

واشنگٹن /کراکس/ماسکو/تہران/بیجنگ:امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت سمیت مختلف مقامات پر حملے کردیے،دارالحکومت کراکس دھماکوں کی گونج سے لرز اٹھااور شہر کے مختلف علاقوں میں طیاروں کی نچلی پروازیں بھی دیکھی گئیںجس کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کی قیادت کے خلاف کامیاب آپریشن کردیا ہے اور وینزویلا کے صدر اور اہلیہ کو گرفتارکرلیا گیا ہے جبکہ وینزویلا حکومت کا کہناہے کہ ان امریکی حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا ہے۔

امریکی میڈیارپورٹس کے مطا بق امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت سمیت مختلف مقامات پر حملہ کردیا۔امریکی میڈیا کے مطابق وینزویلا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کا حکم دیا اور وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں کم ازکم 7دھماکے ہوئے ۔

دھماکوں کی متعدد آوازیں سنی گئیں جبکہ چند مقامات پر آگ بھڑکتی دکھائی دی ۔امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکا وینزویلاکے خلاف فوجی حملے کررہا ہے۔وینزویلا حکومت نے تصدیق کی کہ حملے کاکراکس، میرانڈا، آراگوا اورلاگویرا ریاستوں میں ہوئے ہیں، ان امریکی حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنیات پر قبضہ کرناہے۔

وینزویلا حکومت نے حملوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ہمارے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا، ہم امریکا کی فوجی جارحیت کو مستردکرتے ہیں۔وینزویلا کے صدرنے حملوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

دوسری طرف روسی میڈیا یہ دعوی ٰکررہا ہے کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈکوارٹرزکو نشانہ بنایاگیا ہے اور وینزویلا کے صدر صدارتی محل چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔روسی میڈیا کا کہناہے کہ وینزویلا کے کئی جزائر میں امریکی میرینز کے زمینی آپریشن شروع کرنے کی غیرمصدقہ اطلاعات آئی ہیں۔

اسی حوالے سے کولمبیا کے صدر نے کہا ہے کہ کراکس پرمیزائل داغے جارہے ہیں اور کراکس حملوں پریواین سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔ادھر امریکی حکام نے سی بی ایس نیوز کو بتایاکہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوج کے خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے اپنی حراست میں لیا ہے۔

ڈیلٹا فورس امریکی فوج کا اعلیٰ ترین انسدادِ دہشت گردی یونٹ سمجھا جاتا ہے جو انتہائی خفیہ اور حساس کارروائیوں میں مہارت رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا طویل عرصے سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی سطح پر منشیات اسمگلنگ کرنے والی مبینہ تنظیم کی قیادت کر رہے ہیں تاہم صدر مادورو نے ہمیشہ اِن الزامات کی تردید کی ہے۔

اس سے قبل امریکا نے صدر مادورو کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر 50 ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا۔دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑنے کی ویڈیو ٹی وی شو کی طرح لائیو دیکھی۔

امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھاکہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑنے کی ویڈیو فوجی جنرلز کے ساتھ فلوریڈا میں دیکھی۔انہوں نے کہا کہ مادورو کو لے کر امریکی بحری جہاز نیویارک آرہا ہے، ان پر مین ہٹن کی عدالت میں منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کا مقدمہ چلے گا۔

ان کا کہنا تھاکہ ان کے خلاف آپریشن کی خفیہ تیاری دسمبر کے اوائل سے کی تھی تاہم وینزویلا پر کس کی حکمرانی ہوگی یہ ابھی طے ہونا ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھاکہ مادورو کے خلاف آپریشن میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں کچھ امریکی زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر ایک رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو امریکی فورسز نے رات کے وقت ان کے بیڈروم سے اْس وقت گرفتار کیا جب وہ گہری نیند سو رہے تھے۔اس بات کا دعویٰ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دو معتبر اور مستند ذرائع کے حوالے سے کیا جو اس واقعے سے واقف ہیں۔

