نئی دہلی/دبئی:بھارت کے گودی میڈیا نے ایک مرتبہ پھر بھارت کی نااہلی چھپانے کیلئے تیجس طیارہ حادثہ امریکی انجن پر ڈال دیا۔جنرل (ر) بخشی اور ارنب گوسوامی طیارہ حادثے کی ذمہ داری امریکی انجن پر ڈال کر بھارت کی دفاعی کمزوری چھپانے کی کوشش میں لگے رہے۔
ارنب گوسوامی نے کہا کہ امریکا کی جانب سے GE 404 انجن کی تاخیر سے فراہمی نے بھی بھارت کی دفاعی تیاری میں خطرناک خلا پیدا کر دیا تیجس امریکی جنرل الیکٹرک کے بنائے ہوئے انجن سے چلتا ہے اور جنرل الیکٹرک بھارت کا کبھی دوست نہیں رہا۔
ارنب گوسوامی نے کہا کہ امریکی حکومت نے تیجس کیلئے اگلی نسل کے انجنوں کی ڈلیوری سست کرنے کی کوشش کی، امریکا ایل سی اے پروگرام اور تیجس کو ایک خطرہ سمجھتا ہے۔جنرل بخشی نے کہا کہ آپ نہیں جانتے کہ کب سندور 2.0 دوبارہ بھڑک اٹھے، جی ای 404 انجن ہمیں دو سال پہلے مل جانا چاہیے تھا، ہم نے ایک ارب ڈالر نقد ادا کیے ہیں، ابھی تک ہمیں صرف دو انجن ملے ہیں۔
بھارتی سرکار اور اس کا گودی میڈیا اپنی ان حرکات کی وجہ سے نا صرف جگ ہسائی کا سبب بنتے ہیں بلکہ بھارتی عوام کو بھی اصلی مسائل کی طرف سے ہٹاتے ہیں۔
دوسری جانب دبئی ایئر شو میں گزشتہ روز بھارتی طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔اماراتی ایوی ایشن حکام اور عسکری ماہرین مشترکہ تحقیقات کر رہے ہیں۔ بھارتی پائلٹ کی غلطی یا طیارے کی مشینی خرابی؟ اس کا فیصلہ تحقیقات کے بعد ہوگا۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق حکام نے حادثے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ فلائنگ رولز کی خلاف ورزی کے امکان کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔دبئی ایئر شو کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ایئر شو میں فضائی کرتب کی 300 فٹ بلندی لازمی تھی۔
فضائی کرتب کے دوران بھارتی طیارے کی بلندی سے متعلق تفتیش جاری ہے، اس حوالے سے مربوط تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے۔بھارتی طیارے کی غیر منظور شدہ فضائی تکنیک کا شبہ بھی زیر تفتیش ہے۔
بھارتی جنگی طیارے میں ممکنہ تکنیکی خرابی کی بھی جامع تحقیقات کی جا رہی ہیں،بھارتی طیارے کا کریش، فضائی مظاہرے کے لیے مختص ‘ڈسپلے باکس’ میں ہوا۔ دبئی ایئر شو کا ڈسپلے باکس شائقین سے کم از کم 2 کلو میٹر سے زیادہ دور ہوتا ہے۔
دبئی ایئر شو کی فلائنگ کنٹرول کمیٹی بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔ فلائنگ کنٹرول کمیٹی کی منظور شدہ پروٹوکولز اور ویڈیوز کا بغور جائزہ لیا جائے گا۔
ادھر عینی شاہدین نے بھی حادثے سے متعلق اپنے مشاہدات بتادیے۔ حادثے کے عینی شاہد میجر منوج کمار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ یہ طیارہ نیگیٹو جی کرتب دکھا رہا تھا۔ وہ (پائلٹ) پہلے ہی بہت نیچے پرواز کر رہے تھے۔ پھر وہ کچھ دیر کے لیے سنھبلے اور سیدھا زمین سے جا ٹکرائے۔
انڈین فوج سے وابستہ میجر منوج کمار نے کہا کہ پھر بالکل خاموشی تھی اور میرا خیال ہے کہ لوگوں کو محسوس ہو گیا تھا کہ کیا ہوا ہے۔آگ کا بڑا گولہ تھا اور یہ بہت ہی حیران کن ۔ میں نے زندگی میں ایسے جذبات کبھی محسوس نہیں کیے۔
جگدیش احمد بھی اہلخانہ کے ساتھ ایئر شو دیکھنے ایئر پورٹ پر موجود تھے۔جگدیش وریا نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اس حہاز نے 8 یا نو منٹ سے زیادہ پرواز نہیں کی اور صرف دو سے تین چکر لگائے تھے کہ یہ زمین کی جانب آنے لگا۔
انھوں نے بتایا کہ جب جہاز زمین سے ٹکرایا تو تین مختلف طرح کے آگ کے گولے بنے۔ تمام تماشائی کھڑے ہو گئے اور پھر تین سکینڈ کے اند اندر کریشن کی جگہ پر ایمرجنسی کی گاڑیاں پہنچ گئیں۔

