اسلام آباد/مظفرآباد:آزادکشمیر کے وزیراعظم چودھری انوار الحق کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے، وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اس حوالے سے مشاورت مکمل کرلی گئی۔
ذرائع نے کہا کہ چودھری انوار الحق نے حالیہ آزاد کشمیر کے حالات میں سستی روی کا مظاہرہ کیا، وزیراعظم آزاد کشمیر حالات کو معمول پر لانے میں ناکام رہے۔ وفاقی جماعتوں کی جانب سے چودھری انوار الحق کے طرزِ حکمرانی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ۔ آزاد کشمیر کے حالیہ بحران میں بھی انوار الحق کا کردار غیر تسلی بخش قرار دے دیا گیا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کی تبدیلی کیلئے مختلف آپشنز زیرغور لانے کا فیصلہ کیا گیا ، وزیراعظم آزاد کشمیر کو “باعزت استعفائ” دینے کا آپشن بھی دیا جائے گا، انوار الحق کے انکار کی صورت میں تحریکِ عدم اعتماد یا آئینی اقدام کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی سطح پر انوار الحق کی تبدیلی پر صلاح مشورے کا عمل تیز کر دیا گیا، حتمی فیصلہ ہونے پر نئے قائد ایوان کیلئے متبادل ناموں پر مشاورت ہوگی۔
وفاقی قیادت کا مؤقف ہے کہ عوامی اعتماد اور انتظامی ناکامی ایک ساتھ نہیں چل سکتے، آزاد کشمیر میں حالیہ بحرن کے بعد وفاقی جماعتیں ”ری سیٹ کی حامی ہیں۔