ان ذرائع نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر سی این این کو بتایا کہ امریکی فوجی کمرے میں داخل ہوئے تھے تو وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ سو رہے تھے۔یہ گرفتاری امریکی فوج کی خصوصی یونٹ ڈیلٹا فورس نے انجام دی اور امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کے ایجنٹس بھی اس خصوصی آپریشن کے دوران موجود تھے اور منصوبہ بنایا جا رہا ہے کہ مادورو کو نیویارک منتقل کیا جائے تاکہ وہ مین ہٹن فیڈرل کورٹ میں مقدمے کا سامنا کریں۔

ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے طویل عرصے تک مادورو کے خلاف قانونی اور خفیہ تحقیقات کیں تاکہ اس وقت کی کارروائی کو درست قانونی بنیاد فراہم کیا جا سکے۔ادھر امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن نے کئی سالوں سے مادورو اور وینزویلا کے بعض اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف فرد جرم تیار کر رکھی ہے۔

امریکی قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق یہ تحقیقات اور شواہد مبینہ الزامات کی بنیاد بنیں گے جو جلد عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔قبل ازیں امریکی اٹارنی جنرل پام بانڈی نے کہا تھا کہ صدر مادورو جلد امریکی عدالتوں میں سخت جرح کا سامنا کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ صدر مادورو اور ان کے قریبی ساتھیوں کے خلاف الزامات میں منشیات کی اسمگلنگ، نارکو ٹیررازم اور مشین گنز و تباہ کن آلات کے قبضے جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔

کولمبیا میں امریکی سفارتخانے نے وینزویلا میں امریکی شہریوں کے لیے وارننگ جاری کر دی ہے، ہدایت کی گئی کہ وینزویلا اور اس کے گردونواح میں دھماکوں کی اطلاعات کے پیش نظر امریکی شہری وینزویلا کا سفر نہ کریں۔

امریکی سفارتخانے نے کہا کہ امریکی شہری جو وینزویلا میں موجود ہیں وہ فوری محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وینزویلا کی خودمختاری ،علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں، امریکی حملہ جارحیت کی واضح مثال ہے، عالمی برادری کوامریکی حملے کی مذمت کرنی چاہئے۔

ایران کی جانب سے کہا گیا کہ وینزویلا اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اورحق خودارادیت کے دفاع کا حق رکھتا ہے۔روسی فیڈریشن کونسل کی جانب سے کہا گیاکہ یقین ہے عالمی برادری اس حملے کی مذمت کرے گی،وینزویلاپرحملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، وینزویلا پرامریکی حملے کاکوئی ٹھوس جوازنہیں۔

وینزویلا کے پڑوسی ملک کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے امریکی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور بتایا کہ امریکی حملے میں لا کارلوٹا ایئر بیس کو ناکارہ بنا کر بمباری کی گئی۔انہوں نے مزید لکھا کہ فویئرتے تیونا، جو وینزویلا کا مرکزی فوجی کمپلیکس ہے، پر بمباری کی گئی، ایل ہاتییو میں واقع ایک ہوائی اڈے پر حملہ کیا گیا، ایف۔16 بیس نمبر 3 (بارکیسیمیٹو) پر بمباری کی گئی۔

کراکس کے قریب چارالاوی میں واقع ایک نجی ہوائی اڈے کو بمباری کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔کولمبین صدر نے لکھا کہ میر افلورس، جو کراکس میں صدارتی محل ہے، میں دفاعی منصوبہ فعال کر دیا گیا، کراکس کے بڑے حصے، جن میں سانتا مونیکا، فویئرتے تیونا، لاس ٹیکیس، 23 دے اینیرو اور دارالحکومت کے جنوبی علاقے شامل ہیں، بجلی سے محروم ہو گئے۔

کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے سوشل میڈیا پر ایک سخت بیان جاری کیا کہ واشنگٹن نے وینزویلا کے خلاف مجرمانہ حملہ کیا ہے، انہوں نے امریکی حملے پر فوری بین الاقوامی ردِعمل کا مطالبہ کیا ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں دیاز کانیل نے کہا کہ کیوبا کا کا خطہ بے دردی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

امریکی اقدام ریاستی دہشت گردی ہے جو نہ صرف وینزویلا کے عوام بلکہ وسیع پیمانے پر ہمارے براعظم امریکا کے خلاف ہے۔انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر انقلابی نعرہ لگایا،وطن یا موت، ہم کامیاب ہوں گے۔

چین نے وینز ویلا میں امریکی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکا نے خودمختار ملک وینزویلا کے خلاف طاقت کا استعمال کیا، امریکی کارروائی بین الاقوامی قانون اور وینزویلا کی آزادی پر حملہ ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی کارروائی خطے میں امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، امریکا بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کرے، امریکا وینزویلا کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرے۔

فرانس نے وینزویلا میں امریکی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے، صدرمادورو کو ہٹانا اور وینزویلا کی آزادی کو ٹھیس پہنچانا غلط ہے، وینزویلا کا مستقبل صرف وینزویلا کے عوام خود طے کر سکتے ہیں۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کے معاملے پر تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے وینزویلا میں کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ اور اتحادی ممالک سے وینزویلا واقعے پر بات کرنا چاہتے ہیں، وینزویلا میں امریکی کارروائی کے تمام حقائق جاننے کی ضرورت ہے۔

برطانیہ کسی بھی طرح اس کارروائی میں شامل نہیں تھا۔ہسپانوی وزارت خارجہ نے رد عمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ وینزریلا کے معاملے پر امریکا کو کشیدگی کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، امریکا کو بین الاقوامی قانون کا احترام کرنا چاہیے، وینزویلا کے مسئلے کے پرامن حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کرتے ہیں۔

اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کا کہناتھا کہ وینزویلا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، وینزیلا میں موجود اطالوی باشندوں کے بارے میں معلومات حاصل کررہے ہیں، ایک لاکھ 60ہزاراطالوی شہری وینزویلا میں مقیم ہیں۔

عالمی خبررساں ادارے کے مطابق وینزویلا پر امریکی فوجی حملے سے دو روز قبل ہی صدر نکولس مادورو نے ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کے لئے رضامندی کا اشارہ بھی دیا تھا۔سرکاری اور سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے جمعرات کے روز ہی کہا تھا کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون کے لیے امریکا سے معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا تھا کہ وینزویلا خطے میں منشیات کے نیٹ ورکس کے خلاف کاررروائی میں امریکا سمیت تمام ممالک کے ساتھ تعاون پر غور کر سکتا ہے۔وینزویلا کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر امریکا واقعی سنجیدہ ہے اور باہمی احترام پر مبنی رویہ اختیار کرے تو مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور وینزویلا کے درمیان تعلقات ایک بار پھر شدید تنا ئو کا شکار ہو گئے ۔ وینزویلا کی جانب سے متعدد امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیا گیا ۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ کم از کم پانچ امریکی شہری اس وقت وینزویلا کی تحویل میں ہیں جس کے بعد واشنگٹن اورکراکس کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت اور حالات سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ امریکی حکام نے تصدیق کی کہ وہ گرفتار امریکی شہریوں کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ انہیں کن الزامات کے تحت اور کن حالات میں حراست میں لیا گیا۔

امریکی موقف کے مطابق وینزویلا ماضی میں بھی امریکی شہریوں کو سیاسی دبائو کے لیے استعمال کرتا رہا ہے اور حالیہ گرفتاریاں بھی اسی حکمتِ عملی کا تسلسل ہو سکتی ہیں۔امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ وینزویلا، امریکا کے خلاف دبائو بڑھانے کے لیے امریکی شہریوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر نے کہا کہ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو امریکی خصوصی فورسز نے گرفتار کیا اور انھیں بالآخر اپنے جرائم پر عدالت کا سامنا کرنا ہوگا۔

اسی طرح ریپبلکن امریکی سینیٹر مائیک لی کے بقول امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انھیں بتایا کہ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کو امریکی فورسز نے گرفتار کیا اور اب فوجداری الزامات کے تحت مقدمے کے لیے امریکا منتقل کیا جا رہا ہے۔

امریکی سینیٹر مائیک لی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مزید لکھا کہ وزیر خارجہ روبیو نے مزید بتایا کہ مادورو اب امریکی تحویل میں ہیں اور انھیں امریکا میں ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگا۔مائیک لی کے بقول مارکو روبیو نے یہ بھی کہا کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا کو فی الحال وینزویلا میں مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں رہی ہے۔